اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام المحیی کا انوکھا وظیفہ

wazeefa

المحیی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المحیی کے معنی ہیں زندگی دینے والا۔جو زندگی اور صحت دینے والا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نور ایمان کے ذریعہ قلوب کو زندہ کرتا ہے اور جسم میں زندگی پیدا کرتا ہے ۔ قرآن کے مطابق زندگی مقصد کے حصول کی جد و جہد سے عبارت ہے اور موت اس کے اخروی انجام سے۔ اس لیے انسانی زندگی کا با مقصد ہونا خود نظام کائنات کے جواز کی بنیادی دلیل ہے ۔قرآن حکیم کے مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد اور نصب العین ’’ اخلاقی کمال کا حصول‘‘ ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے(اور یہ کہ ) میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔(سورۂ ذاریات)اس آیت میں انسانی زندگی کامقصد اور اس کی غرض تخلیق بیان کردی گئی کہ انسانوں کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی کسی اپنی حاجت کے لیے نہ تھا ، کیوں کہ وہ ذات تو بے نیاز اور غنی و رزاق ہے ۔ باری تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا :بے شک، اللہ ہی ہر ایک کو روزی دینے والا بڑی قوت و قدرت والا ہے۔( سورۂ ذاریات) جب کہ سورۂ زمر میں ہے: اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے، اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وہ بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔ بلا شبہ وہ سینوں کے راز تک جانتا ہے‘‘۔موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فردیا ہے: روح صرف اللہ کا حکم ہے۔ موت پر انسان کے اعمال کا رجسٹر بند کردیا جاتا ہے، اور موت پر توبہ کا دروازہ بند اور جزا وسزا کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بندےکی توبہ قبول کرتا ہے یہاں تک کہ اُس کا آخری وقت آجائے۔ ہم ہر روز، ہر گھنٹہ، بلکہ ہر لمحہ اپنی موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ سال، مہینے اور دن گزرنے پر ہم کہتے ہیں کہ ہماری عمر اتنی ہوگئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایام ہماری زندگی سے کم ہوگئے۔

ارشاد ِباری تعالیٰ ہے: جو اٹھتے ،بیٹھتے اور لیٹتے (ہر حال میں )اللہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں کہ ) اے ہمارے رب ! تو نے یہ (سب کچھ) بے کار اور (بے مقصد ) پیدا نہیں کیا۔(سورۂ آل عمران )جب کہ سورۂ دخان میں ارشاد رب العزت ہے:’’اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، محض بے مقصد (اور اتفاقیہ )نہیں بنایا، بلکہ ہم نے تو انہیں خاص مصلحت کے تحت بنایا ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں‘‘۔اسلامی تعلیمات کے مطابق کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز ایک مخصوص حکمت کے تحت، ایک متعین مدّت تک کے لیے اپنا کام کررہی ہے۔موت و حیات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے قرآن واضح کرتا ہے :وہ (ذات) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے بہتر جد و جہد کون کرتا ہے اور وہی عزت والا بخشنے والا ہے ۔(سورۂ ملک) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں موت کو ’’اَجَل‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے،اس کے معنی ہیں،کسی چیز کا مقررہ وقت ، جو کسی قیمت پر نہ ٹلے‘‘۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جب تم کسی مقررہ مدتِ ادائیگی تک قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لو‘‘۔(سورۃالبقرہ)جس طرح فرد کے لیے ایک وقت مقرر ہوتاہے، اسی طرح قوموں کے عروج وزوال کا وقت بھی مقرر ہے، فرمایا: ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے، جب مقررہ وقت آ جائے گا تو ایک ساعت کی تقدیم و تاخیر نہیں ہو پائے گی‘‘ (سورۃ الاعراف)اسی طرح فرد کی موت کا بھی ایک وقت مقرر ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: بے شک اللہ کی طرف سے جب (موت کا) مقررہ وقت آ جائے، تو وہ ٹلتا نہیں ہے‘‘ (سورۂ نوح)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا میں اس طرح رہو، جیسے تم ایک (راہ چلتے) مسافر ہو یا کسی منزل کے راہی‘‘ ۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے: جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت سمجھو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت سمجھو‘‘ (صحیح بخاری) رسول اللہﷺ نے فرمایا: دنیا آخرت کی کھیتی ہے(یعنی دنیا میں ایمان وعمل کی جو فصل کاشت کروگے ، آخرت میں اسی کا پھل ملے گا)‘‘ (اِحیاء علوم الدین)یہ دنیا فانی ہے اور زندگی وقتی ‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار! مجھے واپس بھیج دیجئے ،تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں جاکر نیک اعمال کروں۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ ہے، جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں اللہ تعالی کے اس اسم المحیی سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ علم سے نفع پہچا کر مخلوق خدا کو اور مغفرت الٰہی کی شمع جلا کر قلب کو زندگی و تازگی کی دولت بخشے اور نفسانی خواہشات اور شیطانی خطرات و وساوس کو موت کے گھاٹ اتارے، یہ حیات کی تمنا کرے اور نہ موت کی آرزو بلکہ قضاء و قدر الٰہی کا تابعدار بنے اور یہ دعا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے پڑھتا رہے۔ اے اللہ مجھے زندگی دے کہ جب تک کہ زندگی میرے لئے بہتر ہو اور مجھے موت دے جب کہ موت میرے لئے بہتر ہو اور میری زندگی کو ہر خیر و بھلائی میں زیادتی کا سبب اور موت کو ہر برائی سے راحت کا باعث بنا دے۔اللہ تعالی کے اس اسم المحیی کے فوائد و برکات میں سے ہے جو شخص کسی درد، رنج و تکلیف اور کسی عضو کے ضائع ہو جانے کے خوف میں مبتلا ہو تو وہ اس اسم پاک المحی کو سات بار پڑھے حق تعالیٰ اسے خوف سے نجات دے گا نیز درد ہفت اندام کو دور کرنے کے لئے سات روز تک یہ اسم پڑھا کرے اور ہر روز پڑھ کر دم کیا جائے اور جو شخص اس اسم پاک کے پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے تو اس کے دل کو زندگی اور بدن کو قوت حاصل ہو گی

جوشخص بیمار ہووہ کثرت سے اَلْمُحْیِیْ کاورد رکھے یااگر کسی بیمارپر دم کیا جائے توانشاء اللہ جلدصحت یاب ہوجائے ۔ * جو شخص (۹۹) مرتبہ اَلْمُحْیِیْ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے وہ ہر طرح کی قید وبندسے انشاء اللہ محفوظ رہے گا۔* جو اس اسم کو ایک ہزار بار پڑھنے کا معمول بنائے گاانشاء اللہ اس کا دل زندہ ہوجائے گا اور بدن میں تقویت پیدا ہوگی ۔* جوشخص بیمار ہووہ بکثرت اس کا وردر کھے یاکسی دوسرے پر یہ اسم مبارک بکثرت پڑھ کردم کرے انشاء اللہ صحت یاب ہوجائے گا ۔ *جو ہفت اندام کے دردکودور کرنے کیلئے سات روزتک سات بار پڑھ کر دم کرے گا تندرست ہو جائے گا ۔ *جو کوئی دردیا کسی عضوکے ضائع ہونے سے خائف ہووہ یہ سات بار پڑھے انشاء اللہ محفوظ رہے گا۔ *جس کوکسی سے جدائی کا اندیشہ ہویاقید کا خوف ہواس اسم مبارک کو کثرت سے پڑھے ۔ *جواس اسم کو بکثرت پڑھے گاانشاء اللہ اس کا دل منور ہوجائے گا۔ *جوکسی کے قہر سے ڈرتا ہو روٹی کے ایک ٹکڑے پر اٹھا ون (۵۸)بار یہ اسم پڑھ کر کھائے انشاء اللہ محفوظ رہے گا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی زندگی میں نیک اعمال کرنے اور آخرت کے امتحان کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment