اسلامک وظائف

اللہ تعالی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے

ہمارے لئے دن میں بے شمار مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں ہم درود شریف پڑھ سکتے ہیں۔ سب سے پہلا موقع تو خود نماز کا موقع ہے، اس وقت تک نماز مکمل نہیں ہوتی جب تک ہم اس میں درود شریف نہیں پڑھتے۔ پھر اسی طرح عام نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں بھی درود شریف پڑھا جاتا ہے، پھر اذان کے بعد درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جب مؤذن کی آواز سنو” یعنی اذان سنو )تو وہی کہو جو موذن کہتا ہے (یعنی اذان کا جواب دو) پھر مجھ پر درود پڑھو (یعنی اذان کا جواب دینے کے بعد جب اذان ختم ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے) کیونکہ مجھ پر درود پڑھنے والوں پر اللہ تعالی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اس کے بعد میرے لیے اللہ سے وسیلہ مانگو، جنت میں ایک مقام ہے جو جنتیوں میں سے صرف کسی ایک ہی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ جنتی میں ہی ہوں گا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقام ہے) اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جس نے اللہ سے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی ، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی یعنی قیامت کے دن پھر میں اس کے لئے شفاعت کروں گا”۔

نمازوں کے علاوہ خاص مواقع کے علاوہ دن میں جب بھی آپ چاہیں درود شریف پڑھ سکتے ہیں لیکن عام دنوں کے علاوہ جمعہ کے دن خصوصی طور پر درود شریف پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ آپ نے اس کا خود حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے روز کثرت سے مجھ پر درود پڑھو ،جو آدمی جمعہ کے روز مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دعا سے پہلے ،دعا کے بعد ،پھر جہاں کہیں آپ کا نام لیا جا رہا ہو یا لکھا جا رہا ہو یا کسی بھی طرح آپ کا ذکر آئے وہاں آپ کے لئے درود پڑھنا، اسی طرح مسجد میں داخل ہوتے وقت درود شریف پڑھنا ،مسجد سے نکلتے وقت درود شریف پڑھنا، ہر نماز سے فارغ ہونے کے بعد درود شریف پڑھنا، یعنی ایک تو نماز کے اندر ہے لیکن نماز سے فراغت کے بعد، پھر اسی طرح ہر مجلس میں آپ پر درود پڑھنا ضروری ہے، پھر اسی طرح صبح شام کے اوقات میں ،یہ تمام مواقع ایسے مواقع ہیں جس میں آپ درود شریف پڑھ سکتے ہیں اور موقع کوئی ہو یا نہ ہو دن یا رات کی گھڑیوں میں سے جس گھڑی میں آپ چاہے جب چاہے چلتے پھرتے، کام کاج کرتے ،آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر سکتے ہیں، آپ کے لئے درود اور سلام پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کریں جو کثرت سے آپ پر درود بھیجتے ہیں۔

درود شریف پڑھنے والوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی ۔آپ نے فرمایا:” جس نے دس مرتبہ صبح و شام مجھ پر درود بھیجا اسے قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوگی”۔ اور یہ کہ زیادہ وقت نہ ملے تو دس دفعہ درود شریف پڑھنا آخر کیا مشکل ہے کتنی دیر لگ جائے گی لیکن اس کا اجرو ثواب اور اس کا فائدہ کس قدر ہے۔

درود شریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قربت کا ذریعہ بھی ہے۔ حدیث سے بات ہوئی آتا ہے “قیامت کے روز مجھ سے سب سے زیادہ قریب لوگ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والے تھے “۔یعنی قیامت کے دن آپ کا قرب بھی درود شریف کی وجہ سے نصیب ہوگا اور اسی طرح اگر انسان کوئی اور دعانہ بھی کرسکے، غم دکھ اور تکلیف کی حالت میں صرف درود شریف بھی پڑھتا رہے تو اسے ساری دعاؤں سے کفایت کر جائے گا۔

ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں (یعنی بہت زیادہ آپ پر درود بھیجتا ہوں) اپنی دعاؤں میں سے کتنا وقت میں درود کے لیے وقف کروں (یعنی جتنی میں دعائیں مانگتا ہوں میں سے کتنے وقت کے لئے درود پڑھا کروں؟) یعنی آپ پر دعائے رحمت بھیجو ں یا آپ کے لیے دعائے رحمت کروں؟ درود کا مطلب یہی ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا تو چاہے، کہتا ہے میں نے عرض کیا ایک چوتھائی وقت صحیح ہے؟ آپ نے فرمایا جتنا تو چاہے لیکن اگر اس سے زیادہ کرلے تو تیرے ہی لیے بہتر ہے، میں نے عرض کیا آدھا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا جتنا تو چاہے لیکن اگر اس سے زیادہ کر دے تو یہ تیرے ہی لیے بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا جتنا تو چاہے لیکن اگر زیادہ کرے تو تیرے ہی لیے بہتر ہے ، میں نے عرض کیا میں اپنی ساری دعا کا وقت درودکے لئے وقف کرتا ہوں یعنی جتنی دیر میں اور دعائیں مانگتا ہوں سارا وقت صرف آپ کے اوپر درود بھیجنے کے لیے وقف کر دیتا ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ تیرے سارے دکھوں اور غموں کے لیے کافی ہوگا اور تیرے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا”۔

گویا اگر کوئی شخص دعا نہ بھی مانگ سکے بعض اوقات انسان کی ڈپریشن ،دکھ، تکلیف اور پریشانی کی وجہ سے ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے اسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا اسے سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ مانگے بھی تو کیا مانگے۔ بعض مسائل زندگی میں ایسے ہوتے ہیں بعض پریشانیاں زندگی میں اس طرح انسان پرآ پڑ تی ہیں کہ انسان ہوش و حواس کھو نے لگتا ہے۔ ایسے میں اسے کہا یاد رہے گا کہ وہ کیا مانگے یا نہ مانگے تو ایسی صورت میں درود شریف اس کے لیے سارے غموں دکھوں اور تکلیفوں سے نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا خود ہمارے اپنے لئے باعث سعادت ہے باعث رحمت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے محتاج نہیں ،مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب دنیا کے گوشے گوشے میں آپ کا ذکر خیر ہورہا ہے، دن رات اذانوں میں نمازوں میں جہاں جہاں آپ کا نام لیا جائے لیکن اگر ہم درود شریف پڑھتے ہیں تو اس کا فائدہ خود ہم ہی کو پہنچتا ہے ہمارے اپنے لیے باعث رحمت ہے، تمام غموں دکھوں تکلیفوں اور مصیبتوں اور پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ ہے، درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا ،ایک بار درود پڑھنے کا اجر و ثواب اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا یعنی دس دس رحمتیں نہیں دس گناہوں کی بخشش بھی ہوگی اور دس درجے بھی بلند فرمائے گا یعنی درجات کی بلندی بھی”۔

Leave a Comment