اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام المغنی کا مجرب عمل وظائف

nnn

المغنی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المغنی کے معنی ہیں تونگر بنانے والا۔جو اپنے بندوں کو خود کفالت دیتا ہے۔ جس کو چاہے بے پروا کرنے والا۔ جس کو چاہے رزق دے، نعمتوں سے نوازے اور دوسروں کی محتاجی سے بچائے۔”المغنی” وہ لوگوں کو ان کی ضرورتوں اور محتاجگی سے بے نیاز رکھتا ہے، وہ اپنی نوازشوں میں کمی نہیں کرتا ہے، اور نہ اس کے بندے اس کے علاوہ کسی اور کے محتاج ہیں۔

جیساکہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے کہ ۔اگر تم میں سے پہلا اور آخری شخص، انسان اور جنات ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوجائیں، اور مجھ سے مانگیں، اور میں ان میں سے ہر ایک کی مراد پوری کردوں، تو اس سے میرے خزانوں میں بالکل اسی قدر کمی ہوگی، جس قدر سوئی کو سمندر میں ڈالکر نکالنے سے ہوتی ہے (اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے) “المغنی” اپنے بعض بندوں کو ہدایت اور دلوں کے اخلاص سے بے نیاز کرتا ہے، بایں معنی کہ انہیں معرفت و محبت اور تعظیم و تکریم کی نعمت سے نوازتا ہے، اور دنیوی سدھار سے زیادہ کامل و مکمل چیزوں سے انہیں بے نیاز بنادیتا ہے۔اے وہ ذات جس کی نوازشوں سے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ہمیں حرام سے بچاتے ہوئے حلال روزی سے بے نیاز بنادے، یقیناً تو خود بے نیاز ہے اور بے نیازی عطا کرنے والا ہے۔اللہ تعالی کے اسی نام کی طرح صمد کا معنی بھی بے نیاز کے ہیں جس کے عربی میں بہت سارے معانی کئے گئے ہیں 1) اونچی اور پتھر یلی زمین یا چٹان کے ہیں جو کسی ایسے علاقے میں ہو جہاں سیلاب آتا ہو ااور پانی اسے بلندی کی وجہ سے نہ چھو سکتا ہو اور لوگ اس پر چڑھ کر اپنی جانوں کو محفوظ کرلیں ۔(2) ایسا سردار جو بزرگی اور شرافت میں انتہائی کمال معراج پر ہو۔(3) ایسا سردار جس کی موجودگی کے بغیر مجلس میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکتا ہو ۔(4) ایسا سردار کہ جس پر کوئی اور سردار نہ ہو۔(5) ایسی جائے پناہ جو وقت مصیبت بلا تخصیص سب کو اپنے دامن میں جگہ دے۔(6) اس مرجع و مرکز کا نام جہاں ہر شخص دوڑ کرجائے۔(7) جس سے کوئی بے نیاز نہ ہو۔(8) وہ بہادر جو میدان جنگ میں لڑرہا ہو مگر اسے بھوک وپیاس کا غلبہ نہ ہو۔

(9) اگر یہ لفظ مونث میں یعنی صمد کے بعد کے ساتھ لکھا جائے تو اُس کے معنی وہ اونٹنی جس کے حمل نہ رہا ہو ۔(فیروز اللغات)ان معانی کے علاوہ حضرت ابن عباسؓ نے صمد کے کچھ اور معانی اور اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں (1)صمد وہ سردار ہے جو اپنی بزرگی اور سرداری میں درجہ کمال پر ہو۔(2) وہ بڑا جس کی بڑائی میں کوئی نقص نہ ہو۔(3) وہ بردبار جسکی بُردباری بدرجہ اتم ہو۔(4) وہ بے پرواہ وبے نیاز جسکی بے پروائی اور بے نیازی کی کوئی حد نہ ہو ۔(5) وہ زبردست جس کے جبروت کی کوئی انتہانہ ہو۔(6) ایساحکیم جس کی دانائی کمال پر ہو۔(7) وہ صاحبِ علم جس کا علم اپنی اِنتہا پر ہو۔(8) یعنی وہ جو بڑائی اور بزرگی کی ہر صنف میں کامل ہو۔(کتاب الاسماء والصفات) جب صحابہ کرامؓ سے پوچھا گیا تو اس لفظ کی تشریح یوں بیان کی اصحاب صُفہ میں سے ایک مشہور تربیت یافتہ حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں ’’کہ وہ ذات کہ جس کے اندر معدہ وغیرہ یا جسمانی اعضاء نہ ہوں‘‘۔حضرت بریدہؓ فرماتے ہیں کہ ’’وہ ذات جو خوف نہ کھاتی ہو‘‘۔حضرت عکرمہؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’جس سے کوئی دوسری چیز نہ نکلے‘ ‘ قتادہؓ نے کہا کہ ’’وہ ذات جو باقی ہے فنا نہ ہو‘‘شعبیؓ کہتے ہیں کہ ’’وہ جو کھاتا پیتا نہ ہو‘‘۔یہ اﷲ کے99 صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اتنی صفات والے صرف ایک اﷲکو مانتے ہیں جو ان کا ایمان ہے یعنی ایمان بااﷲ۔قرآن حکیم کے مطابق وہ اپنے بندوں کے اس قدر قریب ہے کہ جیسے جسم میں شہ رگ۔(سورہ ق آیت16 ) اس نے اپنے بندوں سے اتنا قریبی رابطہ رکھا ہو اہے کہ روزمرہ کی انفرادی زندگی میں ہر چھوٹے بڑے معاملوں پر انہیں روک ٹوک کرتا ہے ،قدم قدم پر ہدایات دیتا ہے ۔

عدل،احسان اور اقرباء سے محبت کی نصیحت کرتا ہے نفاق،مفاد پرستی اور بزدلی سے روکتا ہے۔ کہیں وہ آدابِ مجلس سکھاتا ہے تو کہیں رضاعت اور میراث کے معاملات میں انہیں پریشانیوں سے نکالتا ہے وہ دُکھ درد میں اپنے بندوں کا یارو مددگار ہوتا ہے بس ایسے اﷲ کو ماننے سے جو اعتماد،یقین اور پُختہ شعور حاصل ہوتاہے وہ کسی اور سے نہیں ملتا۔مسلمانوں کے نزدیک اﷲ کو ماننا بنیادی عقائد میں سرفہرست ہے اِن صفات کے مانے بغیر کوئی بھی شخص مومن نہیں ہوسکتا اللہ تعالی کے اس اسم المغنی سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ماسو اللہ سے مکمل استغناء اور بے پرواہی برتے اور خدا کے علاوہ کسی کو حاجت روا قرار نہ دے۔* اللہ تعالی کے اس اسم المغنی کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جوشخص اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درودشریف پڑھ کر گیارہ سوگیارہ مرتبہ وظیفہ کی طرح یہ اسم مبارک پڑھے اللہ تعالی اسکوظاہر ی وباطنی غناء عطا فرمائیں گے۔ صبح کی نماز کے بعد پڑھے یاعشاء کی نماز کے بعد پڑھے اس کے ساتھ سورۃ مزمل بھی تلاوت کرے ۔* اگر اس اسم مبارک کوبیوی سے صحبت سے پیشتر پڑھے تو بیوی کو اس سے محبت پیدا ہوجائے گی ۔* برے سے برے مالی حالات میں جوشخص عشاء کے فرضوں اور سنتوں کے بعد وتر پڑھنے سے پہلے ایک بار سورۃ المزمل اور گیارہ سو بار یامغنی پڑھے گا۔ اللہ تعالی غیب سے اس کی حلال اور وافرروزی کا انتظام فرمائیں گے۔ اس میں سورۃ المزمل کے پانچ مقامات کاسات سات بار تکرار کیاجائے گا ۔ ( ۱) یاایھاالمزمل (۲)رب المشرق والمغرب ۔۔۔ وکیلا ( ۳) واللہ یقدر الیل والنھار(۴) یبتغون من فضل اللہ ۔ (۵) واستغفروا اللہ ان اللہ غفور رحیم۔ اکتالیس دن تک یہ عمل کرنے کے بعد سورۃ المزمل روزانہ گیارہ ، اکیس یااکتالیس بار جب چاہیں پڑھیں ( تکرارِ آیات کے بغیر ) اور عشاء کے بعد یامغنی کا ورد کرلیا کریں جیب کبھی خالی نہ ہوگی ۔*

جوکوئی اس اسم کو ایک ہزار دوسوسٹرسٹھ (۱۲۶۷)بارہرروز بلاناغہ پڑھے انشاء اللہ غنی ہوجائے گا۔* جوکوئی اس اسم مبارک کو لکھ کر اپنے پاس رکھے کبھی فقیرنہ ہو۔ جوکوئی دس جمعوں تک ہر جمعہ کوایک ہزار بار یادس بار یہ اسم پڑھے گاانشاء اللہ مخلوقسے بے نیاز ہوگا۔ *جوکوئی قربت سے پہلے ستر(۷۰) بار یہ اسم پڑھ لے تو بہت امساک ہوگا۔ *جوبہت مفلس ہوفجر کے وقت فرض وسنت کے درمیان دوسوبار اور ظہر، عصر اور مغرب کے بعد دوسوبار اور عشاء کے بعدتین سو بار یہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ غنی ہوگا ۔*جوکوئی اس اسم مبارک کوگیارہ سو بار روزانہ پڑھے اسے صفائے قلب حاصل ہوگی ۔*جوگیارہ سومرتبہ (یامغنی ) اور بسم اللّٰہ کے ساتھ گیارہ سوبار( لا حولَ ولا قوۃ الا باللہ ) اور بغیر بسم اللّٰہ کے سوباردرودشریف اور دودفعہ سورۃ مزمل پڑھے گاانشاء اللہ اس کی روزی میں خوب وسعت ہوگی۔* اگر کوئی سورۃ الضحیٰ پڑھ کر یہ اسم ایک سوگیارہ بار پڑھے گا پھر۔ اَللَّھُمَّ یَسِّرْلِیْ لِلْیُسْرِ الَّذِیْ یَسَّرْتَہُ لِکَثِیْرٍ مِّنْ خَلْقِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ کہے تواللہ تعالی اس کیلئے غیب سے مدد گار بھیجے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی سفت المغنی کے صدقے میں لوگوں کی احتیاجی سے بچائے ۔ آمین

Leave a Comment