اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام المعید کا انوکھا عمل وظائف

المعید اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المعید کے معنی ہیں دوبارہ پیدا کرنے والا۔جو کل مخلوقات کو موت کے بعد زندہ کرنے والا ہے۔ایک نظریہ یہ ہے کہ انسانی فرد کی موت کے بعد دیگر حیوانات کی طرح اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ قرآن کا نظریہ یہ ہے کہ طبعی زندگی ختم ہونے کے بعد انسان کی نشوونما یافتہ ذات برقرار رہتی ہے۔ اس کی ارتقا جاری رہتی ہے۔

اسی کا نام آخرت کی زندگی ہے۔ قرآن حکیم کی سورت ق کی آیت 3-2 کا ترجمہ ہے (کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہو جائیں گے پھر جیئں گے؟ یہ پلٹنا دور ہے۔ ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے، بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا، جب وہ ان کے پاس آیا) قرآن کریم نے انسان کی موجودہ زندگی سے پہلی حالت کو بھی موت سے تعبیر کیا ہے اور اس دنیا میں اس کی طبعی زندگی کے سلسلہ کو ختم ہو جانے کو بھی موت کہا ہے۔ زندگی کی ابتدا اس صفحہ ارض پر کیسے ہوئی۔ انسانی علم ابھی تک اس معمہ کو حل نہیں کر سکا۔ لیکن اس باب میں سائنس دان متفق ہیں کہ اس کی ابتدا بے جان مادہ (Inorganic Matter) سے ہوئی۔ قرآن کریم، انسانی تخلیق کی ابتدا طین (مٹی) سے قرار دیتا ہے تو اس سے یہی مراد ہے۔ لیکن بے جان مادہ، کیسے وجود میں آ گیا، یہ معمہ اس سے بھی مشکل تر ہے۔ قرآن کریم، خدا کو فاطر السٰموٰت والارض اور بدیع السٰموٰات ولارض کہتا ہے۔ فاطر اور بدیع اسے کہتے ہیں جو کسی شے کو سب سے پہلی بار عدم سے وجود میں لایا ہو۔ بے جان مادہ کا خالق بھی وہی ہے اور مادہ سے زندگی کی نمود کرنے والا بھی وہی۔ اسی کے قانون حیات سے زندگی کی نمود ہوتی ہے۔ اسی کے قانون کے مطابق زندگی موجود رہتی ہے اور اسی کے قانون کے مطابق انسان کی طبعی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اسکے بعد کی زندگی کو قرآن کریم حیات الآخرت سے تعبیر کرتا ہے، برعکس حیات الدنیا کے۔ قرآن کریم قوموں کی زندگی کو ان کی حیات سے تعبیر کرتا ہے اور ان کے زوال کو موت سے۔

اس موت میں بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ خاص قوم، کسی خاص حادثہ وغیرہ سے اس طرح نیست و نابود ہو جاتی ہے کہ اس کا کوئی فرد باقی نہیں رہتا۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طبعی طور پر اس قوم کے افراد زندہ ہوتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر ان کا شمار دنیا کی زندہ قوموں میں نہیں ہوتا۔ اسے بھی اس قوم کی موت یا ہلاکت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآ ن کریم نے بتایا ہے کہ زندہ وہی قوم رہ سکتی ہے جو موت سے نہ ڈرتی ہو۔ ویسے بھی اس صفحہ ارض پر انسان کی مختصر سے عرصہ کے لیے زندگی، اس کی قوت عمل کے لیے مہمینر کا کام دیتی ہے۔ جو شخص خدا کے مقرر کردہ طبعی قوانین کے مطابق زندگی بسر کرے گا، اسے صحت بھی ملے گی اور لمبی عمر بھی۔ جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، وہ بیماریوں کا شکار ہوتا رہے گا اور اس کی عمر بھی کم ہو جائے گی۔ چنانچہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے طبعی قوانین کے مطابق عمل کرنے سے اپنے افراد کی اوسط عمر کتنی ہی بڑھا لی ہے لیکن عمر کتنی ہی بڑھ جائے۔ اس دنیا میں ابدی زندگی کسی کو نہیں مل سکتی۔ یعنی زندگی اسکے قانون کے مطابق ملتی اور قائم رہتی ہے اور اسی کے مطابق اس کا سلسلہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ دنیا میں زندگی ملنے سے پہلے کا عرصہ پہلی موت۔ پھر زندگی۔ پھر دنیا کی زندگی کا خاتمہ۔ دوسری موت۔ اسکے بعد دوسری زندگی۔ قرآن کریم کی سورت العنکبوت کی آیت 64 کا ترجمہ ہے (اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور بے شک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے) قرآن کریم میں 115 مرتبہ عقیدۂ آخرت کا تذکرہ ہوا ہے ، اور کم و بیش اتنی بار دنیا کا تذکرہ ہوا ہے ، اس کے ساتھ موت اور آخرت کے دیگر احوال کا تذکرہ علیحدہ ہوا ہے ، متعدد مقامات پر دنیا کی زندگی کو دھوکے کا سامان کہا گیا اور اس کے مقابلے میں اصل زندگی آخرت کو قرار دیا گیا ، چنانچہ ایک مقام ملاحظہ فرمائیں :فرمایا ’’یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش! وہ لوگ یہ بات جانتے ہوتے۔‘‘ایک مقام پر دنیا کی بدمستیوں میں مست لوگوں کو کچھ یوں بھی جھنجھوڑا گیا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں سب کچھ دنیا میں ہی دے دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی۔

اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘قرآن کریم میں بیان کردہ یہ آخرت کا تذکرہ پڑھنے والے پراثر کرجاتا تھا یہی وجہ ہے کہ احادیث میں کہیں نبی کریم ﷺ قرآن کریم کو پڑھتے، سنتے ہوئے رورہے ہیں تو کہیں صحابہ کرام کے رونے کے واقعات موجود ہیں بلکہ یہی خشیت دیگر سلف صالحین کی سیرتوں میں بھي نظر آتی ہے ، فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے نماز میں تلاوت کے دوران جب سورہ الحاقہ کی آیت پڑھی اسے پکڑ لو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ۔ زارو قطار روتے رہے حتی کہ بے ہوش ہوگئے اللہ تعالی کے اس اسم المعیدسے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ہر معاملہ اور ہر چیز میں اللہ رب العزت کی طرف اول بار بھی اور دوبارہ بھی رجوع کرے۔ نیکیاں پیدا کرنے میں سعی و کوشش کرے اور جو نیک عمل کرنے سے رہ گیا ہو یا جس عمل میں کوئی کمی اور کوتاہی ہو گئی ہو اس کا اعادہ کرے یعنی ان کو دوبارہ کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم المعیدکے فوائد و برکات میں سے ہےکہ جس کی بیوی کو حمل ہو اور اسقاط حمل کا خوف ہو یا ولادت میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہو تو خاوند کو چاہئے کہ وہ اس اسم پاک المبدی کو نوے بار پڑھے اور شہادت کی انگلی اسے پیٹ کے چاروں طرف پھیرے انشاء اللہ حمل ساقط ہونے کا خوف نہیں رہے گا اور ولادت سے باطمینان اور بلا کسی ضرر جلد فراغت حاصل ہو گی اور جو شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے یعنی اس کو پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے تو اس کی زبان سے وہی بات نکلے گی جو صحیح اور باعث ثواب ہو گی۔ اگر کسی شخص کا کوئی عزیز وغیرہ غائب ہو گیا ہو اور اس کی آمد یا خیریت کی طلب کا خواہش مند ہو تو اس وقت جب کہ اس کے گھر والے سو گئے ہوں اس اسم پاک کو گھر کے چاروں کونوں میں ستر بار پڑھے اور اس کے بعد کہے یا معید فلاں شخص کو میرے پاس واپس بلا دے یا اس کی خیریت معلوم کرا دے، سات دن بھی گزرنے نہ پائیں گے کہ یا تو غائب آ جائے گا یا اس کی خیریت معلوم ہو جائے گی۔

اور اگر کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوئی ہو تو وہ اس اسم المعید کو بہت زیادہ پڑھتا رہے انشاء اللہ اس کی وہ چیز مل جائے گی۔گمشدہ شخص کو واپس بلانے کے لئے جب گھر کے سب آدمی سوجائیں تو گھر کے چاروں کونوں میں ستر ستر مرتبہ یَا مُعِیْدُرُدَّعَلَیَّ۔۔۔ (گمشدہ کا نام لے) پڑھے، انشاء اللہ سات روز میں واپس آجائے گا یا پتہ چل جائے گا ۔* جوشخص اس اسم مبارک کاورد کرے گا اسے بھولی ہوئی باتیں یاد آجائیں گی۔* جوکوئی کسی معاملہ میں متحیر ہووہ ایک ہزار بار یہ اسم مبارک پڑھے خلجان دور ہوجائے گا اور انشاء اللہ درست سمت کی طرف رہنما ئی ہوگی ۔* اگر کوئی بات یا چیز بھول گیا ہوتو ( یَا مُبْدِئُ یَا مُعِیْدُ) کا ورد کرنے سے انشاء اللہ یاد آجائے گی نیز اس کے پڑھنے سے مخفی امور کی طرف بھی رہنمائی ہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں موت کے بعد کی تیاری کرنے اور زندگی میں رب کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment