اسلامک وظائف

اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام النافع کے فوائد و وظائف

nafay

النافع کے معنی ہیں نفع پہنچانے والا۔جو اپنے بندوں کے ضرر کی بجائے نفع زیادہ پہنچاتا ہے۔النافع کا ایک معنی ہےنفع پہنچانے کی قدرت رکھنے والاجیساکہ اللہ کی مکمل کتاب قرآن حکیم بندوں کے لئے سکون کا باعث ہے، ہدایت کا سامان ہے اور زندگی کے ہرموڑ پر انہیں امید دلاتی ہے ۔اس لئے اسے سینے سے چمٹائے رکھنے حرزجان بنائے رکھنے، پڑھنے ، پڑھانے اور زندگی میں اتارے رکھنے کی ضرورت ہے ۔

ہمیں جب بھی بے چینی محسوس ہو اللہ کا کلام پڑھیں، پریشانی کا سامنا ہو کلام الہی کی تلاوت کریں ، خوف وہراس کا منظر ہو ذکر خالق سے دل وزبان تروتازہ کریں یعنی ہمیں کبھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے خواہ حالات کچھ بھی ہوں ۔ آخر ہمارا کوئی خالق ہے وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے ، سب کی نگرانی کرنے والا ہے ، سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے ، روزی روٹی سے لیکر زندگی کا ہر سامان مہیا کرنے والا ہے ۔ ہم کیوں مایوس ہوتے ہیں جبکہ اللہ نے ہمیں ہر قسم کی پریشانی سے نکلنے کا راستہ بتلایا ہے ، خیر وشر کی تمیز دی ہے ، ایمان وکفر کا فرق دیا ہے ، ایک روشن دین اور کھلی کتاب دی ہے جس کے ہر کلمہ میں روشنی ، امید اور ہدایت ہے ۔ممکن ہے دیگر مذاہب میں مایوسی کی تعلیم دی گئی ہو مگر اسلام میں اس کو کوئی جگہ نہیں دی گئی ہے بلکہ مایوسی ایسا گناہ ہے جو کفر تک لے جاتا ہے اور بسا اوقات آدمی کافر بھی ہوجاتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے ::اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقینا رب کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں ۔دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :: کہا اپنے رب تعالی کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : :اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا کبیرہ گناہ ہے ۔یعنی اللہ کی رحمت سے مایوسی صریح گمراہی ہے ، یہ راستہ گمراہ اور کافر ہی اختیار کرتا ہے ، اگر کوئی مسلم مایوسی کا شکار ہے تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اسے توبہ کرنا لازم ہے۔قر آ ن حکیم کا ورق ورق اور سطر سطر بندوں کے لئے راحت کا سامان ہے ، ہے کوئی جو قرآن پڑھکر اور سمجھ کر دیکھے ؟ ہے کوئی جو اپنی بیماریوں کا علاج اس کتاب میں تلاش کرے ؟

تاریخ گواہ ہے جس نے بھی قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا اس کے حصے میں کامیابی ہی کامیابی آئی ۔ آپ بھی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو کتاب اللہ کو اپنا ساتھی بنائیں، اسے غوروفکر سے پڑھیں ، اس پر عمل کریں اور اس کی طرف قوم مسلم وغیرمسلم کو بلائیں ۔علماء نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کی وہ کون سی آیت ہے جو بندوں کو سب سے زیادہ امید دلاتی ہے ، مایوسی سے بچاتی ہے اور گنہگار ہوکر بھی اپنے خالق ومالک سے عفو ودرگزر کی امید جگاتی ہے ۔ اس سلسلے میں کئی قرآنی آیا ت ذکر کی جاتی ہیں تاہم اکثر وبیشتر اہل علم نے سورہ زمر کی آیت نمبر ترپن کو سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت قرار دیا ہے ، اللہ کا فرمان ہے (میری جانب سے کہہ دو) کہ اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ جاو، بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے ، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔یہ قول حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی طرف بھی منسوب ہے مگر سندا یہ اقوال ثابت نہیں ہیں۔ جب ہم اس آیت کی شان نزول تلاش کرتے ہیں تو صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی یہ روایت ملتی ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت خون ناحق بہائے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے تھے، وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ یقینا اچھی چیز ہے لیکن اگر آپ ہمیں اس بات سے آگاہ کر دیں کہ اب تک ہم نے جو گناہ کیے ہیں کیا وہ معانی کے قابل ہیں، تو اللہ تعالٰی نے یہ آیات نازل فرمائیں: “وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو ناحق قتل بھی نہیں کرتے، جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔” اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: “کہہ دیجیے! اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ۔”

گوکہ شان نزول میں خطاب مشرکین مکہ کو ہے مگر اس آیت کا حکم عام ہے ، اس میں مشرکین وکفار اور ہرقسم کے گنہگار شامل ہیں جنہوں نے خوب خوب گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کئے ہوں ۔حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ آیت تمام نافرمانوں خواہ کافر ہوں یا دوسرے توبہ اور انابت کی طرف دعوت دینے والی ہے ،اور خبر دینے والی ہے کہ اللہ توبہ کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والوں کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے ۔ گناہ کتنے بھی ہوں اور سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوجائیں ۔اور اس آیت کو توبہ پرمحمول نہ کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ شرک توبہ کے بغیر معاف نہیں کیا جاتا ہے۔سب سے پہلے اللہ اپنے پیغمبر کو خطاب کرتا ہے کہ وہ اپنی امتی کو خبر کرے پھر یا عبادی کے ذریعہ بندوں کو شفقت ومحبت بھرے نرالے انداز میں یاد کرتا ہے ۔ تمہیں ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے ، تم نے گناہ کرلئے تو کیا ہوا؟ بندے تو میرے ہی ہو۔میں ہی تمہارا خالق ومالک ہوں ۔ اور تو کوئی نہیں جس سے تمہیں گھبرانے کی ضرورت ہے۔• جب اللہ اپنے بندوں کو پیار بھرے لہجے میں پکار کر ان کا احترام واکرام کرتاہے پھر معصیت ونافرمانی کی کثرت یاد دلاتا ہے کہ تم نے حد سے زیادہ معصیت کرلی ، گناہوں کی حد پار کردی، نافرمانی پہ نافرمانی کرتے رہے۔ معاصی کی کثرت یاد دلانے کے بعد اب گنہگاروں کی ڈھارس بندھاتا ہے ، ناامیدی سے روکتا ہے اور صاف لفظوں میں گنہگاروں سے کہتا ہے کہ گناہوں کی کثرت ہوجانے کی باوجود بھی تمہیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا ہے ۔ اوپر آپ نے قرآن کی چند آیات بھی پڑھیں جن میں مایوسی گمراہ وکافر کی صفت قرار دی گئی ہے۔ مومن کو کسی بھی طور اور کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ ایسے موقع پر اللہ پر توکل بہت کام آتا ہے اور ایمان ویقین میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم النافع کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص کشتی یاکسی اور سواری میں سوار ہونے کے بعد یَانَافِعُ کثرت سے پڑھتا رہے انشاء اللہ ہر آفت سے محفوظ رہے گا ۔

یاکسی بھی کام کے شروع کرتے وقت (۴۱)مرتبہ یَانَافِعُ پڑھ لیا کرے انشاء اللہ کام حسب منشا ہوگا ۔* جوشخص بیوی سے جماع کے وقت یہ اسم مبارک پڑھ لیاکرے اسے انشاء اللہ اولا د صالح نصیب ہواور بیوی کواس سے محبت ہوگی ۔* جو کوئی اس اسم کو پڑھ کر مریض پردم کرے انشاء اللہ وہ شفاپا ئے گا ۔ *جوماہ رجب میں اس کا ورد کرے گا انشاء اللہ مرادِ الٰہی سے آگا ہ ہوگا۔* جو سفر میں اسے پڑھا کرے انشاء اللہ بخیر گھر واپس آئے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے اسم النافع کے صدقے ضرر سے بچائے اور خٰر اور برکت نصیب فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment