اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام الظاہر کا انوکھاعمل وظائف

al zahir

الظاہر کے معنی ہیں ہر چیز پر غالب آنے والا ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ وہ (اللہ) اول بھی ہے آخر بھی ہے ظاہر بھی ہے باطن بھی ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ الظاھر کے متعلق بعض کا قول ہے کہ یہ اس معرفت کی طرف اشارہ ہے جو ہمیں بالبداہت حاصل ہوتی کیونکہ انسان جس چیز کی طرف بھی نظر اٹھا کر دیکھے اس کی فطرت کا یہی فیصلہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے جیسے فرمایا : اور وہی ایک آسمانوں میں معبود ہے اور دوہی زمین میں معبود ہے اسی لیے بعض حکماء کا قول ہے کہ معرفت الہی کے طالب کی مثال اس شخص کی ہے جو اطراف عالم میں ایسی چیز کی تلاش میں سر گردان پھر رہا ہو۔ جو خود اس کے پاس موجود ہو۔

الباطن سے اس حقیقی معرفت کی طرف اشارہ ہے جس کے متعلق حضرت ابوبکر نے فرمایا ہے۔ اے وہ ذات جس کی معرفت کی انتہا اس کی معرفت سے در ماندگی ہے ) بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیات دولائل قدرت کے لحاظ سے ظاہر ہے اور باعتبار ذات کے باطن ہے۔ اور بعض نے کہا کہ الظاہر سے اس کا تمام اشیاء پر محیط ہونا مراد ہے اور اس اعتبار سے کہ وہ ہمارے احاطہ اور اک میں نہیں آ سکتا الباطن ہے۔ چنانچہ فرمان الہی ہے۔ وہ ایسا ہے کہ ) نگاہوں کا اور اک کر سکتا ہے ۔اللہ ظاہر ہے کہ اس کے اوپر کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ سب اونچی شان والوں سے بھی اونچا اور اعلی ہے۔ اہل فہم و اہل علم کے آگے دلائل و براہین سے ، وحدانیت کی نشانیوں کے ساتھ ظہور بمعنی علو کے بھی ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے ” ” فلاں ظاہر ہوا یعنی بلند و بالا ہوا۔ اس معنی میں دعا کا بقیہ حصہ بھی تقویت فراہم کرتا ہے۔”کہ “۔ تو سب سے بلند ہے تجھ سے بلند کوئی چیز نہیں اور تو سب سے پوشیدہ ہے، تجھ سے ورے بھی کوئی چیز نہیں۔ (الزجاج)الظاہر کا ایک معنی ،اپنی مصنوعات اور مخلوقات کے اعتبار سے جو اس کے کمال صفات کی دلیل ہیں، آشکار۔اللہ کا وجود اس کائنات کی ایک کھلی حقیقت ہے۔ اس دنیا کے نباتات، جمادات ، حیوان، چرند، پرند اور انسان اپنے ظاہر و باطن سے اعلان کررہے ہیں کہ وہ آپ سے آپ وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں کسی نے پیداکیا ہے۔ چنانچہ ہر شے کا اپنے رب سے پہلا رشتہ مخلوق اور خالق کا ہے۔جہاں تک انسان کا معاملہ ہے تو اس کا اپنے پروردگار سے تعارف دو بنیادوں پر ہے۔ ایک بنیاد تو داخلی ہے اور دوسری خارجی۔ داخلی طور پر ہر انسان کی فطرت میں اللہ نے اپنے وجود اور توحید کے تصور کو پنہاں کردیا ہے جس کا اشارہ عہد الست سے بھی ملتا ہے(سورہ الاعراف)۔

چنانچہ جب ایک انسان اپنے باطن میں جھانکتا ہے تو اپنے اندر ایک خالق اور مالک ہستی کو محسوس کرتا اور اسے تسلیم کرکے اپنی پیاس بجھاتا ہے۔ دوسری جانب جب انسان خارجی ماحول میں نظر دوڑاتا ہےتو اسے کائنات کی رنگینی، ہم آہنگی،نظام ربوبیت اور نظم یہ ماننے پر مجبور کردیتا ہے کہ کوئی برتر و بالا ہستی موجود ہے جو اس کائنات کو تخلیق کرکے تدبیر کے ساتھ چلا رہی ہے۔اپنے خالق کو انسان اس دن سے سمجھنے کی کوشش کررہا ہے جس دن سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ انسان کے علم کی محدود یت کی بنا پر مکمل طور پر اللہ کی ذات اور صفات کا احاطہ ممکن نہیں ہوسکا۔ انسان کی تفہیم اور عقل کے ساتھ مفادات، تعصبات اور جذبات کی آفات کی وجہ سے اللہ کے بارے میں غلط تصورات بھی خلط ملط ہوتے چلےگئے ۔نتیجے کے طور پر انسان اپنے خالق کے درست تصور سے دور ہوتا چلا گیا۔ اسی دوری کی وجہ سے خدا کو دنیاوی بادشاہوں کی طرح سمجھ کر اس کے شریک مقرر کئے گئے تو کبھی تقدیر کےخالق خدا کو ہی اسباب و علل کا پابند بنادیا گیا۔ کبھی خدا کی صفت رحم میں افراط کرکے ہر گناہ کو جائز کرلیا گیاتو کبھی اسکی صفت قہاریت کو حاوی کرتے ہوئے مایوسی اختیار کرلی گئی۔ یہ افراط و تفریط اور غلط فہمی محض ان قوموں میں ہوتی جو وحی سے ناآشنا ہیں تو اتنی قابل تشویش نہ ہوتی ۔لیکن کم و بیش یہ ساری خامیاں وحی کے حامل مسلمانوں میں بھی پائی جاتی رہی ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ اللہ کی کتاب سے راہنمائی لینے کی بجائے فلسفے اور خواہش پرستی کی بھول بھلیوں میں کھو جانا ہے۔اللہ کے ظاہری وجود کے بارے میں جاننے کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ ہم کسی بھی چیز کی ماہیت جاننے کے لئے یا تو اس کا مشاہدہ کرتے ہیں یا پھر اس کو کسی دوسری چیز سے تشبیہ دے کر اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں(میزان صفحہ ۹۲) ۔

اللہ تعالیٰ کے معاملے میں یہ دونوں ناممکن ہیں۔ انسان کی آنکھ اپنی محدودیت کی بنا پر اللہ کی تجلی کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتی(سورۂ انعام ۱۰۳:۶)۔ یہاں تک کہ جب اللہ کے اپنے چنے ہوئے اور برگزیدہ پیغمبر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دیدار الٰہی کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نرمی سے سمجھادیا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے (سورۂ اعراف ۱۴۳:۷)۔ جہاں تک اللہ کو کسی شے سے تشبیہ دینے کا معاملہ ہے تو یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ اللہ کے مثل کوئی شے موجود ہی نہیں جس کی مثال دے کر اللہ کے وجود کو بیان کیا جاسکے ۔ (الشوریٰ ۱۱:۴۲) ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ اس کی ذات یا ظاہری وجود نہیں بلکہ اس کی صفات ہیں۔معرفت کے لغوی معنی شناخت، پہچان، آگہی اور واقفیت کے ہیں۔معرفت الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کو جانا جائے، اسے پہچانا جائے، اس سے واقفیت حاصل کی جائے۔کسی بھی شخصیت کی پہچان یا تو اس کے ظاہر ی وجود کو دیکھ کر ہوتی ہے یا پھر اس سے متعلق کچھ خصوصیات کو پہچان کر۔ مثال کے طور پر ایک باپ اپنے بیٹے کو دیکھتا ہے تو شناخت کرلیتا ہے ۔ دوسری جانب ایک بیٹی جب کھانا کھاتی ہے تو ماں ذائقے سےپہچان لیتی ہے کہ یہ کونسی بیٹی نے پکایا ہے۔ باپ کی شناخت ظاہری وجود کو دیکھ کر اور ماں کی معرفت بیٹی کی صفت کو دیکھ کر ہوئی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ کی معرفت اسکے ظاہری وجود کے ذریعے کم از کم اس دنیا میں تو ممکن نہیں۔ چنانچہ اسے کسی حد تک جاننے اور پہچاننے کا واحد ذریعہ اسکی وہ چند صفات ہیں جو انسان کے سمجھ میں آسکتی ہیں۔اور انہی میں سے ایک الظاہر بھی ہے اسے سمجھنے کے لئے یہ بات جان لینی چاہِیے کہ کسی بھی شخصیت سے تعلق کی ابتدا اسے پہچاننے اور جاننے ہی سے ہوتی ہے۔

مثا ل کے طور پر میں سقراط کو پسند کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس نے ہمیشہ صداقت اور حق کی تعلیم دی اور اس صداقت کی خاطر زہر کا پیالہ تک پی لیا لیکن اپنے اصولوں پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔سقراط کے بارے میں اس معلومات کی بنا پر میرا اس سے ایک قلبی تعلق ہے۔ لیکن وہ شخص جس نے سقراط کا صرف نام سن رکھا ہے اس کا نہ تو اس سے کوئی رشتہ ہے اور نہ ہی کوئی جذباتی وابستگی۔ اسی سے ملتا جلتا معاملہ اللہ کی معرفت کا ہے۔ اس دنیا میں ہر شخص اللہ کو کسی نہ کسی نام سے جانتا ہے لیکن اسے علم نہیں کہ خدا کی صفا ت کیا ہیں ؟ چنانچہ اسکی یہ لاعلمی یا کم علمی اپنے خالق سے تعلق کی کمزوری اور بالآخر معدومیت کی سبب بن جاتی ہے۔ سقراط کو نہ جاننے کا تو کوئی نقصان نہیں لیکن اپنے خالق کو نظر انداز کردینا منطقی طور پر کئی مصیبتوں کا پیش خیمہ ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الظاہر کے فوائد و برکات میں سےہے۔جوشخص نماز اشراق کے بعد پانچ سومرتبہ یَاظَاہِرُ کاوردکیا کرے اللہ تعالی اسکی آنکھوں میں روشنی اور دل میں نور عطا فرمادیں گے ‘ انشاء اللہ ۔ اگر بارش وغیرہ کاخوف ہوتو یہ اسم مبارک کثرت سے پڑھے انشاء اللہ امان پائے گا ۔اگرکوئی گھر کی دیوار پریہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ دیوار سلامت رہے گی۔جوکوئی سرمہ پر گیارہ بار یہ اسم مبارک پڑھ کر آنکھوں پر لگا ئے لوگ اس پر مہر بانی کریں ۔ جو جمعہ کے دن پانچ سو مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھے گااس کا باطن پرنور ہوگا اور انشا ء اللہ دشمن مغلوب ہوگا۔* یہ ار باب مکا شفات کاذکر ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت ظاہر کے صدقے اپنی ذات کی پہچان نصیب فرمائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment