اسلامک معلومات

اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والے سود کھلانے والے اور اُس کا کاغذ لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

سود کھانا ایک کبیرہ گُناہ
سود کسے کہتے ہیں ؟
عقد معاوضہ میں جب دونوں طرف مال ہواور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابل میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے۔
سود کی اقسام
سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) رِبَا الْفَضل (۲) رِبَا النَّسِیئۃ

قدروجنس دونوں موجود ہوں توکمی بیشی بھی حرام ہے (اس کو رِبَا الْفَضْل کہتے ہیں) اور ایک طرف نقد ہو دوسری طرف ادھاریہ بھی حرام (اس کو رِبَا النَّسِیئۃ کہتے ہیں)مثلاً گیہوں کو گیہوں جَو کو جَو کے بدلے میں بیع کریں تو کم و بیش حرام اورایک اب دیتا ہےدوسرا کچھ دیر کے بعد دے گا یہ بھی حرام۔اور دونوں میں سے ایک ہوایک نہ ہو تو کمی بیشی جائز ہے اور اُدھار حرام۔ مثلاً:گیہوں کو جو کے بدلے میں یا ایک طرف سیسہ ہوایک طرف لوہا کہ پہلی مثال میں ماپ اور دوسری میں وزن مشترک ہے مگر جنس کا دونو ں میں اختلاف ہے۔ کپڑے کو کپڑے کے بدلے میں بکری کوبکری کے بدلے میں بیع کیا اِس میں جنس ایک ہے مگر قدر موجودنہیں لہٰذا یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک تھان دیکر دوتھان یا ایک بکری کے بدلے میں دوبکریاں خرید لیے مگر اودھار بیچنا حرام اور سود ہے اگرچہ کمی بیشی نہ ہواور دونوں نہ ہوں تو کمی بیشی بھی جائز اور اودھار بھی جائز مثلاً گیہوں اور جو کو روپیہ سے خریدیں یہاں کم وبیش ہونا تو ظاہر ہے کہ ایک روپیہ کے عوض میں جتنے من چاہوخریدو کوئی حرج نہیں اورادھاربھی جائز ہے کہ آج خریدو روپیہ مہینے میں سال میں دوسرے کی مرضی سے جب چاہودوجائز ہے کوئی خرابی نہیں۔

سودی اموال کا حکم
امام اہلِ سنّت سودی مال کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:سودی اموال پر قبضہ کرنے کے بعد بندہ اُس کا مالک ہوجاتا ہے لیکن یہ ملک فاسد اور خبیث ہےاور اب اصل مالک کی ملک بھی اُس سے زائل ہوگئی کہ ایک شے پر بیک وقت دو ملک علی سبیل التّساوی محال ہے لہذا حاصل شدہ مال واپس مالک کو لوٹانا ضروری نہیں چاہے تو اصلی مالک کو لوٹا دے اور چاہے تو اُس مال کو فقراء پر صدقہ کردے۔

سود کی مذمّت قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالی کا فرمانِ عبرت نشان ہے:(یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ)
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو۔پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا۔
اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے:(اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا فَمَنْ جَآءَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُہٗ ٓ اِلَی اللّٰہِ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کرمخبوط بنادیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا: بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے۔ اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود تو جسے اُس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اُسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اُس کا کام خدا کے سپرد ہے۔ اور اب جو ایسی حرکت کرے گاتو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مُدّتوں رہیں گے۔

صدر الافاضل علامہ سیّد نعیم الدّین مراد آبادی متوفی ۷۶۳۱ھ نے اس کے تحت خزائن العرفان میں لکھا: معنی یہ ہے کہ جس طرح آسیب زدہ سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا گر تا پڑتا چلتا ہے قیامت کے دن سود خور کا یہ حال ہوگا کہ سود سے اُس کا پیٹ بہت بھاری اور بوجھل ہوجائے گا اور وہ اُس کے بوجھ سے گر پڑے گا۔

سود کی مذمّت احادیث کی روشنی میں
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:سات ہلاک کرنے والے گُناہوں سے بچو۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا جادو کرنا جس جان کو اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے اُسے ناحق قتل کرناسود کھانا یتیم کا مال کھانا اور جنگ کے دن میدان چھوڑ کر بھاگ جانا پاکدامن سیدھی سادھی عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والے سود کھلانے والے اور اُس کا کاغذ لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور سود کے گواہوں اور سود کا کاغذ لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: سود کھانے والا سود کھلانے والا سود کا کاغذ لکھنے والااِس بات کو جان لیں کہ قیامت تک محمد (ﷺ) کی زبانِ (مبارک) پر انہیں ملعون کہا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: سود سے(بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شبِ معراج میں گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح(بڑے بڑے) ہیں اُن پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں۔

Leave a Comment