اسلامک معلومات اسلامک وظائف

القدوس کے معنی مفہوم اور وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام القدوس : مبارک اورطاھر کےمعنی میں ہے جوکہ ہرقسم کی عیب سے پاک ہو ، اور ایک قول یہ ہے کہ : فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ، اور وہ اللہ سبحانہ وتعالی فضائل اور محاسن کے ساتھ ممدوح ہے ۔اسم القدوس کا مطلب وہ ذات ہے جو ہر قسم کے معائب و نقائص سے مبرا ہو ہر ضرورت و حاج ت سے بری ہو۔ حدیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک قدوس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے

حضور اکرم ﷺ بعد از فراغت و ترسبحان الملک القدوس، سبحان الملک القدوس، سبحان الملک القدوس ربنا ورب الملئکة والروح پڑھا کرتے تھے۔سبوح، قدوس پڑھنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اسم سبحان الملک القدوس کے ورد میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی گئی ہے اس کے ساتھ رب الملئکة والروح کے ارشاد سے یہ حکمت ظاہر ہوتی ہے کہ فرشتوں کو بھی قدسی صفت کہا جاتا ہے جبکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی روح اقدس کہا جاتا ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذات باری تعالیٰ کے تقدس میں یہی معنی نہ لے کہ وہ انسانی تقاضوں سے بالاتر ہے بلکہ یہ یقین و ایمان بھی رکھے کہ اللہ تعالیٰ کا قدوس ہونا نورانی فرشتوں اور روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کی ذات میں جو کمی ہے، ذات قدوس میں اس کا شائبہ تک نہیں۔اسم القدوس کے علمی جائزے میں ہم دیکھتے ہیں کہ تمام ناموں سے پاک ذات ربانی کا یہ اسم مبارک قرآن کریم کے اٹھائیسویں پارے میں ہے فرمایا”وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو بادشاہ اور پاکیزہ ہے“۔اور دوسری جگہ ارشاد ہوا ،:” تسبیح پڑھتے ہیں اللہ کی جو کچھ زمین و آسمان ہے وہ بادشاہ پاکیزہ عزیز ع حکیم ہے۔ذات باری تعالیٰ کے سوا کامل تقدس فرشتوں سمیت کسی کو حاصل نہیں اللہ ہر جگہ موجود ہے اور مقدس ہے۔ اس بات میں جو باریک سی تشکیک اہل علم کے ذہنوں میں اکثر پیدا ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود حاضر و ناظر ہے تو پھر وہ بعض غلیظ اور آلودہ مقامات پر بھی ہو گا اس طرح وہ قدوس و پاکیزہ نہیں رہ سکتا۔

اس سلسلے میںیہ بات ان کے ذہنی شک کے رفع کرنے کے لیے کافی ہو گئی کہ تقدس اللہ تعالیٰ کا ذاتی اور مستقل وصف ہے تقدس اس کی ذات کا عارضی پہلو نہیں جو اس کا ساتھ نہ دے سکے۔یہ بات بھی تمام اہل علم و بصیرت جانتے ہیں کہ دنیا بھر کے سمندروں میں ان شہروں اور ملکوں کی تمام تر غلاظت اور آلودگی بہادی جاتی ہے اس کے باوجود بھی سمندر کا طاہر اور پاکیزہ ہونا تسلیم کیا جاتا ہے اور ان بھی ظاہری اور باطنی گندگی سے خود کو بچائے رکھے گا تو پاک باز انسان کہلائے گا۔ ظاہر گندگی وہ ہے جسے ہم محسوس کرتے اور دیکھ سکتے ہیں جبکہ باطنی گندگی سے نجات کا ذریعہ، نماز، روزہ، زکوة، ذکر و فکر، عمل و حسن خلق وغیرہ ہیں جس کی وجہ سے انسان اعمال حسنہ کرتا ہے اور اسم القدوس کی برکات کا پرتو بن جاتا ہے۔اسم القدوس کے تسلسل میں یہ کہنے کی ضرورت موجود ہے کہ ہم نیک و بد اعمال کو گڈمڈ کرتے رہتے ہیں اور اپنی ذات کو منوانے میں بھی الٹ پلٹ کرتے رہتے ہیں۔ آج کے انسان کی یہ بھونڈی کوشش بھی مسلسل جاری ہے کہ وہ کام برائی کے کرے مگر نیک نام کہلائے حالانکہ نیک نامی کے حصول کے نیک عملی کی بھی ضرورت ہوتی ہے عملی نیکی بھی انسان کے تقدس کا ذریعہ بنتی ہے۔سائنسی علوم سے واقفیت رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ مادے سے بنے انسان کا کامل تقدس ممکن نہیں کیونکہ مادے میں جو کیمیاوی اور طبعی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اس لیے ہماری ذات میں یک رنگی اور یکسانیت کے بجائے ۔

بدرنگی، ٹوٹ پھوٹ گلنا سڑنا ، شکل کی تبدیلی، بدبو، خوشمنائی اور بدنمائی کا عمل جاری رہتا ہے اس لیے تقدس کی نورانی کیفیات پر انسان پورا نہیں اترتا، انسان تو رہا ایک طرف فرشتے اور دیگر اعلیٰ خصوصیات کے روحانی اجسام بھی ان شرائط پر پورے نہیں اترتے، صرف اور صرف اللہ تعالٰ کی ذات والا صفات ہی ہے جو القدوس ہے اور تمام قدوسیت اسی القدوس کی ذات بابرکات کو خاص ہے۔قشیری رحمۃ اللہ نے کہا کہ جس شخص نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نہایت پاک ہے تو اب اس کو چاہئے کہ اس بات کی آرزو کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہر حالت میں عیوب اور آفات سے دور اور گناہوں کی نجاست سے پاک رکھے۔اس اسم یعنی القدوس کے ورد سے انسان میں فرشتوں جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں اس اسم کو زعفران اور عرق گلاب سے لکھ کر پینا دل و نظر میں نور پیدا کرتا ہے اور فسق و فجور سے بچاتا ہے۔جو شخص اسم القدوس کو بعد نماز جمعہ روٹی کے بیس ٹکڑوں پر لکھ کر کھائے اس کے اندر اعلیٰ اوصاف و اخلاق پیدا ہو جائیں گے اسم القدوس کو 170بار پڑھنے سے دل احکامات خداوندی اور حق تعالیٰ کی طرف مائل ہو بکثرت یا قدوس کا ورد کرنے سے دشمن سے نجات پائے۔ جو شخص اس اسم پاک کو ہر روز زوال آفتاب کے وقت پڑھے اس کا دل صاف ہو اور جو شخص نماز جمعہ کے بعد اس اسم و اسم السبوح کے ساتھ (یعنی القدس السبوح) روٹی کے ٹکڑے پر لکھ کر کھائے تو فرشتہ صفت ہو اور بھگدڑ کے وقت دشمنوں سے حفاظت کے وقت اس اسم کو جتنا پڑھا جا سکے پڑھا جائے اور مسافر اس کو برابر پڑھتا رہے اور کبھی ماندہ اور عاجز نہ ہو اور اگر اس کو تین سو انیس بار شیرنی پر پڑھ کر دشمن کو کھلا دے تو وہ مہربان ہو۔*

جوشخص روزانہ زوال کے وقت اس اسمِ مبارک کو کثرت سے پڑھے گا انشاء اللہ تعالی اس کادل روحانی امراض سے پاک رہے گا۔ یعنی حسد، بغض‘ کینہ‘ حرص‘ خود غرضی اور ریا کاری وغیرہ سے محفوظ رہے گا ۔* جوکوئی ہزار (۱۰۰۰) بار اس اسم کو پڑھے گا سب سے بے پرواہ ہوگا (یہاں تک کہ ناجائز شہوت سے بھی ) *جو شخص دشمن سے بچنے کیلئے بھاگتے وقت اس کو کثرت سے پڑھے گاوہ محفوظ رہے گا۔ *جو سفر میں اس کی مداومت کرے گا کبھی نہیں تھکے گا۔ جو اس کوتین سوانیس (۳۱۹) بار شیر ینی پر پڑھ کر دشمن کوکھلا دے تودشمن مہربان ہو جائے گا ۔* جوزوال کے بعد ایک سو ستر (۱۷۰) بار یہ اسم مبارک پڑھے اس کا دل منور ہوگا اور روحانی امراض سے پاک ہوجائے گا ۔* جوکوئی چالیس ( ۴۰) دن تک خلوت میں ایک ہزار ( ۱۰۰۰) بار یہ اسم مبارک پڑھے گا اس کا مقصد حاصل ہوگا اور دنیا میں اس کی قوتِ تاثیر ظاہر ہوجائے گی۔* اگر کوئی اس کورات کے آخر ی حصہ میں ایک ہزار( ۱۰۰۰) بار پڑھے تو بیماری اور بلا اس کے جسم سے دور ہوجاتی ہے ۔ نماز جمعہ کے بعد ایک سو پچاس ( ۱۵۰) بار سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَا ءِکَۃِ وَالرُّوْحُ کہہ کر پھر اس کو ایک روٹی پرلکھ کر جو شخص کھائے وہ تمام آفات سے محفوظ رہے گا اور اسے عبادت کی تو فیق ہوگی ۔ *جو جمعہ کی نماز کے بعد (سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ ) روٹی کے ٹکڑ ے لکھ کر کھا تا رہے فرشتہ صفت ہو جائے گا ۔اس اسم کے ورد سے انسان میں فرشتوں جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں اس اسم کو زعفران اور عرق گلاب سے لکھ کر پینا دل و نظر میں نور پیدا کرتا ہے اور فسق و فجور سے بچاتا ہے۔ باوضو ہو کر اس اسم یا قدوس کا ورد کرنے والا دنیا میں خود کو منفر بنا سکتا ہے اور صفات اعلیٰ سے مالا مال بھی۔

Leave a Comment