قصص الانبیا ء

القابض – تنگی کرنے والا

اللہ سبحانہ و تعالی کے خوبصورت ناموں میں سے ایک نام القابض ہے۔ قابض کا لفظ قبض سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو اکھٹا کر کے سکیڑ لینا۔
اللہ سبحانہ و تعالی القابض ہے یعنی:▪️ تنگی کرنے والا ہے▪️سکیڑ لینے والا ہے
▪️اور مٹھی میں لے لینے والا ہے۔

اسکے مقابلے میں اللہ کی صفت الباسط آتی ہے جس کے معنی ہیں پھیلانے اور وسعت دینے والا۔۔۔۔۔۔۔۔ وَٱللَّهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ☆۔۔۔۔ اور اللہ تنگی کرتا ہے اور وہ کشادگی کرتا ہے اور طرف اسی کی تم لو ٹائے جاؤ گے۔ 《البقرہ 245》
اللہ سبحانہ و تعالی ہی ہر چیز کا مالک ہے۔وہی روکتا ہے وہی دیتا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالی القابض ہے جو:▪️ نیند میں روحوں کو قبض کرتا ہے۔ ▪️ موت کے وقت روحوں کو قبض کرتا ہے۔

▪️رزق اور صحت قبض کرسکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی علم، حکمت اور قدرت کے تحت زندگی میں کسی خیر اور مہربانی کو روکتا ہے اور وہ ظلم نہیں کرتا۔
یہ تنگی بعض اوقات:▪️اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔▪️درجے بلند کرنے کے لیے ہوتی ہے۔▪️ گناہ معاف کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

▪️ امتحان کے لیے ہوتی ہے۔ ▪️بطور سزا ہوتی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالی کا ہر معاملہ خیر و بھلائی اور عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر اللہ سبحانہ و تعالی کسی کر کوئی نعمت روکتا ہے اس کو مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس کوئی کمی ہے۔ وہ ہر حال میں دے سکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے روکنے میں مصلحت ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے پاس بے تحاشا خزانے ہیں لیکن وہ زمین والوں کو محدود دیتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کو معلوم ہے کس فرد یا قوم کو کیا دینا ہے اور کیا روکنا ہے۔

عملی نکات تنگی میں اللہ سبحانہ و تعالی سے بد گمان نہ ہوں۔ تقدیر پر راضی رہیں۔ دوسروں کو دینے والے بنیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں توفیق دیں کہ ہم خرچ کرنے والے بنیں اور کسی بھی تنگ حالات میں صبر کرنے والے بنیں۔ آمین۔

Leave a Comment