اسلامک معلومات

اسلام میں عقیدہ آخرت کی اہمیت:

اسلام میں عقیدہ آخرت کی اہمیت:

آخرت پر ایمان رکھنا اسلام کی نہایت اہم تعلیم ہے۔قرآن مجید میں اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں متقین کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد ہوا:
ترجمہ: اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اگر آخرت پر ایمان نہ ہو تو انسان خود غرضی اور نفس پرستی میں ڈوب کر تہذیب و شرافت اور عدل و انصاف کے تقاضے کو یکسر بھول جائے .

معاشرے میں جنگل کا قانون رائج ہو جائے.

عقیدہ آخرت انسانی معاشرہ کو انسانیت افروز بنانے کا اہم ذریعہ ہے .کیونکہ اس سے انسان کے دل میں نیکی پر جزا اور بدی پرسزا کا احساس ابھرتا ہے. جو اعمال میں صالحیت پیدا کر دیتا ہے۔وہ شخص آخرت کی زندگی پر ایمان رکھتا ہے اس کی نظر اپنے اعمال کی صرف ان ہی نتائج پر نہیں ہوتی. جو اس زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں. بلکہ وہ ان .نتائج پر بھی نظر رکھتا ہے ۔

جو آخرت کی زندگی میں ظاہر ہوں گے. جس طرح زہرکے بارے میں ہلاک کرنے اور آگ کے بارے میں جلانے کا یقین ہوتا ہے اس طرح گناہوں کی ہلاکت خیز ہونے کا بھی یقین ہوجاتا ہے۔ اور جس طرح وہ غذا اور پانی کو اپنے لیے مفید سمجھتا ہے. اسی طرح نیک اعمال کو بھی اپنے لیے نجات و فلاح کا سبب سمجھتا ہے۔
اسلام میں عقیدہ آخرت  کے انسانی زندگی پر بڑے اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں. جن میں سے چند یہ ہیں:

 

۔ نیکی سے رغبت اور بدی سے نفرت:

جو شخص اسلام میں عقیدہ آخرت  پر یقین رکھتا ہے وہ جانتا ہے .اس کے تمام اعمال ظاہر ہوں یا پوشیدہ اس کے اعمال نامہ میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔ آخرت میں یہی نامہ اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوگا . منصف حقیقی فیصلہ فرمائے گا۔ ان اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ ایک پلڑے میں نیک اعمال اور دوسرے میں برے اعمال ہوں گے۔ اگر نیکی کا پلڑابھاری ہوا تو کامیابی حاصل ہوگی.

جنت میں ٹھکانہ نصیب ہوگا اور اگر برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا تو ناکامی ہوگی اور جہنم کا دردناک عذاب چکھنا ہوگا۔
آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص برائیوں سے نفرت کرنے لگتا ہے کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ان کے نتیجے میں وہ عذاب میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔اسے نیکیوں سے محبت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے نیکی کا اجر ضرور ملے گا۔

۔بہادری اور سرفروشی:

ہمیشہ کے لئے مٹ جانے کا ڈر انسان کو کمزور بنا دیتا ہے .مگر جب دل میں یہ یقین موجود ہوکے اس دنیا کی زندگی چند روزہ ہے۔ پائیدار اور دائمی زندگی آخرت کی ہے تو انسان نڑر ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالی کی راہ میں جان قربان کرنے سے بھی نہیں کتراتا۔ وہ جانتا ہے کہ راہ حق میں جان کا نذرانہ پیش کر دینے سے وہ ہمیشہ کے لئے فنا نہیں ہو جائے گا۔ بلکہ آخرت کی کامیاب اور پر مست زندگی حاصل کرے گا۔

چنانچہ یہ عقیدہ مومن کے دل میں جذبہ سرفروشی پیدا کرکے معاشرے میں عمل اور نیکی کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دیتا ہے۔

۔ صبر و تحمل:

عقیدہ آخرت سے انسان کے دل میں صبر و تحمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے. حق کی خاطر جو بھی تکلیف برداشت کی جائے گی .اس کا اللہ تعالی کے ہاں اجر ملے گا جہاں سے آخر پر نظر رکھتے ہوئے وہ ہر مصیبت کا صبر و تحمل سے مقابلہ کرتا ہے۔
4: مال خرچ کرنے کا جزبہ:
عقیدہ آخرت انسان کے دل میں یہ جذبہ پیدا کرتا ہے. حقیقی زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے .لہذا اسی دولت سے لگاؤ رکھنا چاہیے. جو اس زندگی کو کامیاب بنائے۔ چنانچہ مومن جتنا بھی دولت مند ہو جاتا ہے .اسی قدر زیادہ سخاوت اور فیاضی کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے .اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کی آخرت کی زندگی سنور جائے گی۔

۔ احساس ذمہ داری:

آخر پر ایمان رکھنے سے انسان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اپنے فرائض میں کوتاہی کرنا جرم ہے۔ جس پر آخرت میں سزا ملے گی۔ لہٰذا پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کئے جائیں۔

آہستہ آہستہ یہ احساس اس قدر پختہ ہو جاتا ہے . انسان اپنے ہر فرض پوری دیانت داری سے سر انجام دینے لگتا ہے خواہ اس کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو یا اللہ تعالی کے حقوق سے۔ یہی احساس ذمہ داری مسلمان کا طرہ امتیاز ہے۔

Leave a Comment