اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا اسم الغفور کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الغفور

الغفور کا معنی بار بار بخشنے والا،جو بار بار گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی بخش دیتا ہے۔ اس کی معاف کرنے کی صفت ہمیشہ سے معروف ہے اور بندوں کے گناہ بخش دینا سدا سے اس کی شان ہے۔ ہر کوئی اس کی معافی اور مغفرت کا محتاج ہے جس طرح اس کی رحمت اور اس کے کرم کے بغیر کسی کو چارہ نہیں۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص معافی کے ذرائع اختیار کرے گا، اسے ضرور بخش دیا جائے گا۔اس کا ارشاد ہے:میں بہت بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے پھر ہدایت پر قائم رہے۔

‘‘جناب دائود طائی رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ایک حکایت ہے کہ ان کے شہر ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ۔.ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺍﻭﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﺋﯽ، ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺻﻮﻝ ﭘﺎﺋﮯ۔.ﺩﻭ ﺩﺭﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺋﯽ۔ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﮑﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﯽ، ﺍﻭﻥﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔.ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﻟُﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ، ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﮨﻮﻟﻨﺎﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻭ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔.ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺳﯿﺪﮬﺎ جناب دائود ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟ جناب دائود طائی ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ،.ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ، ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺻﺪﻗﮧ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮ ﮨﯽﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻻ ﻻ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎﯾﺎ، ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﺮ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯﺍﺟﻨﺒﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﺤﻘﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔دائود طائی رحمتہ اللہ علیہ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻟﯿﮑﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟

اللہ تعالی کی رحمت بندہ کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو بیت اللہ کا حج کرنے آتا ہے اور کوئی گناہ نہیں کرتا، کسی کو گالی نہیں دیتا تو وہ اس طرح لوٹتا ہے جس طرح اس کو آج ہی اُس کی ماں نے جنا ہو‘‘۔ (یعنی گناہوں سے بالکل پاک)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو شخص میرے وضو کی مانند وضو کرے، پھر دو رکعات نماز پڑھے اور ان رکعات کے دوران دل سے کوئی بات نہ کرے (یعنی خیالات میں نہ رہے) تو اس کے تمام گذشتہ گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے‘‘۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے گناہوں، منکرات اور برائیوں کو چھوڑے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بہترین نعم البدل عطا فرمائے گا۔دیکھئے! خواہشات اور شہواتِ نفس، دلوں کو کنٹرول کر لیتی ہیں۔ بلکہ دلوں کو اپنے قبضے میں لے کر اپنی مرضی کے مطابق چلاتی ہیں۔ ان شہواتِ نفس سے جان چھڑانا بہت کٹھن اور چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔ لیکن جو دل اللہ تعالیٰ کے تقوی سے معمور ہوں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے درخواستگار ہوں تو وہ کبھی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہیں ہوتے۔اللہ رب العزت کا اِرشاد ہے: ’’جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے‘‘۔جو شخص گناہوں اور خواہشاتِ نفس کو کسی غیر اللہ کے لئے چھوڑتا ہے تو اس کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کی رضا کے لئے گناہوں سے دُور رہنے والے کو کوئی مشکل آڑے نہیں آتی۔ صرف چند ابتدائی آزمائشیں ہوں گی تاکہ معلوم ہو کہ توبہ کرنے والا سچا اور خلوصِ دل رکھتا ہے یا صرف ظاہراً توبہ کر رہا ہے۔اور یہ بھی یاد رہے کہ گناہوں کی جس قدر لذت زیادہ ہو گی اور اسباب گناہ جتنے زیادہ ہوں گے ان سے توبہ کرنے والے کو اسی قدر اجر و ثواب بھی زیادہ ملے گا۔انسان فطرتاً خطا کا پتلا ہے۔ اس لئے اگر دل کا جھکاؤ کبھی کبھار گناہوں کی طرف ہو جائے تو اسے فطرتی عمل سمجھنا چاہیئے۔ اس لئے تقوی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن گناہوں میں لت پت ہونا اور اس سے نفرت نہ رکھنا قطعاً غلط ہے۔ بلکہ ہمیشہ گناہوں سے جان چھڑانے کی جدوجہد جاری رکھی جائے۔ اور صمیم قلب سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ اس اسم الغفور سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ رات و دن کے اکثر اوقات میں خصوصاً سحر کے وقت استغفار کو اپنے اوپر لازم کرے اور اس شخص کو بخشش و معافی دے جو اسے تکلیف و ایذاء پہنچائے۔

اللہ تعالی بابرکت اسم الغفور کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جس شخص کو کوئی بیماری ہو مثلاً بخار اور درد سر وغیرہ یا کوئی رنج و غم اس پر غالب ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس اسم پاک کو کاغذ پر لکھے اور اس کے نقش کو روٹی پر جذب کر کے اسے کھا لے حق تعالیٰ اسے شفا و نجات عطا فرمائے گا اور اگر کوئی شخص اس کو بہت پڑھتا رہے اس کے دل کی ظلمت جاتی رہے گی۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ جو شخص سجدہ کرے اور سجدہ میں یا رب اغفر لی اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ تین مرتبہ کہے حق تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا۔ جس شخص کو درد سر کا عارضہ لاحق ہو یا کسی اور بیماری اور غم میں مبتلا ہو تو اسے چاہئے کہ یا غفور کے مقطعات تین مرتبہ لکھ کر کھا لے انشاء اللہ شفا پائے گا۔* جوشخص اس اسم مبارک کابکثرت ورد رکھے گا انشاء اللہ اس کی تکلیفیں اور رنج وغم دور ہوجائیں گے اور مال واولا د میں برکت ہوگی ۔ *حدیث شریف میں آیاہے کہ جوسجدہ میں یَارَبِّ اغْفِرْلِیْ تین مرتبہ کہے گا تو اللہ تعالی اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادیں گے (فرض نما ز کے سجدہ کے علاوہ ) *اس کے علاوہ اس اسم مبارک کوتین بار لکھ کر بخار والے کو باند ھ دیا جائے تو بخار جاتا رہے ،انشاء اللہ ۔* اس کے ساتھ تین دوسرے اسمائے حسنیٰ ملا کر گیارہ بار یاسُبُّوحُ یا قُدُّوْسُ یا غَفُوْرُ یا وَدُوْدُ پڑھ کردشمن کے چہر ے پر تصور میں پھونک ماردے دشمن کی زبان بند ہوجائے گی اور وہ اس کے خلاف بول نہیں سکے گا۔ *جو اس اسم کو بکثرت پڑھے گا اس کے دل سے انشاء اللہ سیاہی گھٹے گی ۔جواسے بکثرت پڑھے گا بر ے اخلاق اور روحانی امراض اور ظاہر ی بیماریوں سے انشاء اللہ محفوظ رہے گا اور اس کے مال واولا د میں برکت ہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونے اور مغفرت طلب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔ ہم پھر حاضر ہونگے ایک نئے ٹا پک کے ساتھ ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment