اسلامک وظائف

اللہ تعالی کانام المحصی کا معنی مفہوم فوائد وظائف

al mohsi

المحصی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المحصی کے معنی ہیں اپنے علم اور شمار میں رکھنے والا۔ وہ جو ان بے شمار اشیاء کا شمار رکھتا ہے جن کا شمار ممکن نہیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کے نزدیک تمام مخلوقات کی تعداد ظاہر ہے۔وہ ایک اللہ ہے ، وہی ہر شے کا خالق ہے، ذوات ہوں خواہ افعال سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔

ساری کائنات کا نظام تربیت اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ساری مخلوق کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف نشوونما دیتا اور اسے مرتبہ کمال تک پہنچاتا ہے، مربی کے یہی معنی ہیں، دہی مدبر ہے کہ دنیا کے قیامت تک ہونے والے کاموں کو اپنے حکم و امر او ر اپنے قضا ء قدر سے تدبیر فرماتا ہے۔ زمین و آسمان اللہ ہی کی ملک ہیں ہم سب عبد محض ہیں اور تمام تر اسی کی ملک ، ہم خود بھی اور ہماری ہر چیز بھی اس کی مملوک ہیں۔ زمین و آسمان کے یہ سارے کارخانے جو دنیا کے ہر طلسم سے بڑھ کر حیرت انگیز اور انسانی سائنس کے ہر شعبہ سے عجیب تر ہیں، بجائے خود اس کی دلیل ہیں کہ نہ یہ اپنے آپ وجود میں آسکتے ہیں نہ باقی رہ سکتے ہیں جب تک کوئی قادر مطلق ہستی ان کی صانع وخالق اور مربی ومدتر نہ ہو اور وہ نہیں مگر ایک اللہ تعالیٰ واحد قہار جل جلالہ و عز شانہ، ۔اَلْمُحْصِیْ(اپنے علم وشمارمیں رکھنے والا سورہ الحدید میں ارشاد باری تعالی ہے ’’اور وہ سینوں کے پوشیدہ راز تک جانتا ہے‘‘. جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے وہ اس کا جاننے والا ہے. سورۃ الحدید کی آیات اللہ تعالیٰ کے اسماءِ صفات اور اس کی معرفت کے بیان میں بہت اہم ہیں. ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم نہایت جامعیت کے ساتھ بیان ہوئی ہے. سب سے پہلے فرمایا’’اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے.‘‘پھر اگلی آیت میں اس وضاحت کے بعد کہ وہ صرف کلیات ہی کا عالم نہیں‘ جزئیات سے بھی پوری طرح واقف ہے‘ فرمایا’’اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے.‘‘اور اب یہاں فرمایا کہ یہی نہیں‘ بلکہ’’وہ تو اسے بھی جانتا ہے جو تمہارے سینوں میں مخفی ہے.‘‘اور آیت ۱۰ کے آخر میں آئے گا :’’اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے.‘‘اس طرح اس سورۂ مبارکہ کے آغاز میں علم خداوندی کا ذکر کتنے مختلف اسالیب اور کتنے مختلف ‘ dimensions سے کیا گیا ہے.

سورۂ تغابن میں اللہ تعالیٰ کے علم کو تین اسلوبوں سے ایک ہی آیت میں بیان کیا گیا ہے : ’’اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے جو سینوں میں پوشیدہ ہے‘‘.وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے‘تکوین و تخلیق سارے جہان کو پیدا کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ سارے جہان کا خالق ہے یعنی تمام عالم اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور آئندہ بھی ہر چیزوہی پیدا کرے گا ۔ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور عالم کا مادہ ( آگ ، پانی، ہوا، خاک جنھیں اربع عناصر کہتے ہیں ) سب اسی کی مخلوق ہے۔ چیزوں کے پیدا کرنے میں وہ کسی آلہ کا محتاج نہیں، نہ اس کو کسی مدد کی ضرورت ہے۔ جس چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کوکن (ہوجا) کہہ کر پیدا کر دیتا ہے۔ انسانوں کے کام اور عمل بھی سب اس کے مخلوق ہیں، ذوات ہوں خواہ افعال سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔مارنا ،جلانا، صحت دینا، بیمار ڈالنا، غنی کرنا، فقیر کرنا وغیرہ صفات جن کا تعلق مخلوق سے ہیں اور جنھیں صفات اضافیہ اور صفاتِ فعیلہ بھی کہتے ہیں۔ ان سب کو صفاتِ تکوین کی تفصیل سمجھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ رزاق ہے وہی تمام ذی روح کو رزق دینے والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی مخلوق کو وہی روزی دیتا ہے، وہی ہر چیز کی پرورش کرتا ہے۔ وہی ساری کائنات کی تربیت فرماتا اور ہر چیز کو آہستہ آہستہ بتدریج اس کے کمال مقدار تک پہنچاتا ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔ یعنی تمام عالم کا پرورش کرنے والا، حقیقۃ روزی پہنچانے والا وہی ہے۔ ملائکہ وغیرہ ہم وسیلے اور واسطے ہیں۔خداوند متعال کی حقیقی معرفت (کنہ ذات خداوند متعال) ، انسانی عقل کی وسعت و طاقت سے بالاتر ہے بلکہ ملائکہ مقربین اور انبیاء مرسلین بھی اس متحیر العقول وادی میں قدم نہیں رکھ سکے ۔منقول ہے:ذات پروردگار عقلوں سے اسی طرح پوشیدہ ہے جس طرح آنکھوں سے اوجھل ہے۔

جس طرح تم اس کی جستجو میں ہو اسی طرح ملآ اعلی کے مکین بھی اس کی تلاش میں ہیں۔کسی چیز کی حقیقت اور کنہ ذات تک رسائی کےلۓ اس پر احاطہ ضروری ہے چونکہ اللہ تعالی پر کسی کا احاطہ نہیں ہے بلکہ وہ’’ ہے لہذا کوئی بھی اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ۔رسول اعظم(ص) کا یہ فرمان اسی حقیقت کی طرف اشارہ کررہا ہے :خدایا تیری معرفت کا جیسا حق ہے تجھے، نہیں پہچان سکے.حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائاں اس کی تہہ تک پہنچ سکتی ہیں .اس کی ذات کے کمالات کی کوئی حد معین نہیں ہے۔جب اولیاۓ الہی اور کامل و اکمل ہستیاں حقیقتِ ذات کی شناخت سے اظہار عاجزی کرتے دکھائ دیتے ہیں تو عام انسانوں کا مقام معرفت واضح ہوجاتا ہے اللہ تعالی کے اس اسم المحصی سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خواہ حرکت کی حالت میں ہو یا سکون کی حالت میں یعنی کسی بھی لحظہ اور کسی بھی لمحہ غفلت میں مبتلا نہ وہ اور اس کا ایک ایک سانس یاد الٰہی کے ساتھ باہر آئے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ اہل جنت اس لمحہ پر حسرت و افسوس کریں گے جو یاد الٰہی کے بغیر گزرا ہو گا۔ نیز اس بات کی کوشش کرے کہ اپنے اعمال اور باطنی احوال پر مطلع رہے۔ اور اس اسم کا تقاضہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اسے جن نعمتوں سے نوازا ہے ان کو شمار کرتا رہے تاکہ وہ ان کا شکر ادا کرے کے خدا کے سامنے اپنے آپ کو عاجز و محتاج سمجھے اور اپنے گناہوں کو شمار کرے۔

ان کی وجہ سے شرمندہ و شرم سار و معذرت خواہ ہو اور ان ایام اور لمحات کو یاد کر کے حسرت و افسوس کرے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس کی یاد سے خالی رہے ہوں۔اللہ تعالی کے اس اسم المحصی کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص شب جمعہ میں اس اسم پاک کو ایک ہزار ایک مرتبہ پڑھ لیا کرے حق تعالیٰ اسے عذاب قبر اور عذاب قیامت سے محفوظ رکھے گا۔جوشخص روٹی کے بیس ٹکڑ وں پر روزانہ بیس مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھ کر دم کرے اور کھائے توانشاء اللہ مخلوق اس کے لئے مسخر ہو جائے گی۔* جوشب جمعہ میں ایک ہزار بار یہ اسم مبارک پڑھے گااللہ تعالی اسے قیامت کے حساب و کتاب سے نجا ت عطافرمائے گا۔ *جواس کا بکثرت ذکر کرے گا اسے مرتبہ نصیب ہوگا اور اگراسے اللہ تعالی کے نام کے ساتھ ملا کرپڑھ لیا جائے تو اسے بے شمار علوم عطا کیے جائیں گے ۔ *جو کوئی اس اسم کو بہت پڑھا کرے انشاء اللہ گناہ سے بچارہے ۔* جو کوئی دس بار یہ اسم پڑھا کرے اللہ تعالی کی حفاظت اور پناہ میں رہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے علم کے سمندروں میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرمائے ۔آمین

Leave a Comment