اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا اسم الطیف کا معنی مفہوم فوائد

اللطیف

اللطیف اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اللطیف کا معنی ہے اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور باریک بیں کہ اس کے لئے دور و نزدیک یکساں ہیں ارشاد باری تعالی ہے یقیناً اللہ تعالی لطیف ہیں ۔ اللطیف وہ ذات جس نے اپنی لطف و عنایت اور عطف و محبت سے مخلوق کو مخلوق کے لئے مسخّر کردیا۔اللطیف وہ ذات جس کے علم نے ساری خفیہ و پوشیدہ چیزوں کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے،

اور وہ ذات جو چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی، اور مخفی چیزوں کا علم رکھتی ہے، وہ ذات اپنے مومن بندوں کے ساتھ لطف و کرم کرتی ہے، اور وہ اپنے لطف و کرم سے مومن بندوں کی ساری مصلحتوں کو ایسے راستوں کے ذریعے ان تک پہنچاتی ہے، جس کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔اللطیفوہ ذات جو بے پناہ نیکیاں، اور عظیم انعامات سے نوازنے والی ہے۔اللطیفوہ اپنے بندوں کے ساتھ لطیف یعنی نرمی کا معاملہ کرنے والا ہے۔{اللہ تعالی اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے والا ہے۔}(الشوریٰ: 19)وہ انہیں وہی چیز عطا کرتا ہے، جو ان کے دین و دنیا کے لئے بہتر ہو، اور انہیں اسی چیز سے محروم رکھتا ہے، جو ان کے دین و دنیا کے لئے بری ہو۔اللطیف اس کو کسی کی نگاہ نہیں دیکھ سکتی ہے، اور وہ سب کی نگاہوں کو اپنے احاطے میں رکھے ہوئے ہے۔ {اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی، اور وہ سب کی نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے۔ }(الانعام: 103)اللطیف وہ سارے خفیہ معاملات سے باخبر ہے، سارے دقیق کاموں کو اس نے اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔ رات اور دن میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنے بندوں کے لئے چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی سی بڑی مصلحت کی واقفیت رکھتا ہے، اور وہ ان کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ کرتا ہے۔اللطیف جب بھی وہ کسی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے، تو وہ اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ کرتا ہے۔ جب بھی کسی چیز کو مقدر کرتا ہے، تو اس میں بندوں کی معاونت کرتا ہے۔ جب بھی معاملات بگڑجاتے ہیں، اور راستے بند ہوجاتے ہیں، تو وہ ان کے لئے آسانیوں کا دروازہ کھول دیتا ہے، اور جب بھی دشواریاں بڑھ جاتی ہیں، تو وہ ان کے لئے سہولتیں پیدا کردیتا ہے۔

اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ امور دین و دنیا میں غور و فکر کرے اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلائے۔اللہ تعالی کے اس اسم الطیف کے فوائد و برکات بہت زیادہ ہیں ان میں چند یہ ہیں جس شخص کو اسباب معیشت مہیا نہ ہوں اور فقر و فاقہ میں مبتلا رہتا ہو، یا غربت میں کوئی غمخوار نہ ہو یا بیمار ہو اور کوئی اس کی تیمار داری نہ کرتا ہو یا اس کے لڑکی ہو کہ اس کا رشتہ وغیرہ نہ آتا ہو تو اسے چاہئے کہ پہلے اچھی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اس اسم پاک کو اپنے مقصد کی نیت کے ساتھ سو بار پڑھے انشاء اللہ حق تعالیٰ اس کی مشکل کو آسان کرے گا اسی طرح لڑکیوں کا نصیب کھلنے کے لئے، امراض سے صحت یابی کے لئے اور مہمات کی تکمیل کے لیے کسی خالی جگہ میں اس اسم کی دعا کی شرائط کے ساتھ سولہ ہزار تین سو اکتالیس مرتبہ پڑھا جائے انشاء اللہ مراد حاصل ہو گی۔* جوشخص (۱۲۹) مرتبہ یَالَطِیْفُ پڑھا کرے اس کے رزق میں انشاء اللہ برکت ہوگی اور اس کے سب کام بخوبی پورے ہوں گے * جوشخص فقروفاقہ ، دکھ ، بیماری ، تنہائی کسمپر سی یاکسی اور مصیبت میں گرفتار ہووہ اچھی طرح وضوکرکے دوگانہ پڑھے اور اپنے مقصدو مطلب کو دل میں رکھ کرسومرتبہ یہ اسم مبارک پڑھے ، مقصد یقیناًپورا ہوگا ۔ * جواس اسم کوروزانہ ایک سو تہتر(۱۷۳) بار پڑھے اس کو اسبابِ معیشت نصیب ہوں گے اور حاجت پوری ہوگی۔* بیٹیوں کے رشتے اورنصیب کھلنے اور امراض سے صحت کے لئے ہرروزتحےۃ الوضو( وضوکی نماز ) کے بعد سوبار اس کا پڑھنا مفید ہے۔ *جوایک سو ساٹھ بار اس اسم کو پڑھے اوراس کے ساتھ یہ آیت پڑھے ۔وہ خوف سے انشاء اللہ امن پائے گا ۔*

بیماریوں سے شفاکے لئے اس اسم کے ساتھ کوئی بھی آیتِ شفاء پڑھ لی جائے توفائدہ ہوگا۔*پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات کے لئے اس اسم کاورد کرنا مفید ہے* ہرطرح کی قضائے حاجات کے لئے ہرنماز کے بعد ایک سو انتیس (۱۲۹)بار پڑھنا مجرب ہے۔ اگر بہت بڑا کام پیش آگیا ہویابہت بڑی مصیبت آگئی ہواوراس سے جان چھڑانی ہوتو یالطیف کا ورد ایک مجلس میں سولہ ہزار چھ سواکتا لیس ( ۱۶۶۴۱) بار کیا جائے۔ اسم لطیف کے ابجد قمری کے اعتبار سے کل اعداد (۱۲۹) بنتے ہیں۔ انہیں اپنے آپ سے ضرب دیں تو (۱۲۹ ضرب ۱۲۹ = ۱۶۶۴۱) بنتے ہیں۔ اس ورد کا طریقہ یہ ہے کہ پڑھنے والا شخص ہر دفعہ (۱۲۹) بار یالطیف پڑھنے کے بعد ایک بار آیت پڑھے ۔بہتر یہ ہے کہ اس ورد کے لئے (۱۲۹) دانوں کی تسبیح بنالی جائے ۔ایک آدمی عمل نہ کرسکے تو تین چارآدمی مل کرعمل کرلیں ۔ *رزق کے حصول اورفراوانی کے لئے ہر نماز کے ساتھ ( ۱۲۹) بار یالطیف کا ذکر اور آخر میں ایک بار مذکورہ بالا آیت کی تلاوت نہایت نافع اورمفیدہے۔ *جوشخص کسی تنگی کا شکار ہوجائے یاگرفتار ہوگیا ہو، اس تنگی یاقیدسے نکلنے کے لئے (۱۲۹) بار یالطیف پڑھ کر آخر میں آیت مبارکہ پڑھے۔صبح وشام یہ ورد کرنے سے اللہ پاک اسے قید اورتنگی سے نکا ل دیں گے۔* اس اسم سے استخارہ بھی کیا جاتاہے اور بہت مجرب طریقہ ہے۔ عشاء کے بعد وورکعت نفل اداکر کے تھوڑی دیر استغفار کریں پھر کچھ دیر حضورانور ﷺ پر درود شریف بھیجیں ۔ اس کے بعد (۱۲۹) بار یا لطیف کاورد کریں اور پھر یہ آیت اور دعاء ایک بار پڑھیں :یَاھَادِیْ ‘ یالَطِیْفُ ‘ یاخَبِیْرُ ! اِھْدِنِیْ وَاَرِنِیْ وَخَبِّرْ نِیْ فِیْ مَنَامِیْ مَایَکُوْنُ مِنْ اَمْرِ۔۔۔ ( یہاں اپنے مقصد کا اظہار کریں جس کے لئے استخارہ کررہے ہیں) بِحَقِّ سِرِّکَ الْمَکْنُوْنِ ۔شفائے امراض : شفائے امراض کے لئے اس اسم کے دوعمل نہایت مجرب ومستند ہیں

۔ پہلا یہ کہ اسم اللطیف کے حروف کے ملفوظی اعداد کے مطابق ہرحرف کو ایک پلیٹ یاکسی اور برتن میں لکھیں ۔ الف ( ۱۱۱) بار لام ( ۱۴۲) بارطاء(۱۰) باریاء (۱۱) بارفاء ( ۸۱) بار ۔ یہ لکھنے کے بعد اس برتن پر اللطیف ( ۱۶۰)بار پڑھ کردم کریں (یالطیف نہیں پڑھنا ) اور یہ لکھائی پانی سے مٹاکر مریض کو پلادیں ۔ پرانی سے پرانی اور شدید سے شدید بیماری انشاء اللہ دفع ہوجائے گی ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ : اَللّٰہُ لَطِیْفٌ۷ بِعِبَادِہٖ کسی پاکیزہ برتن میں ( ۱۶) سولہ بار لکھ کراس پرسات سات بارآیاتِ شفاء (ان کا ذکر جادو جنات اور شفائے امراض کے ابواب میں موجود ہے) پڑھ کر دم کیا جائے ۔ پھر اس لکھائی کو آبِ زمزم ‘ آبِ نیل یا آبِ باراں سے دھو کر مریض کو پلایا جائے تو انشاء اللہ ہرقسم کی بیماری سے نجات مل جائے گی ۔ اگر ان تینوں میں سے کوئی بھی پانی میسر نہ ہو توعام پانی سے دھوکر پلا دیں۔ لیکن کفار کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا منرل واٹر نہ ہو۔ اس کی نحوست سے صحت مندلوگ تو بیمار ہوسکتے ہیں۔ بیماروں کے شفایاب ہونے کا کوئی امکا ن نہیں ہے۔* اگر کوئی آدمی طرح طرح کی مصیبتوں میں گھر گیا ہو اور ان سے نکلنے کے اسباب دور دور تک نظر نہ آتے ہوں تو بہتر یہ ہے کہ ہرنماز کے بعد وگرنہ کم ازکم صبح وشام ہزارہزار بار یالطیفُ کاورد کرکے اس کا ثواب حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ عالی کو ہدیہ کردیا کرے ۔ انشاء اللہ بڑی سے بڑی مصیبت دور اور بڑے سے بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اپنی تو فیق اور مالی استطاعت کے مطابق روزانہ کچھ صدقہ بھی دیتا رہے تو تأ ثیربہت تیز اور استجابت قریب تر ہو جائے گی ۔ یہ عمل مقروضوں ‘ مظلوموں اور مصیبت زدگان کے لئے اکسیر کاحکم رکھتا ہے

۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے لطف و کرم سے نوازیں اور روز قیامت ہم پر اپنی صفت لطف کے صدقے میں ہماری بخشش فرمائے ۔ آمین ۔دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔ کمنٹس میں آپ ہم تک اپنے سوالات بھی پہنچا سکتے ہیں۔ ہم پھر حاضر ہونگے ایک نئے ٹا پک کے ساتھ ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment