اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام القیوم کا مجرب عمل وظائف

Al Qayum

القیوم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔القیومُ کے معنی خود بھی قائم اور مخلوقات کا قائم رکھنے والا اور خبرگیری کرنے والا۔ معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور زندہ اور دیکھ بھال کرنے والے کے لیے چہرے جھک جائیں گے۔۔ (طہ : 111)اللہ، القیوم ہے یعنی ہر مخلوق کی تخلیق، تربیت، رزق، ان کی حفاظت، ان کے آخرت میں حساب و کتاب کی ذمہ داری صرف اور صرف اللہ سبحانہ کے پاس ہے

وہ اللہ ہی یہ سارے کام سر انجام دے گا اور ان کاموں کو کرنے کے لیے وہ کسی کا محتاج نہیں زمین اور ساتوں آسمان اور ان کے اندر رہنے والی سب مخلوقات اسی کے سہارے قائم ہیں۔دیکھ بھال کرنے والا کائنات کو قائم رکھنے اور سنبھالنے والا، جو پوری کائنات کا محافظ اور نگران ہے۔ اس کی حیات کامل اور ذاتی طور پر قائم ہے اور آسمان اور زمین والوں کو قائم رکھنے والا ہے۔ ان کے تمام انتظامات، رزق اور تمام حالات اس کے ہاتھ میں ہیں۔ ’’اللہ ہی معبود ہے، نہیں ہے کوئی معبود ،مگر وہی، زندہ اور قائم رکھنے والا۔‘‘معبود حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو الٰہ اور معبود حقیقی ماننے کا ایک ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ اس کی صفات کو مانا جائے۔: ایک صفت ’حیّ‘ ہے اور دوسری ’قیوم‘ ہے۔ ’حیّ‘کے معنی ہیں: زندہ۔ ’قیوم‘ سے مراد وہ ذات ہے جو خود سے قائم ہو، اسے خودکو قائم رکھنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سب کو قائم رکھے ہوئے ہو اور سب کو سنبھالے ہوئے ہو۔ان صفات کے بیان سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ زندگی وہی دے سکتا ہے جو خود زندہ ہو ، قائم وہی رکھ سکتا ہے جو خود قائم ہو ، سنبھالا اور سہارا وہی دے سکتا ہے جو خود کو سنبھالے ہوئے ہو اور اسے خود کو قائم کرنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو۔چنانچہ قرآن مجید کا یہ مقام ان معبودوں کی مکمل نفی کر دیتا ہے جوزندہ نہیں ، بلکہ مردہ ہیں، جو زندگی پانے کے لیے کسی اور ہستی کے محتاج ہیں، جوزندگی دینے کی قدرت نہیں رکھتے، جنھیں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے، جو حقیقی سہارا بننے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور جو اپنی بقا اور اپنے قیام کے لیے ایک حیّ و قیوم کے محتاج ہیں۔

اس لیے اللہ کو الٰہ اور معبود ماننے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بھی اسی سے مانگی جائے اور سہارا بھی اسی سے طلب کیا جائے۔انسان اگر تھوڑا سا غور کرے تو ہزاروں اور لاکھوں نعمتیں اسے گھیرے ہوئے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں سے خاص طور پر تخلیق کو بیان کیا ہے۔ قرآن شریف میں تین سو کے قریب یہ کلمہ مختلف شکلوں میں اسم اور فعل کی صورتوں میں آیا ہے۔ پھر بہت سی نعمتیں گنا کر پوچھا گیا ہے اور انسان نے ہر نعمت کی تخلیق کے متعلق یہی بتایا ہے کہ اللہ نے پیدا کی ہیں۔پھر بغیر سوال کے کئی مقامات پر بتایا کہ اللہ نے یہ نعمتیں تمھارے اوردوسرے جان داروں کے لیے پیدا کی ہیں۔ اگر انسان سے پوچھا یا کہا جائے کہ زمین وآسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ تو ضرور یہی جواب دے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ انسان کو کس نے پیدا کیا؟ تو ضرور یہی جواب دے گا اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ دن، رات، سورج اور چاند کس نے پیدا کیے؟ تو جواب یہی دے گا کہ اللہ نے یہ سب پیدا کیا ہے۔ اگر انسان سے پوچھا جائے کہ بارش کون برساتا ہے؟ اور اس سے یہ پوچھا جائے کہ کھیتیاں کون اُگاتا ہے؟ تو ضرور یہی جواب دے گا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہزاروں لاکھوں برسوں سے انسانوں کو پیدا کیے جا رہی ہے۔ البتہ اس تناسب میں کبھی کبھار معمولی سی کمی کر دیتا ہے کہ کسی صدی میں لڑکیاں معمول سے زیادہ پیدا ہوجائیں ۔ یہ کون ہے جو انسانوں کے تناسب میں کمی بیشی کر رہا ہے؟ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے بس میں ہے جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان سے یہ پوچھا جائے کہ موت اور حیات کس کے اختیار میں ہے؟تو یہی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

جب کائنات میں سب کچھ وہی پیدا کرتا ہے تو پھر حکم اور امر بھی اس کا چلنا چاہیے:خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اُسی کا امر ہے۔ بڑا بابرکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کو القیوم کہا جاتا ہے ۔اللہ تعالی کے اس اسم القیوم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ماسواا للہ سے بالکل بے پروا ہو جائے۔قشیری فرماتے ہیں کہ جس نے یہ جانا اللہ تعالیٰ قیوم ہے تو اس نے تدبیر و اشتغال سے نجات پائی اور راحت وتفویض کے ساتھ اپنی زندگی گزاری لہٰذا اب نہ تو بخل کرے گا اور نہ دنیا کی کسی بھی بیش قیمت چیز کو کوئی اہمیت دے گا۔اللہ تعالی کے اس اسم القیوم کے فوائد و برکات میں سے ہےکہ جو شخص بوقت سحر اس اسم کو بہت زیادہ پڑھا کرے تو لوگوں کے قلوب میں اس کا تصرف ظاہر ہو گا یعنی تمام لوگ اسے محبوب و دوست رکھیں گے اور اگر کوئی شخص اس اسم کو بہت زیادہ پڑھے تو اس کے تمام امور بحسب دلخواہ پورے ہوں گے۔* جوشخص بکثرت اس اسم مبارک یَا قَیُّوْمُ کاورد رکھے گا، انشاء اللہ لوگوں میں اس کی عزت وساکھ زیادہ ہوگی اور تنہائی میں بیٹھ کر ورد کرے گا توانشاء اللہ خوشحال ہوجائے گا۔* جوشخص صبح کی نماز کے بعد سے سورج نکلنے تک یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ کاورد کیا کرے انشاء اللہ اس کی سستی اور کاہلی دور ہو جائے ۔ *ان ہر دواسماء کی تلاوت سے نیند کاغلبہ دور ہوجاتا ہے اور مستعد ی پیدا ہوجاتی ہے ۔* جواس اسم کو ہرروز تنہائی میں ستر(۷۰)بار پڑھے گاانشاء اللہ کندذہنی سے نجات پائے گا اور اس کا حافظہ قوی اور دل منور ہوجائے گا۔* جس آدمی کو نیند نہ آتی ہووہ یہ دو آیتیں پڑھے(وَتَحْسَبُھُمْ اَیْقَاضًا وَّہُمْ رُقُوْدٌ) ( سورۃ کہف: آیت ۱۸) ( فَضَرَ بْنَا عَلآی اٰذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ) (سورۃ کہف : آیت ۱۱) انشاء اللہ نیند آجائے گی یہ عمل دوسرے پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔

* جوزیادہ سونے کا عادی ہواس کے سرپر ( اآمَّ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) پڑھ کردم کیا جائے انشاء اللہ اس کی نیند بھاگ جائے گی ۔* اگر کوئی چاہے کہ اس کادل زندہ ہوجائے اور کبھی نہ مرے تووہ ہردن چالیس بار یہ پڑھا کر ے: یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ )۔ جاننا چاہیے کہ (اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) دونوں عظیم نام ہیں اور حضوری کی کیفیت رکھنے والے لوگوں کاذکر ہیں ۔ حضوراکر م ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے فرمایا کہ وہ یہ دعاصبح وشام پڑھا کریں۔ ( یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ لِیْ شَأْ نِیْ کُلَّہُ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ)۔جو شخص بکثرت اس کا وردرکھے گاانشاء اللہ لوگوں میں اس کی عزت زیادہ ہوگی ۔ *سحر کے وقت جوکوئی بلند آواز سے اس کو پڑھے گااس کا تصرف دلوں میں ظاہر ہوگا یعنی لوگ اس کودوست رکھیں گے۔* جو اکتالیس بار روزانہ یہ دعامانگے گا توانشاء اللہ اس کا مردہ دل زندہ ہو جائے گا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ یَاحیُّ یاقیومُ برحمتِکَ اسْتَغِےْثُ کا ورد فرماتے ۔*جو شخص اکتا لیس بار روزانہ درجِ ذیل دُعا ما نگا کر ے انشا ء اللہ اُس کا مردہ دل زندہ ہو جا ئے گا، (یَا حَیُّ یَا قَیُوْمُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ اِنِّیْٓ اَسْءَلُکَ اَنْ تُحْیِیَ قَلْبِیْ بِنُوْرِ مَعْرِفَتِکَ اَ بَدًا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں زندگی میں تمام چیزوں میں غور و فکر کر کے اپنی ہمیشہ رہنے والی ذات کی کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment