اسلامک معلومات اسلامک واقعات

اللہ تعالی دلوں پر مہر کب اور کیوں لگاتے ہیں؟

ہم نے یہ قرآن پاک میں پڑھا ہے کہ اللہ دلوں پر مہر لگا دیتا ہے یعنی ہدایت کا راستہ بند کر دیتا ہے اور جن کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے وہ کبھی ایمان نہیں لاتے-ہمارے زہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اللہ تعالی ایسا کیوں کرتے ہیں یعنی کیا وجہ ہے؟ اگر اللہ تعالی مہر لگا دیں گے تو بندہ ایمان ہی نہیں لائے گا-اللہ تعالی نے قرآن میں اس کا جواب دیا ہے-جو شخص ہدایت کے اوپر گمراہی کو ترجیح دے تو اللہ اس شخص کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں-

گمراہی کو ترجیح دینا یعنی اللہ تعالی کی نعوذباللہ آیات کو جھٹلانا-جب ایک بندہ مسلسل گناہ کرتا رہے اور مسلسل توحید سے انکار کریں اور صرف انکار نا کرے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرے اور دین کی راہ میں روڑے اٹکائے تو اللہ تعالی اس انسان کے دل کو سیاہ کر دیتے ہیں مہر لگا دیتے ہیں-پھر آپ اس انسان کے ساتھ جتنا مرضی سر کھپا لیں وہ نہیں سنے گا-جو کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیت پہنچاتے تھے اور ایمان والوں کو پریشان کرتے تھے ان کے راستوں میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کرتے تھے اور غلط غلط بہتان باندھتے تھے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی-

اللہ تعالی فورا ہی مہر نہیں لگا دیتا بلکہ وقت دیتا ہے کہ شاید یہ بندہ درست سمت چل پڑے اللہ اس کی رسی کو کھینچتا چلا جاتا ہے لیکن جب وہ بندہ اپنی حرکتوں سے باز ہی نہیں آتا اور سرے سے ہی اللہ کو جھٹلاتا رہتا ہے تو اللہ بھی اس بندے کو جھٹلا دیتا ہے-اور اس کے لیے سزا مختص کر دیتا ہے-اور ایسے لوگوں کے لیے نا دنیا میں کوئی کامیابی ہے نا آخرت میں-

Leave a Comment