اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام العفو کا مجرب عمل وظائف

العفو اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔العفوکے معنی ہیں معاف کرنے والا۔جو دل سے معافی چاہنے والوں کو اس طرح معاف کرتا ہے جیسے بانہوں نے گناہ کیے ہی نہ ہوں۔گناہوں اور تقصیرات سے درگزر کرنے والا۔ ’’گناہوں کو سدا بخشنے والا، انتہائی معاف کرنے والا، بہت ہی زیادہ در گزرکرنے والا۔

جو معافی کو بہت ہی زیادہ پسند اور بہت جلد معاف فرمادیتا ہے۔ اس کی معاف کرنے کی صفت ہمیشہ سے معروف ہے اور بندوں کے گناہ بخش دینا سدا سے اس کی شان ہے۔ ہر کوئی اس کی معافی اور مغفرت کا محتاج ہے جس طرح اس کی رحمت اور اس کے کرم کے بغیر کسی کو چارہ نہیں۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص معافی کے ذرائع اختیار کرے گا، اسے ضرور بخش دیا جائے گا۔ اس کا ارشاد ہے:اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں العفوُّ کا مطلب بہت درگزر کرنے والا۔ معاف کر دینے والا اللہ تعالی گناہوں کو معاف کر دینے والا ہے ، خطاوں سے درگزر کرنے والا ہے۔میں نے اتنے گناہ کیے کہ اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا.یہ ایک انتہای خطرناک سوچ اور شیطانی وسوسہ ہے. کہتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال سے پتھر کی پوجا کر رہا تھا, ہر وقت کہتا رہتا تھا یا صنم یا صنم یا صنم (اے پتھر)… ایک دفعہ غلطی سے اس کی زبان سے نکل گیا”یا صمد”اللہ پاک نے فرمایا میں حاضر ہوں میرے بندے فرشتوں نے عرض کی یا باری تعالی اس شخص نے تو غلطی سے آپ کا نام پکارا ہے.اللہ نے ارشاد فرمایا”میں بھی تو ستر سال سے انتظار کر رہا تھا کہ یہ میرا نام پکارے”. سبحان اللہ

اللہ پاک تو بس اپنے بندے کی پکار کے انتظار میں رہتا ہے, ہم ہی دیر کر دیتے ہیں٭توبہ کے لغوی معنی افسوس ،ندامت ،پشیمانی اور پچھتاوے کے ہیں،اصطلاح میں کسی برے کام سے باز رہنے کا عہد کرنے کا نام توبہ ہے۔سچی توبہ کرنے کی تین شرطیں ہیں ۔٭آدمی اپنے گناہوں پر دل میں شرمندگی محسوس کرے ۔٭زبان سے استغفار کرے (اور فوری ان گناہوں کو چھوڑ دے )٭دوبارہ ان گناہوں کے نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے۔جو گناہ بندوں کے حقوق کے بارے میں کئے ہیں ،ان سے معاف کرائے اور انھیں راضی کرے،اور اگر وہ مر گئے ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ کرے اور ان کی مغفرت کی دعا کرتا رہے۔:۔جن گناہوں سے آدمی توبہ کرتا ہے وہ تین قسم کے ہیں٭اول اللہ کے فرض کردہ احکام مثلاً نماز ،روزہ اور زکوۃ وغیرہادا نہ کئے ہوں توتوبہ کیساتھ ان احکامات کی حتی الامکان قضاء بھی لازمی ہے۔٭دوسرے گناہ مثلاًشراب نوشی ،رقص وسرور ،گانا بجانا ،قمار اور سود وغیرہ ایسے گناہوں کی معافی کی صورت یہ ہے کہ پہلے تو ان کو فوراً چھوڑ دیا جائے ، پھر اللہ جل شانہ سے معافی مانگ کر ان گناہوں کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے ۔٭تیسری قسم کے گناہ بندوں کے حقوق کے متعلق ہیں ،سب سے زیادہ سنگین یہی ہے ،مثلاً کسی کو قتل کردیا ہو،کسی پر بہتان لگایا ہو ،جھوٹی گواہی دی ہو ،توان گناہوں کا جن سے تعلق ہے،اس کو کسی نہ کسی صورت میں راضی کرنا بہت ضرروری ہے ،اگر ایسا نہ کر سکے تو بجز اس کے کوئی صورت نہیں کہ اللہ جل شانہ ہی معافی طلب کرے تاکہ قیامت میں آپل کی طرف سے وہ انکو راضی کردے اور آپ کو بھی معاف کر دے۔امام غزالی نے احیا ء العلوم میں فرمایا ہے کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں ۔

٭کسی گناہ کا کبھی ارتکاب ہی نہ ہو ۔تو یہ فرشتوں کا درجہ ہے ،یا انبیاء کی خصوصیت ہے کی خدا نے ان کو معصوم پیدا کیا ہے۔٭دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی گناہوں کا ارتکاب کرے اور گناہو ں کو گناہ نہ سمجھے ،نہ ندامت محسوس کرے اور نہ ان کو چھوڑنے کا ارادہ رکھے ،یہ درجہ شیطان صفت انسانوں کا ہے ،کہ جس شیطان نے اللہ کی نافرمانی کرکے کبھی ندامت محسوس نہیں کی ،اور توبہ نہ کی۔٭تیسرا درجہ عقلمند اور نیک لوگوں کا ہے کہ اگر کوئی گنا ہ سر زد ہو گیا تو فوراً اس پر نادم ہو کر توبہ کرتے ہیں ،اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کر لیتے ہیں ۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ ہونے کے بعد توبہ نہ کرناخالص شیاطین کا کام ہے ،اسی طرح اگر زبان سے توبہ کر لے اور ان میں اس گناہ کے پھرکرنے کا ارادہ ہے ،تو یہ توبہ نہیں کہلاتی ،ایسی توبہ سے بھی توبہ کرنی چاہئے ۔رحمت الہی گناہگاروں کی توبہ کی منتظر رہتی ہے :۔بشری کمزوریوں کی وجہ سے یا نفس کے ٖ غلبے سے گناہ ہو جانا اتنی بڑی بات نہیں ،کہ جتنا گناہ پر اصرار کرنا ،یعنی بار بار کرنایا گنا ہ کو اہمیت نہ دینا اور استغفار یعنی اس گناہ سے توبہ نہ کرنا ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم سب خطا کار ہو اور سب سے اچھے خطاکار وہ ہیں جواپنی خطا سے توبہ کر لیتے ہیں ۔ایک اور حدیث میں توبہ کرنیوالوں کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے کہ جیسے کبھی اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔اکثر لوگ جن کی عمر اللہ کی نافرمانی اور گناہوں میں گذری ہو ، شرم کی وجہ سے توبہ نہیں کرتے ۔ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر ایک آدمی ساری دنیا کے گناہگاروں جیسے گناہ بھی کر لے پھر بھی جب وہ صدق دل سے اللہ سے معافی چاہے گا ،تو اللہ پاک اس کو یقینا معاف فرما دیں گے ۔قرآن کریم میں یہ خوشخبریاں گناہگاروں کو مختلف الفاظ میں سنائی گئی ہیں ،ایک جگہ فرمایا کہ ۔۔۔۔’’آپ کہہ دی جئے کہ اے میرے بندوں ،جنھوں نے (میری نافرمانی کرکے ـ)اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں ،تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ،بالیقین اللہ تعالی تمام گذشتہ گناہوں کو معا ف فرمادے گا ۔

واقعی وہ بڑا بخشنے والا اور رحمت والا ہے۔ ‘‘حضرت شیخ عبدالحق شرح اسماء حسنی میں کہتےہیں کہ العفو جس کے معنی ہیں سیئات کو محو کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا۔ اگرچہ معنی و مفہوم کے اعتبار سے غفور کے قریب ہے لیکن عفو، غفور سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ غفران کے معنی ہیں ستر وکتمان، اس لئے غفار کے معنی ہوں گے گناہوں کو چھپانے والا جب کہ عفو مشعر بمحو و معدوم کر دینے کے ہے جس کا مطلب ہے گناہوں کو معاف کر کے ختم و معدوم کر دینے والا۔ لہٰذا بندہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کی شان عفو کے پیش نظر اس کی طرف سے معافی و بخشش کا پوری طرح امیدوار ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کسی بھی گنہگار کے ساتھ تحقیر و تذلیل کا برتاؤ نہ کیا جائے کیونکہ یہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے حدود شرع اور احکام دین کی پابندی کی بنا پر بخش دے اور اس کے گناہوں کو یکسر محو کر دے۔ اس اسم پاک کا بندہ پر تقاضہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی تقصیرات اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کر کے انہیں معاف کر دے تاکہ (غصہ کو نگل جانے والوں اور لوگوں کو معاف کرنے والوں) کے زمرہ میں داخل ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم العفو کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص کثرت سے یَاعَفُوُّپڑھا کرے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو انشاء اللہ معاف فرمادیں گے اور اسے رضائے الٰہی حاصل ہوگی ۔ اور اچھے اعمال کی تو فیق بخشے گا۔ *جوتین ہفتہ تک اس اسم کا ورد رکھے گا سب دشمن اس کے دوست بن جائیں گے اور لوگوں میں معز ز ہوگا۔* جو کوئی کسی شخص سے ڈرتاہواس اسم مبارک کو بہت پڑھے خوف دور ہوگا۔* اگراس اسم کے ساتھ (الغفورُ) کوبھی ملالیا جائے تو یہ قبولیت کے زیادہ قریب ہے ۔* جواسے ایک سوچھپن (۱۵۶) با ر پڑھے گااللہ تعالی اسے خوف سے امان عطا فرمائیں گے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت العفو کے صدقے میں گناہوں سے توبہ کرنے اور نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment