اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام المانع کا مجرب عمل وظائف

wazifa

المانع اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المانع کے معنی ہیں روکنے والا۔جس کو چاہے روک دے۔ کسی بھی چیز سے اس کا روکنا حکمت سے خالی نہیں (الزجاج) دین و دنیا میں ہلاکت اور نقصان کے اسباب کو وہی روکنے والا ہے۔ “: وہ جو کچھ دینا چاہے، کوئی اس میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا اور جس چیز کو روک لے، کوئی عطا نہیں کرسکتا، لہذا تمام نعمتیں اور فوائد اس سے مانگنا چاہئیں، ان کے لیے اس کی طرف رغبت کرنا چاہیے۔

وہ اپنی حکمت و رحمت کی بنا پر جسے چاہتا ہے، وہ نعمتیں اور فوائد عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے۔اللہ تعالی معطی و مانع ہے” جس کو اللہ تعالی عطا کردے، تو کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے، اور جس کو دینے سے وہ باز رہے، تو کوئی اس کو دینے والا نہیں ہے۔ ساری مصلحتیں اور منافع اسی سے طلب کئے جاسکتے ہیں، اور اسی کی طرف سے یہ ساری چیزیں بٹتی ہیں، اور وہی ذات ہے جس کو چاہے یہ چیزیں عطا کرتی ہے، اور اپنی حکمت و رحمت کی بنیاد پر جس سے چاہے، روک لیتی ہے۔ساری تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں۔ وہ اسی طرح ہے جس طرح خود اس نے اپنی وصف بیانی کی ہے، اور وہ مخلوق کی وصف بیانی سے بہت بلند و بالا ہے۔اے کشادگی پیدا کرنے والی ذات ہم پر اپنی رحمتوں کو کشادہ کردے، ہمیں اپنی نوازشوں سے نوازدے، اور اے روکنے والی ذات ہم سے برائیوں کو روک لے، اور اے منع کرنے والی ذات ہم سے شرور و فتن کو دور کردے۔یقیناً اللہ تعالی دینے اور چھیننے والا ہے۔ حقیقی اثر ڈالنے والا اللہ ہے اور نفع اور نقصان اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور سعادت و خوشبختی اسی کے حکم سے ہے۔ کائنات میں اثر ڈالنے والی ذات صرف ایک ہی ہے جو اللہ تبارک و تعالی ہے اور اس کے علاوہ دیگر سب افراد اور امور ایسے وسیلے اور واسطے ہیں جنہیں اللہ نے ہی قرار دیا ہے جو ذاتی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے، صرف سبب کی حیثیت رکھتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرماتا ہے، “اگر خدا تمہیں کوئی ضرر و زیاں پہنچانا چاہے تو اس کے پاس اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے”، پھر فرمایا: ، “اور اپنے تمام بندوں پر غالب اور صاحب حکمت اور باخبر رہنے والا ہے”۔ان آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کا ارادہ ہر چیز پر حکومت کرتا ہے، اگر کسی سے کوئی نعمت چھین لے یا کسی کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو کائنات میں کوئی طاقت نہیں ہے جو اسے تبدیل کرسکے۔

لفظ “یمسسک” جو “مس” سے ہے، اس کا “خیر اور شر” کے بارے میں استعمال، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حتی کم سے کم خیر و شر، اللہ کے ارادہ اور طاقت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ایک اور آیت میں ارشاد الہی ہے: “”، “اور اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل و کرم فرمائے وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے”۔بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس آیت میں نقصان کو دور کرنے کے لئے “إِلَّا هُوَ” کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، لیکن خیر کو دور کرنے کے لئے یہ الفاظ استعمال نہیں کیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو نقصان انسان کو پہنچتا ہے اللہ ہی اسے دور کرتا ہے، لیکن جو فضل انسان کو نصیب ہوتا ہے اسے اللہ دور نہیں کرتا بلکہ ہمارے اعمال اسے بدل دیتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد پروردگار ہے: “”بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے”۔مزید واضح ہوتا ہے کہ نفع اور نقصان اتنی مضبوطی اور گہرائی سے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے کہ حتی اللہ تعالی، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے: ” ، “(اے رسول) کہہ دیجیے! (یہ معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے) میں تو خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے)”۔واضح ہے کہ اللہ تعالی، حکیم ہے اور جو کچھ اس کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے وہ حکمت و مصلحت کی بنیاد پر ہوتا ہے، لہذا جو ظاہری طور پر نقصان انسان کو پہنچتا ہے، اس میں کوئی حکمت و مصلحت چھپی ہوتی ہے اگرچہ انسان اپنے قلیل علم کی وجہ سے اکثر ان مصلحتوں کا ادراک نہیں کرپاتا۔

لہذا انسانوں کی بھلائی اللہ تعالی کے خوف اور امید کے درمیاں رہنے میں ہے کہ جو لوگ خوف خدا سے غافل ہوکر زندگی گزارتے ہیں، وہ اپنی ذات کو بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں، ان کے اندر یہ احساس ہی باقی نہیں رہتا کہ اس دنیا میں آنے کا مقصد اور ان کی زندگی کی اصل غرض و غایت کیا ہے۔سورہ اعراف میں ایسے انسانوں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے، مفہوم ’’ جن کے دل ایسے ہیں جن سے وہ نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے وہ نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے وہ نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بل کہ ان سے بھی زیادہ گم راہ اور یہی لوگ غافل ہیں۔‘‘قرآن حکیم کے اس تبصرے کے مصداق دراصل وہی لوگ ہیں جو اس فانی دنیا میں ہی دل لگا بیٹھے ہیں ان کے ذہن میں نہ خوف آخرت ہے اور نہ اللہ کے سامنے ایک دن کھڑے ہونے کا شعور۔ ایسے لوگو ں کا یہ طرزعمل ان کی دنیا کے راحت و سکون کو بھی تہہ و بالا کر تا رہتا ہے۔ ان کی نہ دنیا آسودہ ہوتی ہے اور نہ آخرت سنور سکتی ہے۔ اس کا ثبوت موجودہ انسانوں کی بے چین اور بے سکونی ہے۔ آج ہر شخص ان گنت مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ سکون نہ گھر میں ہے نہ گھر سے باہر۔ اس بے سکونی اور اللہ سے بے خوفی کی وجہ سے ہر شخص مشتعل ہے، غصہ ہر ایک کی ناک پر دھرا ہوا ہے، ہر شخص آپے سے باہر اور معمولی معمولی باتو ں پر لڑنے مرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ مادی وسائل اور تعیشات اور دنیاوی آسایشوں کے حصول کے باوجود ہر انسان دکھی ہے، زندگی سے بے زار لگتا ہے۔ آپس میں محبت ختم ہوتی جارہی ہے، رنجشوں اور عداوتوں نے دلوں کو اجاڑ دیا ہے۔ خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

بڑے دھوم دھام کے ساتھ شادی ہوتی ہیں مگر کچھ عرصے میں طلاق ہوجاتی ہے، رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جاتے اور خاندان بکھر جاتے ہیں۔اللہ تعالی کےاس اسم المانع سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنے نفس اور اپنی طبیعت کو خواہشات نفسانی سے باز رکھ کر اپنے آپ کو دینی ودنیاوی ہلاکت ونقصان سے محفوظ رکھے۔اللہ تعالی کےاس اسم المانع کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر بیوی سے جھگڑا یا ناچاقی ہوتو بستر پر لیٹتے وقت (۲۰)مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھا کرے انشاء اللہ جھگڑا اور ناچاقی دور ہوجائے گی اور باہمی انس ومحبت پیدا ہوجائے گی ۔جو شخص بکثرت اس اسم مبارک کاورد رکھے گا انشاء اللہ ہرشرسے محفوظ رہے گا ۔ *اگر کسی خاص اور جائز مقصد کیلئے پڑھے تو انشاء اللہ وہ حاصل ہوجائے گا ۔* اگر کوئی اس اسم کو سوبار پڑھے گا انشاء اللہ دو شخصوں کے درمیان لڑائی ختم ہوجائے گی ۔* جواپنی مرادتک نہ پہنچ سکے وہ اس اسم کو صبح وشام پڑھا کرے انشاء اللہ مراد پوری ہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت المانع کے صدقے دوزخ کے عذاب سے بچائے اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment