اسلامک وظائف

اللہ تعالی کانام الشہید کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

Al Shaheed

الشہید اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الشہید کے معنی گواہ ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الحج : 71)الشہید سے مراد حاضر گواہ ہے۔ جوہر چیز کی اطلاع رکھتا ہو۔ آوازیں خواہ مخفی ہوں یا بلند، وہ سنتا ہے۔ تمام ظاہری و باطنی اشیاء کو وہ دیکھتا ہے۔ وہ بڑی ہوں یا چھوٹی، باریک ہوں یا موٹی ہوں۔

جوہر چیز سے باخبر ہے۔ ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے اور ان پر گواہ بھی ہے۔ وہ تمام آوازیں سنتا ہے خواہ وہ ظاہر ہو ں یا پوشیدہ۔ وہ تمام موجودات کو دیکھتا ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ وہ بندوں کے اعمال کے مطابق ان کے حق میں یا ان کے خلاف گواہ ہے۔ جو قیامت کے دن بندوں کے حق میں اور ان کے بد اعمال کی وجہ سے ان کے خلاف گواہی دے گا۔ الشہید کا معنی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق گواہی دی کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے اور اس نے اپنی وحدانیت کی گواہی بھی دی۔ الشہید کا ایک معنی ہے حاضر اور ظاہر و باطن پر مطلع۔ قشیری کہتے ہیں کہ اہل معرفت اللہ سے اس کی ذات کے علاوہ اور کسی مونس کی خواہش نہیں کرتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ صرف اسی ذات پر خوش اور مطمئن رہتے ہیں کیونکہ صرف خدا ہی ان کے تمام احوال پر نظر رکھتا ہے اور وہی ان کے تمام امور و افعال کو جانتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کیا تمہارا پروردگار تمہارے لئے اس بات میں کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر مطلع ہے۔ بیشک آپ کا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپا رہے ہیں اور جنہیں ظاہر کر رہے ہیں۔ آسمان وزمین کی کوئی پوشیدہ چیز بھی ایسی نہیں جو روشن اور کھلی کتاب میں نہ ہو۔ ان کے سینے جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں آپ کا رب سب کچھ جانتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ تعالیٰ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقینا آنے والا ہے، وہ سب کچھ سننے والا ، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کی ر اہ میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں، ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وہ اس کے سوا پکار رہے ہیں، وہ زبردست اور ذی حکمت ہے۔

کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواہ ہونا کافی ہے وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اوراللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وہ زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں۔ کافروں کے کفر سے آپ رنجیدہ نہ ہوں، آخر ان سب کا لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔ یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے والا ، زبردست غالب ہی مہربان۔ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے ا س کی تابعداری کریں (یقین مانو) کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر ایک عمل سے با خبر ہے۔ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تعالیٰ تو ہر ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے والا ہے۔وہ آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہےاور جو کچھ تم چھپائو اور جو ظاہر کرو وہ (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے والا ہے۔ [یعنی وہ انسان کے صرف ان اعمال ہی سے واقف نہیں ہے جو لوگوں کے علم میں آجاتے ہیں بلکہ ان اعمال کوبھی جانتا ہے جو سب سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ مزید برآں وہ محض اعمال کی ظاہری شکل ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی جانتا کہ انسان کے ہر عمل کے پیچھے کیا ارادہ اور کیا مقصد کارفرما تھا اور جو کچھ اس نے کیا کس نیت سے کیا اور کیا سمجھتے ہوئے کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر انسان غور کرتے تو اسے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انصاف صرف آخرت ہی میں ہوسکتا ہے اور صرف خدا ہی کی عدالت میں صحیح انصاف ہونا ممکن ہے انسان کی عقل خود یہ تقاضا کرتی ہے کہ آدمی کو اس کے ہر جرم کی سزا ملنی چاہیے۔

لیکن آخر یہ بات کون نہیں جانتا کہ دنیا میں اکثر و بیشتر جرائم یا تو چھپے رہ جاتے ہیں یا ان کے لیے کافی شہادت بہم نہ پہنچنے کی وجہ سے مجرم چھوٹ جاتا ہے یا جرم کھل بھی جاتا ہے تو مجرم اتنا بااثر اور طاقتور ہو تا ہے کہ اسے سزا نہیں دی جاسکتی ۔ پھر انسان کی عقل یہ بھی چاہتی ہے کہ آدمی کو محض اس بنا پر سزا نہیں ملنی چاہیے کہ اس کے فعل کی صورت ایک مجرمانہ فعل کی سی ہے، بلکہ یہ تحقیق ہو نا چاہیے کہ جو فعل اس نے کیا ہے بالا رادہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اس کے ارتکاب کے وقت وہ ایک ذمہ دار عامل کی حیثیت سے کام کر رہا تھا، اس کی نیت فی الواقع ارتکاب جرم ہی کی تھی اور وہ جانتا تھا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ جرم ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الشہید سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اس بات کا دھیان رکھے کہ اس کا پروردگار اس کو کسی ایسی جگہ نہ دیکھے جو اس کے لئے پروردگار کی طرف سے ممنوع ہے یعنی برائی کی جگہ اور اس کو کسی بھی ایسی جگہ سے غیر موجود نہ دیکھے جہاں اس کو موجود رہنے کا اس نے حکم دیا ہے (یعنی بھلائی کی جگہ) اور اس یقین کی بناء پر کہ اللہ تعالیٰ میرے حال کو مجھ سے اچھی طرح جانتا ہے اور وہ میری حالت کو بخوبی دیکھتا ہے، غیراللہ کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے اور غیراللہ کی طرف بنظر امید رغبت و میلان رکھنے سے باز رہے نیز بندہ پر اس اسم کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ صرف سچائی کا گواہ بنے اور سچائی ہی کی رعایت کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم الشہید کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کسی شخص کا لڑکا نافرمان ہو یا اس کی لڑکی غیر صالح ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے اور اس کا منہ آسمان کی طرف اٹھوا کر یا شہید اکیس بار پڑھے حق تعالیٰ اسے فرمانبردار اور صالح بنائے گا۔

جس شخص کی بیوی یا اولاد نافرمان ہووہ صبح کے وقت اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر (۲۱) مرتبہ یَاشَھِیْدُپڑھ کر دم کر ے انشاء اللہ فرما نبردار ہوجائے گی ۔ اگر ماتھے پر ہا تھ رکھ کر نہ پڑھا جا سکے تو علیحدگی میں ایک ہزار با رپڑھ کر تصور میں اس کے چہرے پر دَم کریں ۔*جوشخص اس اسم مبارک کی کثرت سے تلاوت کرے گا، اس کا دل باطل سے متنفر ہوکر حق کی جانب مائل ہو گا۔* اہل مراتب اور شہادت کے متمنی حضرات کیلئے یہ اسم بہت مناسب اور مفید ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قیامت کے دن سرخرو فرمائے اورہمیں ہمارے گناہوں کے شر سے محفوظ فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment