اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا اسم المجیب کا معنی مفہوم فوائد و وظائف

وظائف

المجیب اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المجیب کے معنی ہیں دعا قبول کرنے والا، جواب دینے والا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کی حکایت بیا ن کرتے ہوئے ان کی طرف سے فرمایا ہے۔بے شک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول کرنے والا ہے (ھود:61) المجیب دعاؤں کا قبول کرنے والا اور بندوں کی پکار کا جواب دینے والا۔ کہ بارگاہ الٰہی میں کسی کی دعا رائیگاں نہیں جاتی اللہ تعالیٰ مجیب ہے وہ دعائیں کرنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں۔ وہ مجبور وں، مظلوموں، بے کسوں اور بے سہاروں کی فریادیں قبول کرتا ہے۔

خصوصاً جن کی امیدیں مخلوقات سے کٹ جاتی ہیں وہ فریادیوں کی فریاد رسی کرتا ہے جب مظلوم اسے پکاریں تو وہ ان کی مشکل کشائی کرتا ہے۔اسی لئے المجیب کے یہ معنی بھی کئے جاتے ہیں کہ المجیب وہ ذات جوعاجزوں کی دعا قبول کرنے والا اور پکارنے والا۔ دعائیں سننے اور قبول کرنے والا۔برے جب حالات ہوتے ہیں کوئی بھی ساتھ نہیں دیتا-ذات رب کی ہی ہے جو سہارا دیتی ہے۔ جینے کی اک امنگ جاگ جاتی ہے انسان جب اپنے درد دکھ اور حالات کا تزکرہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے رب کی بارگاہ میں دعا مانگتے کرتا ہے تو اک سکون محسوس ہوتا اک گھائل روح جب بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوتی ہے تو اوپر والا مالک ایسا سکون میسر کرتا ہے جس کا انسان صدیوں سے متلاشی ہوتا ہےہر شخص کی دُعا کو سننے اور قبول کرنے والا اﷲ ہی ہے ، اس معاملہ میں کوئی اس کا شریک و ساجھی نہیں ،اس کا ارشادہے’ جب میرے بندے میرے بارے میں تم (ﷺ ) سے سوال کریں تو تم (ﷺ )کہہ دو کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں ، اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری بات مان لیا کریں ( یعنی میری اطاعت کریں ) اور مجھ پر ایمان رکھیں ، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے ۔‘‘ (البقرہ 186) ۔

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ تم مجھے پکارو ( مجھ سے دُعاء کرو ) میں تمہاری دُعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔ ‘‘ ( المومن 60)۔یعنی دعائیں قبول کرنے اور نہ کرنے کے جملہ اختیارات میرے پاس ہیں، لہٰذا تم دوسروں سے دعائیں نہ مانگو بلکہ مجھ سے مانگو ۔ اس آیت کی روح کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے تین باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں : اول یہ کہ دعا آدمی صرف اس ہستی سے مانگتا ہے جس کو وہ سمیع و بصیر اور فوق الفطری اقتدار (Supernatural powers) کا مالک سمجھتا ہے، اور دعا مانگنے کا محرک دراصل آدمی کا یہ اندرونی احساس ہوتا ہے کہ عالم اسباب کے تحت فطری ذرائع و وسائل اس کی کسی تکلیف کو رفع کرنے یا کسی حاجت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں یا کافی ثابت نہیں ہو رہے ہیں، اس لیے کسی فوق الفطری اقتدار کی مالک ہستی سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ بآواز بلند ہی نہیں، چپکے چپکے بھی پکارتا ہے، بلکہ دل ہی دل میں اس سے مدد کی التجائیں کرتا ہے۔ یہ سب کچھ لازماً اس عقیدے کی بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ہستی اس کو ہر جگہ ہر حال میں دیکھ رہی ہے۔ اس کے دل کی بات بھی سن رہی ہے۔ اور اس کو ایسی قدرت مطلقہ حاصل ہے کہ اسے پکارنے والا جہاں بھی ہو وہ اس کی مدد کو پہنچ سکتی ہے اور اس کی بگڑی بنا سکتی ہے۔ دعا کی اس حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ سمجھنا آدمی کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں رہتا کہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور ہستی کو مدد کے لیے پکارتا ہے وہ در حقیقت قطعی اور خالص اور صریح شرک کا ارتکاب کرتا ہے، کیونکہ وہ اس ہستی کے اندر ان صفات کا اعتقاد رکھتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں ۔ اگر وہ اس کو ان خدائی صفات میں اللہ کا شریک نہ سمجھتا تو اس سے دعا مانگنے کا تصور تک کبھی اس کے ذہن میں نہ آ سکتا تھا۔ دوسری بات جو اس سلسلے میں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ کسی ہستی کے متعلق آدمی کا اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھنا کہ وہ اختیارات کی مالک ہے، اس سے یہ لازم نہیں آ جاتا کہ وہ فی الواقع مالک اختیارات ہو جائے۔ مالک اختیارات ہونا تو ایک امر واقعی ہے جو کسی کے سمجھنے یا نہ سمجھنے پر موقوف نہیں ہے۔

جو در حقیقت اختیارات کا مالک ہے وہ بہرحال مالک ہی رہے گا، خواہ آپ اسے مالک سمجھیں یا نہ سمجھیں ۔ اور جو حقیقت میں مالک نہیں ہے، اس کو محض یہ بات کہ آپ نے اسے مالک سمجھ لیا ہے، اختیارات میں ذرہ برابر بھی کوئی حصہ نہ دلوا سکے گی۔ اب یہ بات ایک امر واقعی ہے کہ قادر مطلق اور مدبر کائنات اور سمیع و بصیر ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور وہی کلی طور پر اختیارات کا مالک ہے۔ دوسری کوئی ہستی بھی اس پوری کائنات میں ایسی نہیں ہے جو دعائیں سننے اور ان پر قبولیت یا عدم قبولیت کی صورت میں کوئی کارروائی کرنے کے اختیارات رکھتی ہو ۔ اس امر واقعی کے خلاف اگر لوگ اپنی جگہ کچھ انبیاء اور اولیاء اور فرشتوں اور جِنوں اور سیاروں اور فرضی دیوتاؤں کو اختیارات میں شریک سمجھ بیٹھیں تو اس سے حقیقت میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق رو نما نہ ہو گا۔ مالک مالک ہی رہے گا اور بے اختیار بندے، بندے ہی رہیں گے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے دعا مانگنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص درخواست لکھ کر ایوان حکومت کی طرف جائے مگر اصل حاکم ذی اختیار کو چھوڑ کر وہاں جو دوسرے سائلین اپنی حاجتیں لیے بیٹھے ہوں انہی میں سے کسی ایک کے آگے اپنی درخواست پیش کر دے اور پھر ہاتھ جوڑ جوڑ کر اس سے التجائیں کرتا چلا جائے کہ حضور ہی سب کچھ ہیں، آپ ہی کا یہاں حکم چلتا ہے، میری مراد آپ ہی بر لائیں گے تو بر آئے گی۔ یہ حرکت اول تو بجائے خود سخت حماقت و جہالت ہے لیکن ایسی حالت میں یہ انتہائی گستاخی بھی بن جاتی ہے جبکہ اصل حاکم ذی اختیار سامنے موجود ہو اور عین اس کی موجودگی میں اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کے سامنے درخواستیں اور التجائیں پیش کی جا رہی ہوں ۔

پھر یہ جہالت اپنے کمال پر اس وقت پہنچ جاتی ہے جب وہ شخص جس کے سامنے درخواست پیش کی جا رہی ہو خود بار بار اس کو سمجھائے کہ میں تو خود تیری ہی طرح کا ایک سائل ہوں، میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اصل حاکم سامنے موجود ہیں، تو ان کی سرکار میں اپنی درخواست پیش کر، مگر اس کے سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود یہ احمق کہتا ہی چلا جائے کہ میرے سرکار تو آپ ہیں، میرا کام آپ ہی بنائیں گے تو بنے گا۔ ان تین باتوں کو ذہن میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ مجھے پکارو، تمہاری دعاؤں کا جواب دینے والا میں ہوں، انہیں قبول کرنا میرا کام ہے۔ یہ اﷲ رب العالمین ہی ہے جو بے کس و بے قرار کی دستگیری فرماتا اور اسے مشکل سے نکال دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی کھلی اور واضح حقیقت ہے کہ وقتاً فوقتاً انسان اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرتا ہے ۔اسی بناپر اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی وحدانیت کی اہم نشانی اور دلیل کے طورپر ذکر کیا کہ آخر وہ کون ہے جسے بے قرار شخص پکارتا ہے جب سارے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں اوروہ اس بے قرار کی پکار کو سنتا اور اسے مصیبت سے نکال دیتا ہے ؟امام احمد رحمہ اللہ ؒکے حوالہ سے حافظ ابن اکثیر رحمہ اللہؒنے ایک روایت ذکر کی کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی الله عليه والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟آپ صلی الله عليه والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس ایک اﷲ کی طرف بلاتا ہوں کہ جب تمہیں مصیبت پہنچتی ہے اور تم اسے پکارتے ہو تو وہ تمہاری مصیبت دور کردیتا ہے ، جب تم چٹیل میدان میں راستہ بھٹک جاتے ہو اور اسے پکارتے ہو تو وہ تمہیں راہ دکھادیتا ہے ، جب تمہیں قحط سالی پہنچتی ہے اور تم اسے پکارتے ہو تو وہ تمہارے لئے ( بارش برسا کر ) غلہ اُگا دیتا ہے۔اللہ تعالی کےاس اسم المجیب سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اوامر ونواہی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے اور حاجتمندوں کی حاجتوں کو پورا کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم المجیب کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص اس اسم پاک کو بہت پڑھے اور پھر دعا کرے تو اس کی دعا جلد قبول ہو گی اور اگر اسے لکھ کر اپنے پاس رکھے تو حق تعالیٰ کی امان میں رہے گا۔

جوشخص کثرت سے یَامُجِیْبُ پڑھا کر ے انشاء اللہ اس کی دعائیں بارگا ہِ خداوندی میں قبول ہونے لگیں گی نیز دعا کے ساتھ ذکر کرنا موجبِ قبولیتِ دعاہے۔* جواس اسم مبارک کو اپنے پاس لکھ کر رکھے گا اللہ تعالی کی امان میں رہے گا۔* جوکوئی دردسر کے لئے تین بار یہ اسم مبارک پڑھ کردم کرے گا انشاء اللہ درد سردور ہوگا۔ *جواس اسم کوطلوع آفتاب کے وقت پچپن (۵۵)با رپڑھنے کا معمول بنا ئے گا انشاء اللہ مستجاب الدعوات ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے اس اسم مبارک کے صدقے مستجاب الدعوات بنائے اورہماری نیک جائز حاجات پوری فرمائے ۔آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment