اسلامک معلومات

اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ اصول دیتا ہے۔ جن سے ہم ایک سچے پیغمبر کو جان سکتے ہیں

اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ اصول دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ اصول دیتا ہے۔ جن سے ہم ایک سچے پیغمبر کو جان سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر کی رسالت کے ایک حصے میں پیش گوئی
پائی جاتی ہے۔ انہی اصولوں کو حضرت موسیٰ نے اپنایا۔

اُس نے بنی اسرائیل کے لیے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کیں۔ اگر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے تو اُن پیغام کو سچا ہونا لازمی تھا۔ ان پیش گوئیوں کا تعلق بنی اسرائیل کی برکات اور لعنتیوں سے تھا۔

آپ ان تمام برکات اور لعنتوں کو مکمل طور پر پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں میں نے چند ایک کو مثال کے طور پر پیش کی ہیں۔

حضرت موسیٰ کی برکات

حضرت موسیٰ کی شاندار برکات کا بیان اس طرح شروع ہوتا ہے۔ کی اگر بنی اسرائیل دس احکام کی پیروی کریں گے۔ تو پھر وہ ان برکات کو حاصل کرسکیں گے۔ یہ برکات دوسری قوموں کے لیے ایک نشان ہوگا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جان سکیں اور اُس کو قبول کرسکیں۔ جس طرح یہ لکھا ے۔

اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی’.

 

لعنت برکات کے برعکس

تاہم اگر وہ اُن دس احکام کی پیروی نہیں کریں گے۔ تو وہ برکات کے بدلے لعنتیں حاصل کریں گے۔ لعنت برکات کے برعکس ملیں گی۔ پھر ان لعنتوں سے بھی دوسری قوموں میں نشان ہوگا۔

اور اُن سب قوموں میں جہاں جہاں خداوند تجھ کا پہنچائے گا تو باعث حیرت اور ضربُ المثل اور انگشت نُما بنے گا۔

یہ لعنتیں بنی اسرائیل کے لیے ہونگی۔

اور وہ تجھ پر اور تیری اولاد پر سد نشان اور اچنبھے کے طور پر رہیں گی۔

اور اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ سب سے بُری لعنت یہ ہوگی جو دوسروں کی طرف سے آئیں گی۔

 

قوم کی زبان

خداوند دور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا جیسے عُقاب ٹُوٹ کر آتا ہے۔ اُس قوم کی زبان کو تو نہیں سمجھے گا۔  اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہوں گے .جو نہ بُڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر ترس کھائیں گے۔

 

اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لئے اناج یا مے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں۔ 52 اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کئے رہیں گے جب تک تیری اُونچی اُونچی فصیلیں جن پر تیرا بھروسا ہوگا گر نہ جائیں۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے۔ جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے۔

استثنا 28: 49-52

اور یہ سب سے بدترین ہوگی۔

تمام قوموں میں پراگندہ کرے

تب یہ ہوگا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کر بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تم کو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہوگا اور تم اُس ملک سے اُکھاڑدئے جاو گے .جہاں تو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے۔  خداوند تجھ کوزمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا۔ وہاں تو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جن کو تو یا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا۔

اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام ملے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا

یہ لعنتوں اور برکتوں کے لیے عہد قائم کیا گیا تھا۔

Leave a Comment