اسلامک معلومات

اللہ کے ہاں حاضری لگاتے ہو؟

ایک نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا تھا بزرگ نے،
“کبھی کبھی حاضری دے دیتا ہوں،مگر باقاعدگی سے نہیں”
بزرگ اس صاف گوئی پر مسکرا دیے،
“اس کے حضور حاضری دیتے رہا کرو،حاضری دو گے تو ہی اس کی نظر میں اٹھ سکو گے”
“کیا اب میں اس کی نظر سے دور ہوں؟”

“نظر تو اسے ذرے کا ذرہ بھی آتا ہے.جب انسان الیکٹرون،پروٹون کے بھی پارٹیکلز تک جا پہنچا ہے اور اس نے لیپٹانز،بیرونز نکال لیے ہیں تو بنانے والا کیا نا جانے گا؟اس کے علم میں بھلا کیا نہیں ہے؟
مگر علم ہونا الگ بات ہے اور اس کی نظر میں آجانا الگ بات….”
“میاں جی!اس کی نظر میں تو مقرب ہی آتے ہیں،ہم جیسے کہاں؟ ”

“مقرب تو انسان کے اعمال اسے ٹھہراتے ہیں،جتنی روح پاکیزہ ہو گی اتنی مقرب ہو گی.اور روح کی پاکیزگی اعمال و افعال پر منحصر ہے.مقرب وہ نہیں جو خود کو خدا کے قریب محسوس کرے،مقرب تو وہ ہے جسے خود اللّہ اپنے سے قریب کرلے،اللّہ کے قریب ہونا کیا ہوتا ہے جانتے ہو؟”اس کی اپنے وجود پر گڑی نظروں میں جھانک کر انہوں پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا.
“جو شحض مخلوق کے دلوں میں بس جائے خالق اسے خود ہی نظروں میں بسا لیتا ہے،لیکن مخلوق کی نظروں میں سمانا ہی تو آسان نہیں ہے،بڑی جان مارنا پڑتی ہے،اپنا آپ مارنا پڑتا ہے،اس کے بندوں کیلئے،رحمن کو منانا تو آسان ہے،مگر عبدالرحمن کو منانا بڑا ہی مشکل کام ہے.اصل راستہ ہی رحمن تک عبدالرحمن سے ہو کر جاتا ہے.عبادت جنت تک لے جائے گی اور خدمت اللّہ سے ملا دے گی.
تم اپنے دلوں اور زبانوں کو نرم کر لو میرا اللہ تمہیں اپنا دوست بنا لے گا اور دنیا میں ہی جنت کی ہوائیں چلا دے گا

Leave a Comment