اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام الغنی کا مجرب عمل وظائف

Ghani

الغنی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الغنی کے معنی ہیں۔ہر چیز سے بے پروا۔ غیر محتاج ،ساری مخلوق سے اپنی قدرت کی بناء پر بے پرواہ اور بے نیاز۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ (تمام مخلوقات سے ) بے پروا ہے اور اسی کی تعریفات کی جاتی ہیں۔ (فاطر: 15)الغنیٰ ( تو نگری ) بے نیازی یہ کئی قسم پر ہے کلی طور پر بے نیاز ہوجانا اس قسم کی غناء سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں ہے چنانچہ آیت کریمہ میں ارشاد ہےاور بیشک خدا بے نیاز اور قابل ستائش ہے ۔اللہ ہی غنی ہے یعنی وہ مخلوق کا ذرہ بھر محتاج نہیں لیکن مخلوقات لمحہ بھر بھی اس سے غیر محتاج نہیں ہو سکتیں اللہ ہی کے ہاتھ میں ارض و سماوات کے خزانے ہیں ۔

دنیا و آخرت کے خزانے بھی اسی کے پاس ہیں اس کے غیر محتاج ہونے کی اس سے زیادہ واضح مثال کیا ہو گی؟ کہ نہ اس کی بیوی ہے اور نہ ہی اولاد ہے۔ یہود و نصاریٰ جو تہمتیں اس پر لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسی بن مریم اللہ کا بیٹا ہے۔ وہ یہ باتیں کر کے تا قیامت اللہ کی لعنت کے موجب بن گئے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی شان انتہائی بلند ہے۔ الغنی” وہ اپنے آپ میں غنی ہے، اسی کے لئے مطلق و مکمل بے نیازی ہے۔ اس کی صفات و کمالات میں کسی بھی قسم کا کوئی نقص پیدا ہو نہیں سکتا، اور اس کے لئے بے نیاز ہونے کے علاوہ کچھ اور ہونا محال ہے؛ اس لئے کہ اس کی بے نیازی اس کی ذات کے لئے لازمی صفت ہے، جس طرح سے کہ اس کا خالق، رازق، قادر اور محسن ہونے کے علاوہ کچھ اور ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ کسی بھی شکل میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بے نیاز ہے، اسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کے چابیاں ہیں، اور دنیا و آخرت کی کنجیاں ہیں۔ وہ اپنی ساری مخلوق کو عمومی طور پر بے نیاز بنانے والا ہے۔”الغنی” وہ ذات اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ وہ ان سے کھانا پینا نہیں مانگتا ہے۔ اس نے بندوں کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اپنی ذات میں پائے جانے والی کمی کو ان سے پورا کرے، اور نہ اس لئے پیدا کیا کہ اپنی کمزوری کو ان سے تقویت پہنچائے، اور نہ اس لئے کہ اپنی وحشت کو دور کرنے کے لئے ان سے انسیت و محبت کرے؛ بلکہ بندے ہی اپنے کھانے پینے کے لئے، اور سارے معاملات کو حل کرنے کے لئے اسی کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔ }(الذاریات: 56-57) یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ کے محتاج ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

درویش کی تعریف ہی یہ بیان کی جاتی ہے کہ ’’درویش وہ شخص ہے، جو حق تعالی کے سوا کسی اور طرف نظر تک نہ اٹھائے۔ دنیا و آخرت میں مبتلا نہ ہو، دونوں سے بے نیاز ہوجائے‘‘۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ’’امیروں کے دروازے پر کھڑے ہونے سے پرہیز کرو، کیونکہ وہ فتنہ کی جگہ ہے‘‘۔ فقیر کے دروازے پر امیر اچھا لگتا ہے، لیکن امیر کے دروازے پر فقیر بہت برا لگتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’جو شخص اپنے اوپر ’’سوال‘‘ کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ستر (۷۰) دروازے مفلسی کے کھول دیتا ہے‘‘۔ حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ ’’بے ضرورت سوال کرنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن گوشت نہیں ہوگا‘‘۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو! تم اللہ کے محتاج و فقیر ہو اور اللہ تو غنی و بے نیاز ہے اور بذات خود لائق حمد و ثنا ہے۔ وہ بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج و فقیر‘‘۔ اب اگر ہم اللہ کے سوا کسی اور کے آگے دست سوال دراز کرتے ہیں تو یہ ایسا ہی ہے کہ ایک بھکاری دوسرے بھکاری سے بھیک مانگ رہا ہو اور یہ ایک نامعقول بات ہے۔ مانگیں اس سے جو کسی کا محتاج نہیں، بلکہ سب اس کے محتاج ہوں۔ ہم نماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالی سے کیا کہتے ہیں؟ یہی نا کہ ’’یااللہ! ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘۔ اب اگر ہم نماز کے باہر دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلادیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم اپنی نمازوں میں اللہ تعالی سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھ کسی اور کے آگے پھیلانے کے لئے نہیں بنائے، یہ ہاتھ اسی کے آگے پھیلانا چاہئے۔ذرا اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو غور سے دیکھئے، اس میں گہری لکیروں سے اٹھارہ (۱۸) کا ہندسہ کندہ ہے۔

اب ذرا بائیں کی ہتھیلی کو دیکھیں تو اس میں گہری لکیروں سے اکیاسی (۸۱) کا ہندسہ کندہ ہے۔ ان دونوں ہندسوں کو جمع کردو توحاصل جمع ننانوے (۹۹) ہوگا، گویا ہمارے ہاتھوں میں ننانوے (۹۹) کی مہر لگی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہاتھ صرف اس کے آگے پھیلنا چاہئے، جس کے ننانوے (۹۹) نام ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھوں میں اپنے ناموں کی مہر لگا رکھی ہے، یہ ہاتھ اس سے مانگنے کے لئے وقف ہیں، اب تم جس نام سے چاہو اس کو پکارو، لیکن پکارو اسی کو۔ اگر تم یہ ہاتھ اس کے آگے پھیلاؤ گے تو مراد بھی ملے گی اور عزت بھی ملے گی، لیکن اگر تم نے یہ ہاتھ کسی اور کے آگے پھیلادیئے تو سوائے ذلت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ فقیری کا یہی تقاضہ ہے۔ فقیری کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے، کیونکہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اسی فقیری پر فخر فرماتے تھے۔ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْن کے دَر کا بھکاری بھی غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْن ہوتا ہے، کیونکہ اس کے درکا بھکاری ساری دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے، یعنی شان عبدیت بھی بڑی چیز ہے۔بندے کو چاہئے کہ فقر و فاقہ سے ہرگز نہ گھبرائے۔ فقر و فاقہ پیغمبروں کی میراث اور خاصۂ خاندان نبوت ہے، اس لئے فقر و فاقہ کی شکایت نہ کرے، صبر و شکر کے ساتھ اس کو پوشیدہ رکھے۔ سوال سے بچ کر ’’حیاء‘‘ کی حفاظت کرے، جو ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیکے اس اسم الغنی کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ * جوشخص روزانہ ستر (۷۰) مرتبہ یَاغَنِیُّ پڑھا کر ے گا اللہ تعالی اس کے مال میں برکت عطا فرمائیں گے اور انشاء اللہ کسی کا محتاج نہ رہے گا ۔* جو شخص کسی ظاہری وبا طنی مرض یابلا میں گرفتار ہووہ اپنے تمام اعضاء وجسم پرپڑھ کردم کیا کرے انشاء اللہ نجات پائے گا۔

* جو کوئی اس اسم کوایک ہزار ساٹھ (۱۰۶۰)بار پڑھا کرے وہ انشاء اللہ مالدار ہوجائے گااور محتاج نہ رہے گا ۔*جواس کو لکھ کراپنے پاس رکھے گا مفلس نہ ہو۔ *جوکوئی اس کو لکھ کر اپنے مال میں رکھے انشاء اللہ اس میں برکت ہوگی ۔* جو کوئی اس اسم کا وِردر کھے گااس کے اعضاء کا دردجاتارہے گا۔ *جوکوئی جمعرات کے دن ہزار بار یہ اسم مبارک پڑھے گاانشاء اللہ دولت پائے گا ۔ *جوشخص جمعہ کی نماز کے بعد ستر(۷۰) بار پابندی سے یہ دعا مانگا کرے گااللہ تعالی اسے غنی فرمادے گا ۔ اَللّٰھُمَّ یَاغَنِیُّ یَاحَمِیْدُ یَامُبْدِئُ یَامُعِیْدُ یَافَعَّالاًلِّمَایُرِیْدُیَارَحِیْمُ یَاوَدُوْدُ اِکْفِنِیْ بِحَلَا لِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَبِطَاعَتِکَ عَنْ مَعْصِیَتِکَ وَبِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہماری حیاء اور ہمارے ایمان ک حفاظت فرمائے۔ یااللہ! ہم بے سوالی کی توفیق اور ہمت بھی تجھی سے مانگتے ہیں۔ ہمیں بے سوالی اور بے نیازی کی توفیق و ہمت عطا فرماکر ہماری حیاء اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔آمین

Leave a Comment