اسلامک معلومات

اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کا طریقہ

1۔ اللہ پاک سے بات کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ بہتوں نے بتایا ہے کہ قرآن مجید کلام پاک ہے اللہ پاک سے بات کرنے کا طریقہ بھی، پر ہم ناقص عقل، کج فہم، کم علم کے ساتھ اللہ پاک سے کیے گئے سوال کا جواب کہاں سے لیں؟ کیسے سمجھیں اللہ پاک کے جواب کو؟ براہ کرم رہنمائی کریں۔ 2۔ انسان غم میں ہی کیوں اپنے خدا کو یاد کرتا ہے؟ خوشی میں وہ شدت کیوں پیدا نہیں ہوتی جو غم میں ہوتی ہے؟ انسانی فطرت ایسی کیوں ہے؟

1۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بات کر رہے ہیں یا ہم اللہ تعالیٰ سے بات کر رہے ہیں، تو اس سے مراد ویسی بات چیت نہیں جو دو انسانوں کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ غیب میں ہیں، وہ اگر ایسے ہی ہم سے بات چیت کرنا شروع کر دیں جیسے ہم انسان آپس میں کرتے ہیں تو امتحان ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن پاک پڑھتے وقت جب آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کام کے کرنے یا اس سے رک جانے کا حکم دیا ہے، تو اسے خدا کی آپ کے ساتھ گفتگو سمجھیں۔ اب آپ خدا سے کیسے مخاطب ہوں، اس کے لیے نماز کو سمجھ کر پڑھیں، جو دعائیں کریں انھیں پورے شعور کے ساتھ مانگیں جیسے ایک زندہ ہستی کے سامنے آپ اپنی درخواست پیش کر رہے ہیں۔

کچھ دعائیں یا یوں کہیں آپ کی کچھ باتیں اسی وقت مان لی جائیں گی، کچھ تھوڑے وقت کے لیے مؤخر کر دی جائیں گی اور کچھ آپ کے حق میں بہتر نہ ہونے کی وجہ سے قبول تو نہیں کی جائیں گی، لیکن ان کا اجر آپ کے لیے محفوظ کر لیا جائے گا۔2۔ فطری طور پر انسان خوشیوں اور آسائشوں کو پسند کرتا ہے اور نتیجتاً خدا سے لاپروا ہو جاتا ہے۔ جس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایسی کیفیت میں خود کو کسی سہارے کا محتاج محسوس نہیں کر رہا ہوتا۔

لیکن جب اس پر کوئی تکلیف آجاتی ہے، تو وہ سہارا تلاش کرتا ہے۔ خدا سے بڑھ کر اسے کوئی سہارا معلوم نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ غم کی کیفیت میں خدا کی طرف جھک جاتا ہے۔ لیکن ایک بندہ مومن سے خوشی میں شکر اور غم میں صبر کا رویہ مطلوب ہے۔

Leave a Comment