اسلامک معلومات

اسلام میں مساوات سے مراد ہے کہ تمام انسان برابر ہیں

اسلام میں مساوات سے مراد ہے کہ تمام انسان برابر ہیں

اسلام میں مساوات سے مراد ہے کہ تمام انسان برابر ہیں

مساوات
مساوات کے معنی ہیں برابر یا ایک جیسا ہونا .اسلام میں مساوات سے مراد ہے. کہ تمام انسان برابر ہیں. تمام انسانوں کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں. قانون کی نظر میں سب برابر ہے. معاشرے کا کوئی شخص اپنے حق سے محروم نہ رہ جائے .ہر شخص کو اس کی محنت کا پورا پورا صلہ ملے .لوگوں کو قابلیت تجربہ اور تعلیم کے مطابق کام اور عہدے سونپے جائیں . معاوضے دئیے جائیں تاکہ ہر شخص اپنی اہلیت کے مطابق کام بھی کرے . حق بھی پائے اللہ تعالی کا ارشاد ہے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا .

 

االلہ تعالی کے نزدیک عزت

تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو .اللہ تعالی کے نزدیک عزت والا وہ ہے .جو زیادہ پرہیزگار ہے بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور سب سے خبردار ہے .اسلام انسانی مساوات کا درس دیتا ہے
خاندان اور قبیلے محسن اختر تعارف کے لئے ہی عزت والا وہ ہے. جو زیادہ پرہیزگار متقی اور زیادہ احکام الہی کی پابندی کرنے والا ہے. تمام اسلامی عبادات اللہ تعالی کی وحدانیت کے ساتھ ساتھ انسانی مساوات کا بھی درس دیتی ہے نماز میں سب لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر انسانی مساوات کا عملی مظاہرہ .کرتے ہیں .حج کے موقع پر تمام مسلمان ایک جیسا لباس پہن کر ایک جیسے اعمال انجام دیتے ہیں .روزہ بھی انسانی مساوات کی ایک شکل ہے
تمام مسلمانوں کو امیر ہو یا غریب ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتے ہیں.

رنگ اور نسل کے لحاظ

اسلام میں مرد عورت امیر غریب گھوڑا کالا اور خوبصورت خوبصورت سب برابر ہے. اسی طرح وطن قوم رنگ اور نسل کے لحاظ سے بھی کسی کو کوئی سید کی برتری حاصل نہیں. عزت و تکریم کا معیار صرف تقویٰ ہے. ایک خاندان کی ایک عورت نے چوری کی جب اس پر جرم ثابت ہو گیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا .

اس کے خاندان والوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے سفارش کروائی. اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطرناک ہوئے. فرمایا کہ تم سے پہلے امتیں اس لیے تباہ ہوگئی . جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اسے معاف کر دیا جاتا تھا . جب کوئی عام آدمی جرم کرتا تو اسے سخت سزا دی جاتی ہے. یاد رکھو اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ہمیں چاہیے . مساوات سے آشنا ہو اپنے ملک و ملت میں اسلام کے سنہری اور دائمی اصولوں کو ان کے حقیقی .معنوں میں نافذ کریں. اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ معاشرے سے بے چینی کا خاتمہ ہوگا . افراد معاشرے کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے اثرات ہوں گے

Leave a Comment