اسلامک معلومات

القابض” اور “الباسط” اللہ کے دو خوبصورت ناموں کے مطلب تفصیل کے ساتھ-

القابض کا مطلب ہوتا ہے “تنگی کرنے والا”- تنگی کو ہم دو مطلب میں لے سکتے ہیں-پہلا کہ رزق میں تنگی یا کاروبار میں تنگی-کبھی کبھی ہم بہت کھلا کجھا پی رہے ہوتے ہیں-اور اچھا پہن رہے ہوتے ہیں لیکن پھر حالات ایسے بھی بن جاتے ہیں جب رزق میں کمی ہونے لگتی ہے کاروبار میں گھاٹا ہوتا ہے-یقینا یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے-اللہ مصیبت میں یا تو ہمیں آزمانے کے ڈالتا ہے یا پھر ہمارے برے اعمال کی وجہ سے-

اور دوسرا تنگی کا مطلب ہوتا ہے “دل کا تنگ ہونا”-جب ہم ایک گناہ بار بار کرتے رہیں اور فلاح کی خواہش بھی نا کریں-تو وہ ہمارے دل تنگ کر دیتا ہے-اور ہم پھر ایمان کی روشنی سے محروم رہتے ہیں-وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا اس وقت بھی ہمارے پاس واپس لوٹنے کا راستہ ہمیشہ ہوتا ہے بس ہمت چاہیے ہوتی ہے-

الباسط سے مراد “فراخی کرنے والا” ہے-اس کے بھی ہم دو مطلب نکال سکتے ہیں-پہلا یہی کہ مال و دولت میں فراخی گھر بار میں فراخی-یعنی ہر ضرورت کی چیز میسر ہو ماں باپ بیوی بچے سب خوش ہوں- دوسرا مطلب دل کی فراخی ہوتا ہے-جب اللہ ہمیں نوازتا ہے اور ہم اس میں سے غریبوں مسکینوں کی مدد کرتے ہیں تو یہ اللہ ہی ہے جس نے ہمارے دل فراخ کیے ہوتے ہیں-کیونکہ وہ جس کا دل چاہے تنگ کر دے جس کا چاہے فراخ کر دے-اللہ انہیں لوگوں کے دلوں کو تنگ کرتا ہے جو مستقل طور پر اس کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں جن کی رسی کو بہت لمبا کر دیا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آتے-لیکن اللہ ان کے دل سیاہ نہیں کرتا صرف تنگ کرتا ہے-امید کی کرن ہمیشہ ہی رہتی ہے-

Leave a Comment