اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الآخر کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الاخر اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہےالاخر کے معنی ہیں ’’آخری‘‘۔۔۔۔یعنی آخر تک رہنے والی ذات، سب کے بعد، جو سب کو موت دینے کے بعد بھی زندہ اور موجود رہے گا۔جب سب مخلوقات فنا ہو جائیں گی تو صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہے گا۔ اللہ ظاہر ہے کہ اس کے اوپر کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ سب اونچی شان والوں سے بھی اونچا اور اعلی ہے۔

تمام مخلوقات اس کی مٹھی میں ہیں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اس کے ہاتھ میں رائی کے دانے کے برابر ہیں۔’’تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں۔ تو ظاہر ہے تجھ سے بلند تر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے تجھ سے قریب تر کوئی چیز نہیں۔‘‘اس موقع پر ہمیں یہ غور وفکر کرنا چاہئے کہ انسان کتنی بھی بلندیوں پر پہنچ جائے اور کتنی بھی کامیابیوں کو حاصل کرلے لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اس کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کرسکتے، غرضیکہ ہر شخص کا دنیاوی سفر ایک دن ختم ہوجائے گا، یعنی اس کو موت آجائے گی۔ پوری کائنات میں سب سے افضل واعلیٰ مخلوق انبیاء کرام کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑا ہے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فردیا ہے: روح صرف اللہ کا حکم ہے۔ ہمیں بھی ایک روز مرنا ہے اور اپنے خالق، مالک اور رازق کائنات کے سامنے اپنی دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔ لہذا ہم اس موقع پر یہ عہدوپیمان کریں کہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزاریں گے اور جھوٹ، سودو رشوت خوری، دھوکہ دھڑی، شراب نوشی، عیاشی اور بے حیائی جیسی معاشرہ کی عام برائیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ نیز سچائی، امانت داری، معاملات میں صفائی، تعلیم، عمدہ اخلاق، بڑوں کااحترام،چھوٹوں پر شفقت، پڑوسیوں کا خیال، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن خوبی انجام دینا جیسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں لاکر اپنے معاشرہ کو خوب سے خوب تر بنائیں گے تاکہ ہم اس دنیاوی زندگی میں بھی سرخ روئی حاصل کریں اور اور مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں ایسی کامیابی وکامرانی حاصل کریں کہ جس کے بعد ناکامی نہیں۔خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔

اور اگر کوئی موت پر شک وشبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ بڑی بڑی مادی طاقتیں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتیں موت کے سامنے عاجز وبے بس ہوجاتی ہیں۔ موت بندوں کو ہلاک کرنے والی، بچوں کو یتیم کرنے والی، عورتوں کو بیوہ بنانے والی، دنیاوی ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کو تھرانے والی، آنکھوں کو رلانے والی،بستیوں کو اجاڑنے والی، جماعتوں کو منتشر کرنے والی، لذتوں کو ختم کرنے والی، امیدوں پر پانی پھیرنے والی، ظالموں کو جہنم کی وادیوں میں جھلسانے والی اور متقیوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی شی ہے۔ موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے، نہ بڑوں کی تعظیم کرتی ہے، نہ دنیاوی چودھریوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے۔ جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تو تمام دنیاوی رکاوٹوں کو چیرتی اورپھاڑتی ہوئی مطلوب کو حاصل کرلیتی ہے۔ موت نہ نیک صالح لوگوں پر رحم کھاتی ہے، نہ ظالموں کو بخشتی ہے۔ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لیتی ہے اور گھر بیٹھنے والوں کو بھی موت نہیں چھوڑتی۔ اخروی ابدی زندگی کو دنیاوی فانی زندگی پر ترجیح دینے والے بھی موت کی آغوش میں سوجاتے ہیں، اور دنیا کے دیوانوں کو بھی موت اپنا لقمہ بنالیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی متعدد آیات میں موت اور اس کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ جن میں سے چند آیات یہ ہیں: ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (سورۂ آل عمران ۱۸۵)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی کامیابی کا معیار ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حال میں ہماری موت آئے کہ ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے اور دخولِ جنت کا فیصلہ ہوچکا ہو۔۔۔ اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی اور فضل وکرم والی ذات باقی رہے گی۔ (سورۂ رحمن ۲۶۔۲۷) ۔۔۔۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔ حکومت اسی کی ہے، اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کرجاناہے۔ (سورۂ القصص ۸۸) ۔۔۔۔ ( اے پیغمبر!) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لئے طے نہیں کیا۔ چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم تمہیں آزمانے کے لئے بری اور اچھی حالتوں میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہمارے ہی پاس لوٹ کر آؤگے۔ (سورۂ الانبیاء ۳۴ ۔ ۳۵) ۔۔۔ تم جہاں بھی ہوگے(ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔ (سورۂ النساء ۷۸) ۔۔۔۔ (اے نبی!) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ یعنی وقت آنے پر موت تمہیں ضرور اچک لے گی۔ (سورہ الجمعہ ۸) ۔۔۔۔ چنانچہ جب اُن کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ (سورۂ الاعراف ۳۴) ۔۔۔ اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں اُسے موت آئے گی۔ (سورہ لقمان ۳۴) ان مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا مرنا یقینی ہے لیکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الآخرسے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ کی عبادات اور اس کے احکام بجا لانے میں جلدی کرے اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کرے تاکہ حیات ابدی حاصل ہو۔

اللہ تعالی کے اس اسم الآخر کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جوشخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ یَااٰخِرُپڑھا کرے اس کے دل سے غیر اللہ کی محبت دور ہوجائے گی اور انشا ء اللہ ساری عمر کی کوتاہیوں کا کفار ہ ہوجائے گا اور خاتمہ بالخیر ہوگا۔* جس کی عمر آخر کو پہنچ گئی ہواور نیک اعمال نہ رکھتا ہووہ اس اسم کا ورد کرے حق تعالی اس کی عاقبت انشاء اللہ بہتر کرے گا۔ *جوکوئی کسی جگہ جائے اوراس اسم کو پڑھ لے وہاں عزت اورتکریم پائے گا۔* جواس اسم کو دفعِ دشمن کے لیے پڑھے گاانشاء اللہ کامیاب ہوگا۔* جوعشاء کی نماز کے بعد ایک سو مرتبہ یہ اسم پڑھنے کا معمول بنائے اس کی آخری عمر انشاء اللہ پہلی عمرسے بہتر ہوگی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں موت کی تیاری کرنے اور زندگی اطاعت کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment