اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام النور کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

وظائف

النور اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔۔۔النور کے معنی ہیں روشنی والاقرآن میں ارشاد ہے۔۔۔الله نور ہے آسمانوں اور زمینوں کا وہ آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والا ہے۔ اس نے عارفین کے دل معرفت اور ایمان کے ساتھ منور فرمادیے اور ان کے دلوں کو ہدایت کے نور سے روشن فرمایا۔ اس نے آسمان اور زمین کو اپنے پیدا کیے ہوئے انوار سے روشن کر رکھا ہے۔

اس کا پرد ہ بھی نور ہے اگر وہ اسے ہٹادے تو اس کے چہرۂ انور کے جلووں سے تمام مخلوق فنا ہو جائے۔النور کے معنی ہیں سر تا پا نور اور نور بخشنے والا۔وہ جو اپنے نور سے تمام کائنات کو منور کیے ہوئے ہے اور اپنے بندوں کے چہروں، ذہنوں اور دلوں کو منور کرتا ہے۔آسمان کو ستاروں کے ساتھ، زمین کو انبیاء و علماء وغیرہ کے ذریعہ اور مسلمانوں کے قلوب کو نور معرفت و طاعت کے ذریعہ روشن کرنے والا ۔اس کی توحید کے دلائل بالکل روشن و عیاں ہیں۔ (الزجاج) وہی ہر چیز کو ظاہر کرنے والا ہے۔ (الغزالی) کیونکہ اس کے بتائے بغیر کوئی بھی کسی چیز کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس کا ادراک نہیں کرسکتا۔ اگر وہ آسانی نہ کرے تو کوئی بھی اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہ ہو۔ عقل اور حواس خمسہ سب اس کے پیدا کردہ اور عطا کردہ ہیں۔بعض مفسرین کے نزدیک اللّٰہ تعالیٰ کے نور سے مؤمن کے دل کی وہ نورانیت مراد ہے جس سے وہ ہدایت پاتا اور راہ یاب ہوتا ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کے اس نور کی مثال ہے جو اس نے مؤمن کو عطا فرمایا۔ بعض مفسرین نے اس نور سے قرآن مراد لیا اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس نور سے مراد سیّد ِکائنات، افضلِ موجودات، رحمت ِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ۔اہلِ علم نے سورہ نور کی آیت میں بیان کی گئی مثال کے کئی معنی بیان فرمائے ہیں،ان میں سے دو معنی یہ ہیں :(1) نور سے مراد ہدایت ہے اور معنی یہ ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہدایت انتہائی ظہور میں ہے کہ عالَمِ محسوسات میں اس کی تشبیہ ایسے روشن دان سے ہو سکتی ہے جس میں صاف شفاف فانوس ہو، اس فانوس میں ایسا چراغ ہو جو نہایت ہی بہتر اور پاک صاف زیتون سے روشن ہوتا کہ اس کی روشنی نہایت اعلیٰ اور صاف ہو ۔

(2) یہ سید المرسلین، محمد ِمصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نورکی مثال ہے۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے حضرت کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا کہ اس آیت کے معنی بیان کرو۔ انہوں نے فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مثال بیان فرمائی ۔ روشندان (یعنی طاق) تو حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سینہ شریف ہے اور فانوس، قلبِ مبارک اور چراغ، نبوت ہے جوکہ شجر ِنبوت سے روشن ہے اور اس نورِ محمدی کی روشنی کمالِ ظہور میں اس مرتبہ پر ہے کہ اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے نبی ہونے کا بیان بھی نہ فرمائیں جب بھی خَلْق پر ظاہر ہوجائے ۔اور حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ روشندان تو دو عالَم کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سینہ مبارک ہے اور فانوس قلب ِاَطہر اور چراغ وہ نور جو اللّٰہ تعالیٰ نے اس میں رکھا کہ شرقی ہے نہ غربی نہ یہودی، نہ نصرانی، ایک شجرئہ مبارکہ سے روشن ہے، وہ شجر ہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے دل کے نور پر نورِ محمدی، نور پر نور ہے۔حضرت محمد بن کعب قرظی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ روشن دان اور فانوس تو حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور چراغ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور شجرۂ مبارکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کہ اکثر انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کی نسل سے ہیں اور شرقی وغربی نہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہ یہودی تھے نہ عیسائی، کیونکہ یہود ی مغرب کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور عیسائی مشرق کی طرف۔ قریب ہے کہ محمد ِمصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مَحاسِن و کمالات نزولِ وحی سے پہلے ہی مخلوق پر ظاہر ہو جائیں۔

نور پر نور یہ کہ نبی کی نسل سے نبی ہیں اور نور ِمحمدی نورِ ابراہیمی پر ہے ۔ (تفسیر خازن، النور، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۳۵۴، چشتی) اس مثال کی تشریح میں ان کے علاوہ اور بھی بہت اَقوال ہیں ۔بہت سے مسلمان یہ خیال کرتے ہیں کہ “” میرا رب نور ہے “” جب کہ اللہ پاک نے اس آیت میں انسانوں کو اللہ پاک کے لیے مثالیں گھڑنے سے منع فرمایا ہے۔۔۔۔ اللہ پاک نور ہے یا نہیں ۔۔۔ یہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔ اور نہ اللہ پاک نے انسانوں کو بتایا ہے کہ وہ نور ہے۔۔۔۔ چنانچہ اس آیت پر عمل کرتے ہوئے اللہ پاک کو نور نہ کہے اور نہ ہی اللہ پاک کے لیے مثالیں گھڑیں ۔۔۔ اللہ پاک نے قرآن میں نور کے ساتھ مثال دی مگر وہ ایک مثال ہے اور اللہ پاک خود کے لیے کہہ سکتا ہے مگر اللہ پاک نے انسانوں کو مثالیں گھڑنے سے منع فرمایا ہے ۔اس اعتراض کا جواب : اس آیت کریمہ سے غلط مفہوم اخذ کیا گیاہے ۔ اللہ کےلیئے مثال گھڑنا الگ چیز ہے اوراس کی اپنی بیان کردہ بات تسلیم کرنا دوسری چیز ہے ۔ یہ ہم نے مثال نہیں گھڑی اللہ کی بیان کردہ حقیقت ہے ۔ ان حقائق سے کوئی مسلمان کیسے انکار کرسکتا ہے ؟ اس اعتراض میں سراسر دین سے لاعلمی اور جہالت ہے ۔ ہمیں اللہ کےلیے خودساختہ مثالوں اور تشبیہوں سے روکا گیا ہے نہ کہ ان مثالوں سے جو اللہ نے اپنے لیئے خود بیان کی ہیں چنانچہ ارشادِ باری ہے، بری مثال تو ان لوگوں کے لئے ہےجو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اللہ کے لئے تو بلندتر مثال ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔اللہ تو نور ہے لیکن اس نور کو ہم کسی اور نور سےتشبیہ نہیں دے سکتے اورنہ کسی کے نور کو اللہ کے نور سے تشبیہ دے سکتے ہیں ۔نور چار قسم کا ہوتا ہے(1) مخلوق کانور جیسے فرشتے، روشن چیزوں کا نور جیسے سورج، چاند، ستاروں اور چراغ یا برقی قمقموں کا نور۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔

ایسے نور کے بغیر انسان ظاہری چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا ۔(2) آنکھ کا نور جس کی عدم موجودگی میں روشن چیزوں کا نور بے کار ہوتا ہے۔ سورج نکلا ہوا ہو تب بھی آنکھ کے اندھے کو کوئی چیز نہیں آتی ۔(4) وحی یا علم دین کانور جس کی عدم موجودگی میں انسان ہدایت کے نور سے استفادہ نہیں کرسکتا جس طرح ایک اندھا سورج کی روشنی میں بھی ظاہری اشیاء کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح دل کے اندھے کے لئے تعلیمات الٰہیہ بے کار ثابت ہوتی ہیں ۔(4) خالق کانور جسے اللہ نے اپنی ذات کی طرف منسوب کیا۔جیسا کہ ابھی آیتِ قرآنی سے واضح ہے ۔ مزید تائید رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان سے بھی ہوجاتی ہے۔ : حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں ۔ جب اللہ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی فرما دیا کہ’’ اللہ نور ہے‘‘ تو پھر اس سے بڑھ کر مزید کس شہادت کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے اللہ تعالی کے اس اسم النور سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ایمان و عرفان کے نور سے اپنی ذات کو روشن و منور کرے* اللہ تعالی کے اس اسم النور کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جوشخص شبِ جمعہ میں سات مرتبہ سورۃ نور اور ایک ہزار ایک مرتبہ اس اسم مبارک کوپڑھا کرے توانشاء اللہ اسکادل نورِالٰہی سے منور ہوجائے گا ۔* جو شخص فرض نماز کے بعد گیار ہ بار پڑھ کر دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کے ناخنوں پردم کرکے وہ ناخن آنکھوں پر مل لے گا، اللہ تعالی اس کی بصارت کی کمزوری دور فرماد یں گے ۔

جوکوئی اس اسم کو یا نَافِعُ کے ساتھ ملا کر پڑھے اور مریض پردم کرے تو انشاء اللہ شفاء ہوگی ۔* جو صبح کے وقت اس کے ذکر کو لازم پکڑے گا اس کا دل روشن ہوگا۔* جوکوئی اندھیر ے کمرے میں آنکھوں کو بند کرکے اس اسم کا اس قدرذکر کرے کہ حال طاری ہوجائے وہ عجیب وغریب انوار کا مشاہدہ کرے گا اور اس کا دل نور سے بھر جائے گا۔ *یہ اسم اہل بصیرت ومکا شفات کیلئے بہت مناسب ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت النور کے صدقے میں ایمان و ہدایت کی روشنی عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment