قصص الانبیا ء

اللہ تعالی کا صفاتی نام الباطن کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الباطن

الباطن اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الباطن کے معنی ہیں ہر چیز کے باطن کو جاننے والا ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ (اللہ) اول بھی ہے آخر بھی ہے ظاہر بھی ہے باطن بھی ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (الحدید:3)اور الباطن سے اس حقیقی معرفت کی طرف اشارہ ہے جس کے متعلق حضرت ابوبکر نے فرمایا ہے ۔ اے وہ ذات جس کی معرفت کی انتہا اس کی معرفت سے در ماندگی ہے )

بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیات دولائل قدرت کے لحاظ سے ظاہر ہے اور باعتبار ذات کے باطن ہے ۔ اور بعض نے کہا کہ الظاہر سے اس کا تمام اشیاء پر محیط ہونا مراد ہے اور اس اعتبار سے کہ وہ ہمارے احاطہ اور اک میں نہیں آ سکتا الباطن ہے ۔ اللہ باطن ہے کہ ا س نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ حتی کہ ہر چیز کے ،اپنی ذات سے بھی زیادہ قریب ہے۔ تمام مخلوقات اس کی مٹھی میں ہیں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اس کے ہاتھ میں رائی کے دانے کے برابر ہیں۔ الله تعالی کے لیے قرآن مجید اور احادیث میں جو صفات بیان ہوئی ہیں ان میں سے دو صفات ظاہر اور باطن کی صفت ہیں قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہے خدا کی ذات ہے جو اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی سوال یہ ہے کہ ایک ہی ذات اور ایک ہی حقیقت اول بھی ہو آخر بھی، اور ظاہر بھی ہو اور باطن بھی، یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا یہ متضاد باتیں نہیں؟اسی طرح اللہ تعالی کے لیے اور بھی متضاد صفات بیان ہوئی ہیں۔ مثلا جہاں وہ ذات رحمن اور رحیم ہے، وہیں اشد المعاقبین بھی ہے۔ یعنی شدید ترین سزا دینے والا”یہاں اللہ تعالی کی صفات ظاہر اور باطن کے حوالے سے مختصر اشارہ کرتے ہیں”>ممکن ہے مراد یہ ہو کہ اس کی ذات اور حقیقت تک پہنچنا کسی انسان کے بس میں نہیں، اس لحاظ سے وہ ذات باطن ہے۔ جبکہ اس کی صفات اور نعمتوں کو دیکھا جائے تو اہل بصیرت کو اس کی نشانی ہر چیز میں نظر آتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے۔

پس وہ ذات ظاہر ہے۔ اسی بنا پر احادیث میں اللہ تعالی کی ذات میں زیادہ غور و فکر کرنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ اس کی نعمتوں میں فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے: “> البتہ اس کی ایک تفسیر کی جا سکتی ہےکہ اگر کوئی چیز بہت زیادہ واضح ہو تو انسان عام طور پر اسے نہیں دیکھ سکتا، اور اکثر اس سے غافل ہو جاتا ہے۔ عام حسی مثال سورج کی ہے جس کی طرف انسان نہیں دیکھ سکتا، جبکہ اسی سورج نے ساری دنیا کو روشن کیا ہوا ہوتا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ در حقیقت نور کا انعکاس ہے۔ جبکہ ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں ہم ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں، لیکن عین اسی موقع پر اس نور سے غافل ہوتے ہیں، جس کی بدولت ساری چیزیں ہمیں دکھائی دی رہی ہیں۔ اگر ایک لمحے کے لیے نور منقطع ہو تب متوجہ ہوجاتے ہیں کہ ہمارا دیکھنا نور کی برکت سے تھا۔ بالکل اسی طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالی کے نور سے موجود ہے۔ لیکن ہم اکثر دوسری چیزوں کو دیکھتے دیکھتے اسی اصلی نور سے غافل ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ساری کائنات ہے۔ پس اس لحاظ سے وہ ذات ہمارے لیے باطن ہے۔ جبکہ حقیقت دیکھی جائے تو اس مادی نور کی طرح وہ ہر جگہ موجودہ ہے۔ مادی نور کی طرف ہم متوجہ ہوتے ہیں چونکہ وہ اس میں منقطع ہونا ممکن ہے، لیکن نور خدا اگر ایک لمحے کے لیے بھی منقطع ہو تو یہ کائنات فنا ہو جائے گی، لہذا ہم عام طور اس نور کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے اگر سورج کی روشنی کبھی بھی منقطع نہیں ہوتی تو شاید ہم سے بہت سارے اس نور کی طرف متوجہ ہی نا ہوتے۔اللہ تعالی کے یہ 2 اسم الظاہر اور الباطن کی تفسیر ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں بیان کی گئ ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اے اللہ توظاھر ہے تیرے اوپر کوئ چیز نہیں ، اور تو باطن ہے تیرے پرے کوئ چیزنہیں ) صحیح مسلم ۔تو ظاہر کی تفسیر ظہور بمعنی علو کی ہے ، تو اللہ تعالی ہر چيزسے بلند ہے ، اوربعض نے اس کی تفسیرظہور بمعنی بروزکی ہے ، تو وہ ہے جوعقلوں کے لۓ اپنے دلائل اوراپنے وجود کے براھین اوروحدانیت کے دلائل ساتھ ظاہر ہے ، تو وہ اس پر دلالت کرنے والے دلائل کے ساتھ ظاہر ہے ، اور اس کے افعال اس کی معرفت و علم کی طرف لے جاتے ہیں ، تو وہ ظاہر ہے عقل ودلائل کے ساتھ اس کا ادراک ہوتا ہے ، اور باطن ہے اس لئے کہ وہ غیر مشاہد ہے دنیا میں سب اشیاء کی طرح اس کا مشاہدہ نہیں ہوسکتا اللہ تعالی اس سے بلند وبالا ہے ۔اور اللہ تعالی اپنی حکمت اور پیدا کرنے اور اپنی مصنوعات کے سا تھ ظاہر ہے اوران سب نعمتوں کے ساتھ جو کہ اس نے کی ہیں انہیں اس کے علاوہ کوئ نہیں دیکھ سکتا ، اورباطن ہے اور اپنی صفات کی کیفیات کےلحاظ سے وہ عقول والوں سے پردہ میں ہے ۔اوربعض علماء کی طرف یہ منسوب ہے کہ انہوں نے باطن کی تفسیر قریب کی ہے ، ان کا قول ہے کہ : وہ عرش پرہوتے ہوۓ بھی اپنے علم اورقدرت کے اعتبارسے ہرچیزسے قریب ہے ۔اورباطن کی تفسیر باطنی امور کے ساتھ بھی کی گئ ہے ، تو وہ باطن کوجاننے والا اورایسے ہی وہ ظاہر کوبھی جاننے والا ہے

، امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے :– وہ کہتے ہیں کہ وہ علم کے لحاظ سے ہرچیز پر ظاہر ہے اورعلم کے لحاظ سے ہرچیز پر باطن ہے ۔اوربعض نے اس کی تفسیر یہ کی ہےکہ : وہ حواس کے ساتھ غیر مدرک ہے جیسا کہ اشیاء مخلوقہ کا حواس کے ساتھ ادراک ہوسکتا ہے ۔اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ : وہ مخلوق کی آنکھوں اور اوھام سے چھپا ہوا ہے ، تو کوئ آنکھ اس کا ادراک نہیں کرسکتی اورنہ ہی کوئ وھم اس کا احاطہ کرسکتا ہے ۔تو باوجود اس کے کہ یہ سب معانی اورتفاسیر صحیح ہیں لیکن اولی اور بہتر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کاالتزام کیا جاۓ وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سے اللہ تعالی کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ابن جریر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ : وہ اپنے علاوہ ہرچيز پر ظاہر ہے ، اوروہ ہر چیز پر بلندوبالا ہے کوئ چيز بھی اس سے بلند نہیں ، تو رہ ہر چیز کے باطن کوجانتا ہے توکوئ چیزبھی کسی کے اس سے زیادہ قریب کوئ نہیں ۔اور ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے یہ ذکر کیا ہے کہ : جس نے بھی اللہ تعالی کی فوقیت کا انکار کیا تو اس نے اللہ تعالی کے اسم ” الظاہر ” کے لوازم کا انکار کیا ، توجو صرف قدروقیمت میں فوقیت رکھے اس کا ظاہرہونا صحیح نہیں ، جس طرح کہ یہ کہا جاۓ کہ سونا چاندی کے اوپر ہے ، کیونکہ یہ فوقیت صرف ظہور کے ساتھ متعلق ہے ، بلکہ یہ ہوسکتا ہےکہ جس پر فوقیت دی گئ ہے وہ فوقیت دیۓ جانے والے سے زیادہ ظاہر ہو ، اورنہ ہی یہ صحیح نہیں کہ صرف غلبے اورقھر میں ظاہر ہے اگرچہ اللہ سبحانہ وتعالی قھر وغلبے میں بھی ظاہر ہے تو اللہ سبحانہ وتعالی کے لۓ ہراعتبار سے علو مطلق ہے ،

علو ذات اور علو قدر اورعلو قھر میں بھی ۔اور اللہ سبحانہ کا اسم ” الباطن ” نیچے ہونا کا متقاضی نہیں ، کیونکہ سفول ، نیچے ہونا یہ نقص ہے اوراللہ سبحانہ وتعالی نقائص سے پاک ہے ، تو بیشک اللہ تعالی علی اوراعلی ہے ، اوروہ عالی ہونے کے علاوہ نہیں ہوسکتا ۔اور ظاہرکو باطن سے مربوط کیا گیا ہے ، اور ظہور کا علو کے ساتھ مقارنہ ہوتاہے تو جتنی بھی کو‎ئ چيز اعلی اوربلند ہوگی وہ زیادہ ظاہر ہوگی ، اورعلو اور ظھور سے ایک اور معنی بھی متضمن ہے ، تو اسی لۓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ تجھ سے اوپر کوئ چيز نہیں ، اوریہ نہیں فرمایا کہ تجھ سے ظاہرکوئ چیز نہیں ، اس لۓ کہ ظہور علواور فوقیت کو متضمن ہے ۔اوراس معنی میں اللہ تعالی کاپورے عالم کا احاطہ کرنا اور اس کی عظمت کا ثبوت ہے اوراس کی عظمت کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی کا اسم باطن اس بات پر دلالت کرتا ہےکہ اللہ تعالی ہر چھپی ہوئ اور راز کی باتوں اور باریک سے باریک اشیاء پر بھی مطلع ہے ۔ اللہ تعالی کے اس اسم الباطن کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جوشخص روزانہ ۳۳ مرتبہ یَابَاطِنُ پڑھا کر ے گا انشاء اللہ اس پر باطنی اسرار ظاہر ہونے لگیں گے اور اس کے قلب میں انس ومحبتِ الٰہی پیدا ہوگی ۔* جو شخص دورکعت نماز اداکر کے ھُوَالْاَ وَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُوَالْبَاطِنُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌپڑھا کر ے انشاء اللہ اسکی تمام حاجتیں پوری ہوں گی اور تما م خیالات باطلہ دور ہوجائیں گے۔ *جوکوئی اس اسم کو اکتالیس بار پڑھے انشاء اللہ اس کا قلب نورانی ہوجائے گا *جواس اسم کو ہر نماز کے بعد تینتیس(۳۳) بار پڑھنے کا معمول بنا ئے اسے جودیکھے گا محبت کرے گا۔* جوکوئی ہرروزاپنے دل میں یازبان سے تین سو ساٹھ (۳۶۰)بار اس کا وردعشاء یا فجر یاکسی بھی نماز کے بعد کرے گا صاحبِ باطن اور واقفِ مرادِ الٰہی ہوگا۔*جوکسی کو امانت سونپے یازمین میں دفن کرے وہ کاغذ پر یہ اسم مبارک لکھ کر اس کے ساتھ رکھ دے انشا ء اللہ کوئی اس میں خیانت نہ کرسکے گا۔*جو ہر روزاسی (۸۰)بار کسی نماز کے بعد اس کو پڑھے گا واقفِ اسرارِالٰہی ہوگا۔ *جوہر روز تین بار ایک گھنٹہ تک اس کو پڑھے گا اس کو انسیتِ الٰہی نصیب ہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت باطن کے سبب گناہوں سے بچنا اور عذاب کا ڈر نصیب فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment