قصص الانبیا ء

اللہ تعالیٰ کے حضرت داؤد علیہ السلام پر انعمات

اللہ تعالیٰ کے حضرت داؤد علیہ السلام پر انعمات

اللہ تعالیٰ کے حضرت داؤد علیہ السلام پر انعمات

اللہ تعالیٰ کے حضرت داؤد علیہ السلام پر انعمات : بادشاہی اور دانائی
حضرت داود علیہ سلام نوسوپینسٹھ قبل مسیح فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔حضرت داود علیہ السلام طالوت کی طرف سے جالوت سے لڑے اور اُسے قتل کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت داود کو پہلے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنایا۔  اور رسالت کی عظیم منصب پر فائز کیا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے،”داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور اللہ نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جن جن چیزوں کا چاہا، انہیں علم دیا”
اللہ تعالیٰ نے حضرت داود علیہ السلام کو بہت ساری انعامات اور ہنر سے نوازا تھا۔

زبور اور سحر انگیز لحن کا انعام:

قرآن کریم کی سورۃ بنی اسرائیل میں اِرشاد ہے،”اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد کو زبور کی عنایت کی۔” زبور کے نزول کا مقصد تورات کی تکمیل تھا۔چونکہ زبور اللہ کی حمدوثنا سے مزین ہے اور حضرت داؤد پر نازل کی گئی ہے اللہ نے حضرت داؤد کو دل نشین آواز اور سحر انگیز لہن بھی عطا فرمایا۔آپ جب زبور کی تلاوت فرماتے تو وجد آفرین تلاوت سے محصور ہو کے دنیا کی ہر چیز اللہ کی حمدوثنا میں محو ہو جاتی۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوہے کا موم بننا

اللہ تعالیٰ نے حضرت داود کو ایک انعام یہ بھی عطا فرمایا۔ کہ لوہے کو اُن کے لیے موم کی طرح نرم فرما دیا۔
ارشادِ ربانی ہے۔” اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا ۔کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک اعمال کرو.”
حضرت حسن بصری، قتادہ اور اعمش فرماتے ہیں۔”اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا حتٰی کہ بغیر آگ و بھٹی کے اپنے ہاتھوں سے موڑ لیا کرتے تھے۔انہے لوہے موڑنے کے لیے ہتھوڑے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔ اور نہ کسی دوسرے اوزار کی۔وہ موم کی طرح ہاتھ سے اس کی کڑیاں بنا لیا کرتے تھے۔حضرت داود وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے لوہے کی سب سے محفوظ ذرہ بنائی تھی۔اس سے پہلے چادر کی زرہ بنتی تھی۔

ذرہ سازی کا ہنر

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو اپنے اہل وعیال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ذرہ سازی کا ہنر بھی عطا کیا۔ارشادِ ربانی ہے،” اور ہم نے اسے(داؤد کو) تمہارے لیے لباس بنانے کا ہنر سکھایا تا کہ لڑائی کی ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو۔”
اور اس انعام سے حضرت داود محنت کرتے اور اپنے اہل وعیال کے اخراجات اٹھاتے۔
حضرت داؤد علیہ السلام ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے اور اللہ تعالیٰ کو حضرت داؤد کی نماز سب سے زیادہ محبوب تھی۔

Leave a Comment