اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام الواسع کے فوائد ، تفسیر و وظائف

الواسع اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الواسع کے معنی وسعت دینے والا ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور اللہ تعالیٰ وسعت دینے والا، دانا ہے۔ (النساء : )اس کی صفات اور تعریفات وسیع ہیں اس کی عظمت بادشاہت اور سلطنت وسیع ہے۔ اس کا فضل واحسان بہت ہی وسیع ہے۔ اس کا علم، حکمت اور رحمت وسیع ہے اس کی مغفرت بڑی ہی وسیع ہے۔ وہ اپنے بندوں کو دین میں اتنے ہی احکامات کا مکلف بناتا ہے۔

جو ان کی وسعت میں ہوں۔ الواسع وسیع علم والا اور اپنی نعمتوں سے سب کو نوازنے والا۔اللہ وسعت والا ہے. اس کی کوئی حد نہیں. وہ اپنی ہر صفت میں وسعی ہے. اس کا کچھ بھی اور کوئی بھی احاطہ نہیں کر سکتا. اس نے ہر ایک چیز کو اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے. اس کی ذات اعر صفات بہت وسعی ہیں. وہ اپنی ذات صفات میں یکتا بے مثال اور لاشریک ہے۔اللہ سبحانہ وتعالی واسع ہے وہ ساری مخلوق کو کفایت اور فضل وکرم اور تدبیر کرنے کے اعتبار سے واسع اور اللہ تعالی غنی ہے جس کا رزق اس کی ساری مخلوق کے لۓ وسیع ہے تو آ‎پ کوکو‎ئ بھی ایسا نہیں ملے گا جو اس کا دیا ہوارزق نہ کھاتا ہواور نہ کسی کے اندر اتنی طاقت ہے کہ وہ اس کے ديۓ ہوۓ رزق کے علاوہ کچھ کھا سکے ۔اس کی رحمت ہرچيز کووسیع اوراس کا غناء ہرقسم کے فقر کووسیع ہے ، اللہ تعالی کی عطاء بہت ھی زیادہ ہے جواس سے مانگاجاۓ اسے وسیع ہے ، اور وہ ہرچیزپر محیط ہے جیسا کہاللہ تعالی کا ارشاد ہے :{ اس کا علم ہرچيزپر حاوی ہے } طہ(98) فرمان باری تعالی ہے{ اے ہمارے رب تو نے ہرچیزکواپنی رحمت اورعلم سے گھيررکھا ہے } غافر ( 7 )یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت بھی بہت وسیع ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک رحمت تو جنات، انسان چوپایوں اور زہریلے جانوروں میں اتاری ہے چنانچہ اسی ایک رحمت کے سبب وہ آپس میں میل ملاپ رکھتے ہیں اور اسی کے سبب وہ آپس میں رحم کرتے ہیں اور اسی کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں سے الفت رکھتا ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ نے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے مومن بندوں پر رحم کرے گا۔

(بخاری و مسلم) اور مسلم نے ایک روایت حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے اس کے مانند نقل کی ہے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پس جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ان ننانوے رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ جو دنیا میں اتاری گئی ہے پورا فرما دے گا۔ مسلم کی اس دوسری روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی بندوں کے شامل حال رہے گی جو دنیا میں اتاری گئی ہے اس طرح ایک رحمت تو یہ دنیا والی اور ننانوے رحمتیں وہ جو قیامت کے دن کے لئے حق تعالیٰ نے مخصوص کر رکھی ہیں یہ سب مل کر پوری سو ہو جائیں گی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب میثاق کے دن مخلوقات کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا (یا یہ کہ جب مخلوقات کو پیدا کرنا شروع کیا) تو ایک کتاب لکھی (یعنی فرشتوں کو وہ کتاب لکھنے کا حکم دیا یا قلم کو لکھنے کا حکم فرمایا) وہ کتاب حق تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر ہے اس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ بلاشبہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (بخاری و مسلم) جس کتاب میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت عظمی لکھی ہوئی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس کتاب کی عظمت و بزرگ قدری کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کتاب کی اس عظیم و بزرگ قدری کے پیش نظر حق تعالیٰ نے اس کو اپنے پاس عرش کے اوپر رکھا ہے۔ رحمت خداوندی کی سبقت اور اس کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی بخشش و کرم اور اس کی نعمتوں کی نشانیاں اور اس کے مظاہرے غالب ہیں کہ وہ تمام مخلوقات کو گھیرے ہوئے ہیں اور بے انتہا ہیں اس کے مقابلہ میں اس کے غضب کی نشانیاں اور اس کے مظاہر کم ہیں جیسا کہ خود حق تعالیٰ کا ارشد ہے۔

کہ اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔ فرمایا۔ عذاب تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ کائنات کا کوئی فرد اس سے باہر نہیں ہے اور اس دنیاوی زندگی کا ایک ایک لمحہ کسی نہ کسی شکل میں رحمت خداوندی ہی کا مرہون منت ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں بندوں کی طرف سے خدائے رحیم و کریم کی نعمتوں اور رحمتوں کے شکر کی ادائیگی میں جتنی کوتاہی اور قصور ہوتا ہے اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کے سبب ان سے مواخذہ کرنے لگے تو اس کے نتیجہ میں ایک بھی جاندار روئے زمین پر نہ چھوڑے۔چنانچہ یہ بھی حق تعالیٰ کی رحمت کا ہی ظہور ہے کہ بندوں کی تمام کوتاہیوں اور خطاؤں کے باوجود اس دنیا میں ان کو باقی رکھتا ہے اور ان کو روزی دیتا ہے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کرتا ہے اور اس دنیا میں ان کو عذاب و مواخذہ میں مبتلا نہیں کرتا یہ تو اس دنیا کا معاملہ ہے کہ یہاں حق تعالیٰ کی رحمت کا ظہور کس کس طرح اور کن کن صورتوں میں سامنے آتا ہے لیکن آخرت میں رحمت کا ظہور تو اس دنیا کے ظہور سے کہیں زیادہ ہو گا ۔اللہ تعالی کے اس اسم الواسع سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنے علم میں اپنی سخاوت میں اور معارف واخلاق میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کرے سب ہی سے چہرہ کی بشاشت اور کشادگی کے ساتھ پیش آئے اور دنیاوی مقاصد کے حصول میں فکرمند نہ رہا کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم اکواسع کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص اس اسم پاک کو بہت پڑھے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرے حق تعالیٰ اسے قناعت اور برکت کی دولت سے نوازے گا۔*

جوشخص بکثرت یَاوَاسِعُ کاذکر کرے گا انشاء اللہ اسکو ظاہری وباطنی غنا ء اللہ تعالی عطا فرمائیں گے اور اسمیں بلند حوصلگی وبر دباری پیدا ہوگی ۔* جو اس کا کثرت سے ذکر کرے گا ظاہر ی اور باطنی غنا نصیب ہوگا ۔* نیز اسے عزت،حوصلہ و بردباری ووسعت قلبی اور دل کی صفائی نصیب ہوگی اوراللہ تعالی معاملات میں کشادگی اس کے لئے عطافرمائے گا ۔* جو کوئی اس اسم کوپڑھتا رہے اس پر ملا ئکہ نازل ہوتے ہیں ۔* جواس اسم کو پڑھنے کا معمول بنالے اسے انشاء اللہ روزی ملے گی اور مفلس نہیں ہوگا۔* جس کو بچھوکاٹ لے وہ یہ اسم مبارک ستر(۷۰)بار پڑھ کردم کرے انشاء اللہ زہر اثرنہ کرے گا * جوکشائش (کشادگی ) کے واسطے اس کا جتنا ور د بڑھا ئے گا اتنا مالدار ہوجائے گا ۔* جس لڑکی کا رشتہ نہ آتاہو وہ نوے (۹۰) دن تک سونے سے پہلے اَلْوَاسِعُ جَلَّ جَلا لُہٗ کا ایک سوایک (۱۰۱) بار ورد کرے انشاء اللہ اس دوران رشتہ آجائے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے صفت وسعت کے صدقے ہماری لغزشوں درگزر فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment