قصص الانبیا ء

اللہ تعالی کا صفاتی نام الباقی کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

اللہ

الباقی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الباقی کے معنی ہیں ہمیشہ باقی رہنے والا۔ارشاد باری تعالی ہے کہ ہر چیز فانی جبکہ اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ہمیشہ باقی رہنے والا۔ باقی سب مخلوق کو فنا ہونا ہے۔حضرت خواجہ باقی بالله رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ حضرت فنا کیا ہے بقا کیا ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کل آنا میں کل بتاؤں گا کہ فنا کیا ہے اور بقا کیا ہے چنانچہ وہ شخص چلا گیا اور دوسرے دن جب حضرت باقی باللہ کی جگہ پر آئے تو دیکها لوگوں کا مجمع لگا ہوا ہے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو جواب ملا کہ خواجہ باقی باللہ وصال فرما گئے ہیں پهر پوچھا کہ انتظار کس لئے کر رہے پیں جواب ملا کہ باقی بااللہ رحمتہ اللہ علیہ نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد مجهے غسل دے کر میت کو رکھ دینا ایک نقاب پوش گھوڑے پہ آئے گا وہ میرا جنازہ پڑھائیں گے چنانچہ وصیت پہ عمل ہو رہا ہےوہ شخص بڑا پریشان ہوا کہ کل کا کہا اور میں آج آیا تو حضرت وصال فرما گئے ہیں پهر خیال آیا کہ جو جنازہ پڑها نے آئیں گے وہ ضرور بہت بڑے شخصیت ہوں گے اس سے پوچھوں گا۔

کافی دیر بعد ایک نقاب پوش گهڑ سوار آئے اس نے صفیں بنوا کر جنازہ پڑھایااور جب وہ جانے لگے تو اس آدمی نے روک لیا اور کہا کہ حضرت باقی باللہ سے میں نے اک سوال پوچھا کہ فنا کیا ہے اور بقا کیا ہے حضرت باقی باللہ نے جواب دیا کہ کل آنا میں آپ کو جواب دوں گا لیکن جب آج آیا تو حضرت باقی باللہ جواب دینے سے پہلے وصال کر گئے اس لئے آپ رہنمائی فرمائیں اور اس سوال کا جواب دیں گهڑ سوار نقاب پوش نے یہ کہہ کر نقاب ہٹا دیا کہ باقی باللہ کہے اور جواب نہ دے..سوال کرنے والے نے دیکها کہ نقاب پوش وہی باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ ہی تهے تب باقی بالله رحمة الله عليه نے جواب دیا کہ یہ بقا ہے اور یہ (جنازہ) فنا ہے…..کائنات کی مشت خاک وہ مٹی ہے جو ہر کسی کو اسکی بساط کے مطابق ملتی ہے. کوئی خاک میں مل جاتا ہے اور کوئی اسی سے کائنات کا راز دریافت کر لیتا ہے. کوزے سے کسی نے پوچھا تو بھر کیوں جاتا ہے، کہنے لگا جب بساط سے زیادہ چیز ڈالی جائے تو اندر نہیں سماتی باہر ابل جاتی ہے، خالی مٹی بڑی زرخیز ہوتی ہے، اس میں نم جذب کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے، وہ اپنا حصہ لے کر جذب کرتی ہے، اور خود بھرنے سے پہلے دوسرے خالی کوزوں کو بھر دیتی ہے. انسان بھی رب سے محبت لیتا ہے لے کر انسانوں میں بانٹ دیتا ہے، اور خود اسکے احساس میں شامل حال رہ کر ماضی و مستقبل کے فاصلوں سے آزاد ہو جاتا ہے. وہ آتا ہے، ہر جا سے سامنے آتا ہے، وہ جب تمہارے لئے معیار تقویٰ رکھ دیتا ہے تو پھر یہ جانکاری بھی تمہارے دل میں ڈالتا ہے کہ تم کہاں ہو، تم اسکے سامنے روئے، اپنے لئے، اپنی مشکلات کے لئے، تو خواہ کچھ بھی ہوا روئے تو انسان کے لئے ہی ہو،

اسی زندگی کے لئے آنسو بہائے ، یہیں کے ہو رہے، تم اسکے سامنے بیٹھ کر اسکی محبت میں روتے رہے، اس لئے کہ وہ تمہارا رب ہے، کائنات کا وارث ہے، تمہاری کیا مجال کہ اسکے سامنے اسکی اجازت کے بنا بیٹھ بھی سکو اور اپنے آنسوؤں کو اسکی جانب منسوب کر سکو، لیکن اسے ہر پل ساتھ محسوس کرنے کے بعد، اسکے لئے جینے، اسکے لئے آنکھ بند کرنے اور کھول لینے کے بعد بھی لگا کہ تم نے اسے پا لیا ہے…تم راہ دیکھتے رہے، اپنی جذب و مستی کے منظر میں گھومتے رہے، گھنگھور گھٹاؤں اور فضاؤں کے راز تک جاننے کے درپے رہے، تو کیا تمہیں لگا کہ تم نے اس ہستی کا راز پا لیا جو ستار العیوب ہے. جو سب کچھ جان کر خاموش رہتا ہے، تو گھٹن میں نہ رہو، جان لو کہ جو راتوں کو اٹھ کر سجدوں میں روتے رہے، اس سے بخشش مانگتے رہے، وہ بازی لے گئے. غور کرو کہ تمہاری محبت کا معیار کیا رہا، وہ خود ہی تو کہتا ہے ” الله کی قدر نہ جانی جیسے چاہیے تھی” کیا تم نے ایسی الله کی قدر کی، کیا تم نے اپنی سب محبتوں سے بڑھ کر اس سے محبت کی،یہ سوال تمہارے اندر کو جھنجھوڑتا ہے، تو سوچو یہ جو خلش تمہارے اندر پلتی ہے، یہ بے قراری جو تمہیں اندر سے کھائے جاتی ہے، کہ تو نے اسکی محبت کا حق ادا نہ کیا، تمہاری آنکھوں کو نم نہیں کرتی؟ تمہیں تلاش پر مجبور نہیں کرتی؟ پس یہ احساس کہ تم محبت کا حق ادا نہ کر سکے ” محبت ہے”. خالق کائنات سے محبت ہے، محبت میں انسان محبوب کا ہی تو ہو کر رہنا چاہتا ہے، ایسی محبت جسے الله اپنے لئے پسند کرتا ہے، وہ جانتا ہے تم اسی کے ہو، وہ چاہتا ہے تمہیں اپنی محبت میں مزید مظبوط کر دے، اسے تمہاری چاہت، تمہارا احساس، تمہارا رونا، تمہاری محبت کے اشک ہی تو پسند ہیں. تو کیا کسی کو آج تک معلوم ہوا کہ اسے ان اشکوں کا جواب ملا ہے، ہاں اسے جواب ملتا ہے، جو الله کو چاہے، پھر الله کو چاہے، اور اسکی ہر بات الله ہی سے منسوب ہو جائے.

جو ذکر کرتا ہے وہ اسی ذکر میں تو رنگا جاتا ہے، اس پر وہ رنگ چڑھتا ہے جو دنیا نہیں دیکھتی، یہ تو بہت ہی کم واقف ہوتی ہے، بلکہ اسے وہ ہستی دیکھتی ہے جس نے وہ رنگ عطا کیا ہو. الله سے محبت کا تقاضہ فنا ہو جانا ہے، ایسی فنا کہ انسان کا جسم تو باقی رہ جائے لیکن اسکی روح اسی کی ہو کر رہے جو اسکا وارث ہے، یہ فنا ذاتی فنا نہیں ، جذبی فنا نہیں، اصلاحی فنا نہیں ، محبت کی فنا ہے،کہ ہاتھ تو اٹھے ہوں ، دل درد سے بھاری ہو، لذت انجام کا پہرا دل پر موجود ہو ، وہ غنی پاس ہو، روح ایک مخصوص طواف میں ہو ، ذکر جاری ہو، سماعتوں اور بصیرتوں یر اسکا پہرا ہو ، وجود ریزہ ریزہ ہو، مٹی کا محل منہدم ہونے کو ہو، ندا یہ ہو کہ میں، نہیں بس “تو” ہے، تو ہی ہے جو چار سو ہے، میری ہستی فنا، جسے کل فنا ہونا ہو اسکا وجود آج بھی کہاں ہو گا، وہ دنیا کی نظر میں موجود تو ہے، لیکن اُس ہستی کے سامنے ذرے کی کیا حیثیت ہے، وہ مالک کل عالم ہے، وہ چاہے تو آرزؤں کے مینار کو بلند رکھے اور اسکی منشا ہو تو دل کو خالی کر کے اسے اپنی ہستی کا کعبہ بنا دے. کعبہ بھی بتوں سے خالی ہے، اوروہ دل کعبہ ہے جس میں خواہشوں کے مجسمے موجود نہ ہوں. اس میں تو ایک تصور ہو ،ایک پاکیزگی ہو ، ایک نگاہ ہو، ایک جلال ہو ، ایک خیال ہو، ایک رت ایک ہی ٹھہراؤ ہو، جہاں مکان تو لامکاں ہو لیکن موجودگی ہر جا ہو، جہاں الله موجود ہو.ہتھیلی اشکوں میں معمور ہو. اور صدا آتی ہو کہ ” تو میرا ہے”. جان لو کہ سجدوں سے جبینیں مہکتی ہیں، اشکوں سے آنکھوں کے چراغ جلتے ہیں اور اسکی محبت دل کو منور کرتی ہے،اسکے احساس کے بغیر نہ دن ہے نہ رات ، سب خالی ہے، کہ یہ جہان اسکے “کن” کی تعمیل ہے. وہ جو “کن فیکون” کا مالک ہے وہی سب کا حاکم اور پروردگار ہے.

تو اسکے ہو جاؤ، مان لو کہ اسکی محبت کے بنا سب محبتیں ادھوری ہیں ، خام ہیں، وہ جو تم سے بے پناہ محبت کرتا ہے ، وہ جو صرف دعوی نہیں کرتا، تم پر مہربانی کا ہاتھ رکھتا ہے،تمہیں تھامتا ہے، اسکے سوا کون ہے جو موت کے بعد بھی تم سے مہربانی ، رحمت اور شفقت کا وعدہ کرتا ہے، صرف اسی کا ساتھ سچا ہے جسکی محبت لازوال ہے. پس وہ کرو جو الله کہتا ہے ، وہ چاہو جو الله چاہتا ہے ، اس سے محبت رکھو جس سے الله محبت رکھتا ہے، پھر کوئی شے نا پسند نہیں رہتی. اور جو الله کے لئے خود کو بدلے الله بھی اسکا جہاں بدل دیتا ہے. وہ کسی کو مایوسی کی دلدل میں پھنسنے نہیں دیتا. وہ ایسا محبوب ہے جو اپنے بندے کی محبت سنبھال کر رکھتا ہے. اور وہی اچھا بدلہ دینے والا ہے.اللہ تعالی کے اس اسم الباقی کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص اس اسم مبارک کوایک ہزار مرتبہ جمعہ کی رات میں پڑھے اللہ تعالی اس کو ہرطرح کے ضررونقصان سے محفوظ رکھیں گے اور انشاء اللہ اس کے تمام نیک عمل مقبول ہوں گے ۔ * جوسورج نکلنے سے پہلے سوبار روزانہ یہ اسم مبارک پڑھے گاانشاء اللہ مرتے دم تک کچھ دکھ نہ پائے گا اور عاقبت ( آخرت ) میں بخشا جائے گا ۔* جواس اسم کو ہرفرض نماز کے بعد ایک سو تیرہ (۱۱۳)بار پڑھنے کا معمول بنا ئے گا اسے اس کے منصب سے کوئی معز ول نہیں کرسکے گا خواہ اس کے خلاف جن وانس جمع ہوجائیں ۔* جوایک سو بار ( یابا قی ) پڑھتا رہے گاانشاء اللہ اس کے اعمال مقبول ہوں گے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت بقا کےصدقے جنت کی باقی رہنے والی نعمتیں عطا فرمائے۔ آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment