قصص الانبیا ء

اللہ تعالی کا صفاتی نام الاول کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الاول

الاول اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے۔۔الاول کے معنی ہیں ’’پہلا‘‘۔۔۔سب سے پہلے، جو ہر چیز کے وجود میں آنے سے پہلے بھی موجود تھا۔ ہر چیز سے اول۔ ہر چیز پر غالب ہر چیز کے بعد والا۔ ہر چیز کے باطن کو جاننے والا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں۔ تو ظاہر ہے تجھ سے بلند تر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے تجھ سے قریب تر کوئی چیز نہیں۔‘

‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وہ (اللہ) اول بھی ہے آخر بھی ہے ظاہر بھی ہے باطن بھی ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔اللہ اس معنی میں اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی مخلوق نہیں تھی۔ وہ ہر چیز پر مقدم ہے اس کے ساتھ کچھ بھی نہ تھا۔اللہ کی ذات کی حقیقت کیاہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب عقلِ انسانی کے احاطہ سے باہر ہے۔عقل درحقیقت نام ہے ان مجموعی نتائج کاجوانسان اپنے علم ومشاہدات سے حاصل کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ذرائع جن سے انسان علم حاصل کرتاہے، محدود ہیں۔سوجب وہ ذرائع محدودہیں، تو ان ذرائع کا ماحصل بھی محدود ہی ہوگا اور محدود، لامحدود کا ادراک کس طرح کر سکتا ہے؟ اسی حقیقت کی طرف قرآن سے بھی وضاحت ملتی ہے کہ ”نگاہیں اس کااحاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا احاطہ کرتاہے اوروہ لطیف و خبیر ہے” ۔ذاتِ خداوندی کی ماہیت کا علم،انسان کی سرحدِ ادارک سے ماوراء ہے،یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم خدا کے عرفان کا نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔ جس چیز کوانسان خود براہِ راست نہ سمجھ سکے اس کے متعلق اندازہ لگانے کادوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس جیسی کسی دوسری شے پر غورکیاجائے، قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی ذات بے مثل و بے نظیر ہے۔”اس کی مثل کوئی شے نہیں”۔لہٰذا ا اللہ کی ذات کے متعلق ہم کچھ نہیں جان سکتے، اللہ نے اپنی ذات کی جن صفات کاتعارف قرآن میں کرایا ہے،ان سے اس کے متعلق ایک انسانی ذات کی نشو و نما کے معیار ہونے کا اندازہ کرایا گیا ہے ۔

صفات خداوندی
اللہ کی جو صفات قرآن میں مذکور ہیں وہ دو قسم کی ہیں
١) صفاتِ ذاتی
٢) اَلْاَسْمَائُ الْحُسْنٰی
صفاتِ ذاتی یہ صفات ایسی ہیں، جو صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ ان میں کوئی اورشریک نہیں ہوسکتا۔ اس میں قرآن نے چند بنیادی صفات کاذکر یوں کیاہے کہ”وہ (سب سے) پہلے اور آخر اور ظاہر اور مخفی ہے اور ہر چیز کو جاننے والاہے”۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی ذات زمان ومکان کی نسبتوں سے ماوراء ہے۔ سب سے اول بھی وہی ہے اور سب سے آخر بھی وہی۔ اس کے لئے نہ ابتدا ہے نہ انتہا۔ وہ ہرشے پر غالب ہے لیکن اس کے قانون کا غلبہ غیر مرئی اورغیر محسوس طور پر کام کرتا ہے۔ دراصل قانون ہوتا ہی غیر مرئی اور غیرمحسوس ہے، لیکن اس کے نتائج محسوس اور مرئی ہوتے ہیں، یا یوں سمجھ لیں کہ جملہ کائنات، اس کی صفتِ خالقیت کی مظہر ہے اور اس کی ہستی کی زندہ شہادت ہے،لیکن اس کی ذات، انسانی نگاہوں سے پنہاں اور مستور ہے۔ اس اعتبار سے وہ باہمہ بھی ہے اور بے ہمہ بھی۔ الہیات کی اصطلاح میں یوں کہا جائے گا کہ وہ (transcendent ) بھی ہے اور (immanent) بھی۔ اس کا علم ہرشے کو محیط ہے-٢) اَلْاَسْمَائُ الْحُسْنٰی) انہی صفاتِ خداوندی کو انسانی ذات کی نشوونما ماپنے کا بطور معیارِ مُطلق یہاں جائزہ لیا جا رہا ہے- اِس معیار کی روشنی میں قرآن نے اِسے یوں بیان کیا ہے کہ”(صفاتِ خداوندی) اپنا پورا پورا توازن (حسن) لئے ذاتِ خداوندی میں مرکو ز ہیں”۔

خدا کی یہ صفاتِ خداوندی وہ قوتیں ہیں،جو بشریت کی حد تک انسان کے اندر بھی خوابیدہ حالت میں موجود ہیں، جس کی نشوونما میں اُسے صفاتِ ( صبغتہ ) خداوندی سے قُرب حاصل ہوتا رہتا ہے سائنس دانوں کو یقین ہے کہ کائنات کی ابتداء ایک بہت بڑی توانائی اور روشنی کی روشنی ہے جس کی وجہ اب بگ بینگ (بڑادھماکا) تھا۔ اس چیز کی ابتداء اس واقعے سے تھی مثلاً کائنات اور خلاء کا ہونا ضروری ہے۔ خود وقت کاآغاز ہونا ضروری ہے۔طبیعات دان (آسٹروفزسٹ) رابرٹ جیسٹرو جو خود کو ملحد کہتے ہیں اس بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کا کائنات میں جتنے واقعات بھی موجود ہیں ، اس کا بیج اس سے پہلے ہوا تھا۔اس کائنات میں موجود ہر ستارہ ، سیارہ اور ہر جاندار چیزیں تھیں۔ واقعات سے وجود میں آتے ہی جنوری کا آغاز اس بڑے دھماکے سے ہوا۔ آنکھ جھپکتے اس کائنات وجود میں آگئی ہے لیکن ہم اسے جانتے ہی نہیں ہیں۔ ” ایک اور نوبل انعام یا ہفتے کے سائنس دان دان سٹیون وین برگ اسٹرائیکے سے متعلقہ افراد نے بتایا کہ اس کائنات کا درجہ حرارت ایک ہزار دس لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ وہ کائنات لائٹ سے بھری پڑی تھی۔ ” کائنات ہمیشہ موجود نہیں تھی۔ یہ ایک آغاز ہے لیکن اس کی وجہ کیاتھی؟ سائنس دانوں کے پاس لائٹ اور مادے کی حیرت انگیز کمی ہے3-کیا خدا؟ کائنات کا نظام مربوط فطری قوانین کی مدد سے چل رہا ہے۔زندگی کا بیشتر حصہ اگرچہ ہم ہر دن صبح کے مشورے میں رہتے ہیں کہ مثلاشش کشش ثقل مسلسل جاری رہتی ہے ، میز پر کافی کاک ٹھنڈا ہوتا ہے ، زمین 24 گھنٹوں میں اس کا اپنا حصہ بن جاتی ہے۔ عورتوں کو ، اور روشنی کی رفتار کی زمین پر یا کوسوں سے دور دراز کے دیہاتیوں میں ہم ایک جیسے ہیں۔ ہم فطرت کے لاتبدیل قوانین کو کس طرح پہچان کرسکتے ہیں؟ یہ کائنات کیوں اتنی معتبر اور رباقاعدہ ہے؟ یہ اتنا عجیب ہے کہ عظیم ترین سائنسدان بھی حیرت زدہ ہیں۔ اس کائنات کو اصولوں پر کسی منطق کی ضرورت نہیں پڑھنے کے ل ریا اس ریاضی کے اصولوں پر چلنا باقی رہ گیا ہے۔ اس معرفت سے حیرت زدہ ہونے کی بات ہے کہ کائنات کو کوئی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ اس کائنات کاتصور کو ہر حال میں ہر حال میں پیش آنے والی بنی کی گنجائش کی صورتحال بدلنا پڑتی ہے یا جس چیزوں میں یکایک وجود ہوتا ہے وہ آج قدرتی طور پر آسان ہوتا ہے۔ رچرڈ فین مین جو کوانٹم الیکٹرڈ ائنیمکس کی بدولت نوبل انعام یافتہ ہوتا ہے۔ “‘فطرت کا اتنا درست ہونا ایک بھید ہے۔ قوانین کی موجودگی کی حقیقت ایک قسم کی معجزہ ہے۔ ”یعنی کائنات کے عدم سے وجود دینے والی ایک ذات موجود ہے جو اول ہے ، یعنی سب سےپہلے وجود رکھنے والی ذات ۔اللہ تعالی کے اس اسم الاول سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ کی عبادات اور اس کے احکام بجا لانے میں جلدی کرے اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کرے تاکہ حیات ابدی حاصل ہو۔ اللہ تعالی کے اس اسم الاول کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ

جس شخص کے لڑکا نہ ہو تا ہو وہ چالیس دن تک چالیس مرتبہ روزانہ یَااَوَّلُپڑھا کر ے انشاء اللہ اسکی مرادپوری ہوگی ۔ * جو شخص مسافر ہووہ جمعہ کے دن ایک ہزار مرتبہ یَا اَوَّلُ پڑھے انشاء اللہ جلدوطن واپس بخیریت پہنچے گا ۔*جوچالیس شبِ جمعہ ہرشب کو عشاء کی نماز کے بعد ایک ہزار بار یہ اسم مبارک پڑھے اس کی انشاء اللہ تمام حاجتیں پوری ہوں گی ۔* جوہر روز گیارہ باریہ اسم مبارک پڑھے گاتمام خلقت انشاء اللہ اس پر مہربان ہوگی ۔ *جوسوباریہ اسم مبارک پڑھے گاانشاء اللہ اس کی بیوی اس سے محبت کرے گی ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کائنات میں غورو فکر کر کے اطاعت اور اتباع والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment