اسلامک وظائف

اللہ تعالا کی اسم الحفیظ کا معنی مفہوم اور فوائد

الحفیظ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحفیظ کے معنی محافظ، نگران کے ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان لوگوں نے اس (اللہ) کے علاوہ دوست بنا لیے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے اور (اے نبیﷺ) تو ان پر داروغہ نہیں۔ (الشوری :6) الحفیظ سے مراد وہ ہے جو اپنی مخلوقات کی حفاظت کرتا ہے اور اپنی ایجادات کا اپنے علم کے ذریعے احاطہ کرتا ہے اور گناہوں سے اپنے اولیاء کی حفاظت کرتا ہے اور ان کو لغزشوں سے بچاتا ہے۔

اور ان کو ان کی تمام حرکات و سکنات میں اپنے الطاف سے بہرہ ور کرتا ہے اور ان کے سب اعمال اور ان کی جزاء شمار کرتا ہے۔ اور وہی ارض و سماوات کو گرنے سے بچائے ہوئے ہے۔الحفیظ کے معنی عالم کو آفات و نقصانات سے محفوظ رکھنے والا کے بھی ہیں ۔ الحفیظ کے معنی ہیں سب کی حفاظت کرنے والا، جو ہر وقت اپنی مخلوق کی حفاظت کرتا ہے اور وہ اس کی حفاظت میں نہ تھکتا ہے اور نہ ہی اکتاتا ہے، تمام کائنات کا محافظ ہے اللہ تعالی بندوں کی نگہبانی کیسے کرتا ہے اس کو سمجھنے کے لئے ایک واقعہ سنئے ابو نصر العیاد نامی ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ غربت وافلاس کی زندگی بسر کررہا تھا۔ایک دن وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین سے ہوا جس کا نام احمد بن مسکین تھا۔عالم دین کو دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا کہ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوا غموں سے تھک گیا ہوں۔عالم دین نے کہا کہ میرے پیچھے چل آؤ ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔ سمندر پر پہنچ کر عالم دین نے اسے دورکعت نفل پڑھنے کو کہا نماز پڑھ چکا تو اس نے ایک جال دیتے ہوئے کہا کہ اسے بسم اللہ کرکے سمندر میں پھینک دو۔پھینکے گئے جال میں پہلی بار ایک بڑی مچھلی پھنس گئی جال کو باہر نکالا گیا عالم دین نے کہا کہ جاؤ اس مچھلی کو بازار میں فروخت کرو اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید کر گھر لے جاؤ۔

ابو نصر سے شہر میں جا کر مچھلی فروخت کی اور حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا عالم دین کی خدمت میں پہنچا اور کہنے لگا ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کرو۔عالم دین نے کہا کہ تم نے اپنے کھانے کے لئے جال پھینکا تھا قدرت نے تمہیں مچھلی دے دی میں نے تمہاری نیکی اپنی بھلائی کے لئے کی تھی۔اس لئے یہ پراٹھے تم اپنے گھر لے جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔ ابو نصر اپنے پراٹھے لیے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں بھوکوں سے ماری ایک عورت روتے دیکھا جس کے پاس اس کا بیٹا بھی تھا۔ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے دونوں پراٹھے دیکھے اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے۔وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔یہ دونوں پراٹھے کس کو دوں۔عورت کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کی طرف دیکھا تو اس نے اپنا سر جھکا دیا اور پراٹھے بھوکی عورت کی طرف بڑھا دئیے اور بولا خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی کھلاؤ عورت کے چہرے پر خوشی اور اس کے بھوکے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ تھی لیکن ابو نصر غمگین دل کے ساتھ واپس اپنے گھر کی طرف چل دیا کہ اپنے بھوکے بچوں اور بیوی کا سامنا کیسے کرے گا۔گھر جاتے ہوئے اس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا کہ کوئی ہے جو اسے ابو نصر سے ملا دے۔لوگوں نے منادی والے سے کہا کہ یہ دیکھو یہی ابو نصر ہے منادی والے نے کہا کہ آج سے 20سال قبل تیرے باپ نے 30ہزار درہم امانت رکھے تھے۔

جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں تمہیں تلاش کر رہا ہوں آج میں نے تمہیں پا لیا ہے تو یہ 30ہزار درہم تیسرے باپ کا مال ہے لے لو۔ابو نصر کا کہنا تھا وہ بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا تھا۔اس کے کئی گھر بنے تجارت پھیلتی گئی اس نے کبھی بھی اللہ کی راہ میں دینے میں کنجوسی سے کام نہیں لیا۔ایک ہی بار میں ایک ایک ہزار درہم فراخدلی سے صدقہ اور خیرات کرنے والا بن گیا۔ایک بار اس نے خواب میں دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے میدان میں ترازو نصب ہے منادی کرنے والے نے آواز دی کہ اب ابو نصر کو لایا جائے اور اس کے گناہ وثواب کو تولا جائے ابو نصر کہتا ہے کہ ایک پلڑے میں میری نیکیاں اور دوسرے پلڑے میں میرے گناہوں کو رکھا گیا تو گناہوں والا پلڑا بھاری تھا میں نے پوچھا کہ میرے صدقات وخیرات کہاں گئے جو میں نے اللہ کی راہ میں دئیے تھے تو سننے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دئیے۔ہر ہزار درہم کے صدقے کے نیچے خواہشات اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا ان صدقات کو روٹی سے بھی زیادہ ہلکا پایا میرے گناہوں کا پلڑا اب بھی بھاری تھا میں روپڑا اور کہنے لگا ہائے رب میری نجات کیسے ہو گی۔منادی والے نے میری بات کو سنا تو اس نے کہا کہ اس کا کوئی اور عمل ہے تو اسے بھی لے آؤ۔میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ کہہ رہا تھا کہ ہاں اس کے دئیے ہوئے دو پراٹھے ہیں۔جو ابھی تک میزان میں نہیں آئے دونوں پراٹھے ترازو کے نیکی والے پلڑے میں ڈالے گئے تو نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا لیکن تھوڑا سا بھاری تھا عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جس کے پہاڑ جیسے وزن سے نیکیوں کا پلڑا مزید بھاری ہو گیا۔

منادی والے نے پوچھا کوئی اور عمل بھی اس کا باقی ہے تو فرشتے نے کہا کہ ہاں ابھی اس بھوکے بچے کی مسکراہٹ ہے اسے اس پلڑے میں ڈالا گیا تو نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔منادی کرنے والا بول اٹھا کہ یہ شخص نجات پا گیا۔ابو نصر کہتاہے کہ میں جب نیند سے بیدار ہوا تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اے ابو نصر تجھے تیرے بڑے بڑے علاقوں نے نہیں بلکہ آج تجھے تیرے دو پراٹھوں نے بچایا ہے۔ دوستوں اللہ تعالی کے اس اسم الحفیظ سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے اعضاء کو گناہوں سے اور باطن کو ملاحظہ اغیار سے محفوظ رکھے اور اپنے تمام امور میں خدا کے فیصلوں اور اس کی مشیت پر اکتفا کرے اور اس کی قضا و قدر پر راضی ہو۔ ایک بزرگ کا یہ قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کے اعضاء محفوظ رکھے اس کا دل محفوظ رکھا اور جس کا دل محفوظ رکھا اس کے بھیدوں کو محفوظ کیا۔ منقول ہے کہ ایک دن اتفاق سے ایک بزرگ و صالح کی نظر کسی ممنوع چیز پر پڑ گئی فوراً وہ بارگاہ الٰہی میں عرض رساں ہوئے الہ العالمین! مجھے اپنی بینائی کی بقاء کی صرف اسی لئے تمنا تھی تاکہ تیری عبادت میں کام آئے اب جب کہ تیرے حکم کی مخالفت کا سبب بن گئی ہے تو پروردگار! اسے مجھ سے چھین لے۔ چنانچہ ان کی بینائی جاتی رہی اور وہ اندھے ہو گئے وہ رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ بینائی جانے کے بعد رات میں انہیں پریشانی ہوئی یہاں تک کہ وہ طہارت اور وضو کے لئے پانی لینے سے بھی محتاج ہو گئے اب جب پانی ان کے ہاتھ نہ لگا اور نماز و عبادت میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو پھر خدا کے حضور عرض کیا پروردگار! میں نے خود ہی کہا تھا کہ میری بینائی مجھ سے چھین لے لیکن اب رات میں تیری عبادت کے لئے مجھے اس کی ضرورت ہے اس کے بعد خدا نے ان کی بینائی واپس کر دی اور وہ ٹھیک ہو گئے۔اللہ تعالی کے اس اسم الحفیظ کے فوائد و برکاتب میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو لکھ کر اپنے دائیں بازو پر باندھ لے تو وہ ڈوبنے، جلنے، آسیب اور نظر بد وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔

* جوشخص بکثرت یَاحَفِیْظُ کاورد رکھے گا اور لکھ کر اپنے پاس رکھے گا وہ انشاء اللہ ہرطرح کے خوف وخطر اور نقصان وضررسے محفوظ رہے گا چاہے وہ درندوں کے درمیان ہی کیوں نہ سوتا ہو۔ *یہ اسم مبارک خوفناک سفر میں حفاظت کے لئے بے حد مفید اور سریع الا ثر ہے ۔ حتی کہ اگر اسے پڑھ کردرندوں کے درمیان سو جائے تو انشاء اللہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ اس اسم کے ذکر کے بعد تین باریہ دعا پڑھے ۔ (یَاحَفِیْظُ اِحْفَظْنِیْ )* جواس اسم کو ہرروز سولہ بارپڑھے گاانشاء اللہ ہرطرح سے نڈررہے گا۔* جو مغرب کے بعد اکتالیس بارقبلہ کی طرف چہرہ کرکے ( یاحَفِیْظُ یا حَفِیْظُ یارَقِیْبُ یامُجِیْبُ یا اَللّٰہُ یااللّٰہُ ) پڑھے انشاء اللہ غیب سے روزی پائے گا ۔ *جویہ اسم مبارک کسی بیمارپرچالیس ہفتہ تک ستر بارروز پڑھ کردم کرے گا انشاء اللہ تندرست ہو جائے گا ۔*اس کو پڑھنے اور لکھ کراپنے پاس رکھنے والا ڈوبنے وجلنے،دیو،پر ی اور نظر بد سے انشاء اللہ محفوظ رہے گا ۔* جس شخص پر آسیب مسلط ہویاجسے دشمن سے جان کا خطرہ ہو وہ کثرت سے یاحافِظُ یاحَفِیْظُ یارَقِیْبُ یا وَکِیْلُ یاسَلامُ یااَللّٰہُ پڑھے ۔ ہرخطر ے سے محفوظ رہے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی نگہبانی کی صفت کے صدقے ہمارے جسم و جاں کو جہنم کے عذاب سے مامون فرمائے ۔ آمین ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment