اسلامک معلومات

اصحاب کہف کون تھے؟ ان کو قرآن پاک کی عجیب نشانی کیوں کہا گیا؟اور اس واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد کیا ہے؟

اصحاب کہف ایک نوجوانوں کا گروہ تھا-وہ جس قوم میں پیدا ہوئے اس قوم کے بادشاہ کا “دقیانوس” تھا- وہ قوم بت پرستی کرتی تھی یعنی بتوں کو پوجتی تھی-ان نوجوانون کو بت پرستی وغیرہ سمجھ نہیں آئی وہ غور وفکر کرنے لگے-وہ سوچتے تھے کہ بھلا یہ بت آسمان اور زمین کیسے بنا سکتے ہیں-اس طرح غور و  فکر کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی عبادت شروع کی-یہ ایک ایسی قوم تھی جس پر کوئی نبی رسول یا کتاب نازل نہیں کی گئی تھی-ان نوجوانوں کو اللہ تعالی نے ہدایت دی تھی-جب بادشاہ کو پتا چلا کہ یہ بت پرستی کو نہیں مانتے تو بادشاہ نے ان کو اپنے پاس بلایا-

جب وہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوئے تو بادشاہ نے سوال کیا کہ تم اگر بت پرستی کو نہیں مانتے تو کس چیز کو مانتے ہو-اس وقت اللہ نے ان نوجوانوں کے دل مضبوط کر دیے-اور انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کیا کہ وہ صرف اللہ کو مانتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں-یہاں تک کہ انہوں نے بادشاہ کو بھی توحید کی دعوت دے ڈالی-چونکہ وہ نوجوان امیر کبیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے تو بادشاہ نے انہیں مارنے کی بجائے تبیہ کہ ان کے پاس کچھ وقت ہے وہ سوچیں اور پھر بت پرستی میں شامل ہوں ورنہ ان پر ظلم کیا جائے گا- بادشاہ نے ان سے ان کے مہنگے کپڑے جو انہوں نے پہن رکھے تھے وہ بھی اتروا لیے-

کچھ دن سوچنے کے بعد ان نوجواں نے فیصلہ کیا کہ وہ کہیں دور جا کر چھپ جائیں گے-اور پھر وہ لوگ اہک غار میں جا کر چھپ گئے-جس وقت وہ غار میں گئے وہ کافی تھک چکے تھے سو اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی-اللہ نے انہیں 309 سالوں کے لیے سلا دیا تھا-وہ نوجوان 309 سال تک سوتے رہے تھے-اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ وہ اس طرح سو رہے تھے کہ اگر تم ان کو دیکھتے تو لگتا جاگ ہی رہے ہیں تو بعض مفسرین کا کہنا کہ شاید وہ نوجوان کھلی آنکھ سے سو رہے تھے-اور اللہ تعالی نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب تم ان کو دیکھو تو دہشت طاری ہو جاتی تھی اور انسان ان سے دور بھاگ اٹھتا-ایسا اسلیے تھا کیونکہ ان کے بال اور ناخن وغیرہ کافی بڑھ گئے تھے-اور اللہ تعالی ان کو کروٹ بھی بدلواتے رہتے تھے-یہ اس لیے کیا کہ انسان ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا- جب وہ نوجوان نیند سے جاگے تو انہیں یہی لگا کہ شاید وہ ایک ہی دن سوئے ہیں یا اس سے بھی کم-اور پھر جب انہیں بھوک لگی تو انہوں نے اپنے گروہ میں سے ایک آدمی کو ایک چاندی کا سکہ دے کر ایک شہر بھیجا اور اسے ہدایت دی کہ وہ چھپ چھپا کر پاکیزہ کھانا لائے-چھپ چھپا کر جانے کا اسی لیے کہا تھا کیونکہ انہیں لگا تھا کہ دقیانوس ابھی بھی ان کی تلاش میں ہوگا-اور پاکیزہ کھانا لانے کا کہا کیونکہ وہ بت پرست لوگ حرام بھی کھا لیتے تھے-جب وہ آدمی بازار گیا تو سب کی توجہ کا مرکز بن گیا-کیونکہ 309 سال بعد وہاں ظاہر ہے سب کچھ بدل گیا تھا-زبان، پہننے کا طریقہ سب کچھ بل چکا تھا-

جب وہ ایک دکان پر گیا-تو دکان والے کو وہ آدمی بہت عجیب لگا-اس آدمی نے دکان والے سے دقیانوس کا پوچھا اور اسے اپنے ساتھیوں کے نام بھی بتائے- تو دکان والے نے بتایا کہ ان کے بادشاہ کا نام دقیانوس نہیں ہے-اور نا ہی وہ بت پرست ہے بلکہ وہ تو عیسائی ہے-اور ان کی ساری قوم بھی عیسایت پر ایمان رکھتی ہے-آدمی گھبرا کر واپس غار میں بھاگ گیا-اور دکان والا اپنے بادشاہ کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنا ڈالا-اس بادشاہ نے شاید دقیانوس کے بارے میں پڑھ رکھا تھا اور ان نوجوانوں کے بارے میں بھی-کہ کچھ نوجوان چھپ گئے اور کبھی نہیں ملے ان نوجوانوں کے نام بادشاہ کی تاریخی کتابوں میں لکھے گئے تھے-پھر بادشاہ اپنے محافظوں کے ساتھ اس غار میں گیا-جب وہ غار میں پہنچے تو ان سب نوجوانوں کو مردہ پایا-اور ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا-یعنی اللہ تعالی نے ان نوجواں کو پھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلا دیا تھا-

یہ واقعہ قرآن میں اسی لیے بتایا گیا کیونکہ کفار اس بارے استفسار کیا کرتے تھے کہ بھلا اللہ انسان کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا یعنی ایسا کیسے ہو سکتا ہے-اسی لیے اللہ تعالی نے یہ قصہ قرآن میں بیان کیا-

ان نوجوانوں کی تعداد کتنی تھی یہ کسی کو بھی نہیں پتا یہ صرف اللہ تعالی جانتے ہیں اور اللہ نے قرآن میں بھی نہیں بتایا اور ہمیں بھی اس بحث میں پڑنے کی ممعانت کی ہے-

Leave a Comment