قصص الانبیا ء

اسلام میں تعلیم کی اہمیت

اسلام میں تعلیم کی اہمیت

اسلام میں تعلیم کی اہمیت

معنی و مفہوم۔

یہاں ہم تعلیم کے معنی و مفہوم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تعلیم معلومات حاصل کرنے کا ایسا طریقہ ہے جس میں دین اور دنیا  دونوں شامل ہیں۔اسلام میں تعلیم کی اہمیت درج زیل ھے۔

اسلام میں تعلیم کی اہمیت۔

۔آپۤ نے تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں ارشاد میں فرمایا۔
لحد سے محد تک علم حاصل کرو۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا۔
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے”
آپۤ نے اپنے بارے میں فرمایا۔
“میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔”
اسلام میں تعلیم پر بہت زور دیا گیا ہے۔ان تمام باتوں سے علم کی قدرومنزلت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔کہ اسلامی طرز زندگی میں علم کی کس قدر ضرورت ہے۔جس سے کوٴی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا۔تعلیم وقت کی ضرورت ہے اور کامیابی کی پہلی سیڑھی بھی ہے۔معاشرے میں بہتر زندگی گزارنے کے لیے اور منزل مقصود تک پہنچنےکے لیے ضروری ہے ۔

قوموں کی ترقی کا راز۔

۔تعلیم انسان کی زندگی ایسے لمحات لاتی ہے۔تعلیم کے بغیر انسان لنگڑا ہےترقی یافتہ ملکوں کی ترقی میں تعلیم اھم کردار ادا کر رہی ہے۔آپ ترقی یافتہ معاشرے کی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں۔وہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر دیتے ہیں ان کی ترقی کا دارومدار اسی پر ہے۔تعلیم کے ذریعے روزگار کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں اور ثقافتی اقدار کو نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔ہر شخص بہتر طرز زندگی گزارنا چاہتا ہےاور روپیہ وقت کی ضرورت ہے۔

تعلیم کا تمام پہلووں کا احاطہ۔

تعلیم انسانی زندگی کے تمام پہلو کو سامنے رکھتی ہے۔یہ سیاسی،سماجی،معاشی اور مذہبی شعبوں میں رابطے کا ذریعہ ہے۔انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے کا کامیاب کارکن بناتی ہے۔انسان کسی بھی پیشے سے وابستہ ہو تعلیم اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اور مقصد تک پہنچنے میں رستہ ہموار کرتی ہے انسان اپنی منزل کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔مستقبل کے لیے لاحہٴ عمل تیار کرتی ہے۔اور ترقی کے مواقع مہیا کرتی ہے۔

تعلیمی مقصد میں اغراض و مقاصد کا تعین۔

جدید دور میں ترقی کے لیے تعلیمی مقصد حاصل کرنے ک لیے اغراض و مقاصد کا تعین ضروری ہے۔ بچوں کو تعلیم دیتے ہوے کچھ اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ان کی ذہنی سطح کو پرکھا جاتا ہےاور تعلیمی عمل کی شروعات کی جاتی ہے۔تعلیمی عمل میں سلیبس کا تعین کیا جاتا ہے۔ہر قسم کے فرق سے بالاتر ہو کر بہتر نتاءج حاصل ہوں گے۔بچے کو سکھانے کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضوں سے آگہی بھی ہو۔انسان کے سیکھنے کا امل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔اگر سیکھنے کے عمل میں سوچ مثبت ہو تو ان مقاصد میں کامیابی ایک یقینی عمل ہے۔انسان مزید سے مزید تر کی تلاش میں رہتا ہے۔اور ترقی کی منازل طے ہوتی جاتی ہیں۔ کسی بھی چیز کو پرکھنے کے لے ساٴنسی طریقہ کار وضع کیا جاتا ہے۔تجربات کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد فیصلہ ہوتا ہے کہ تعلیمی عمل بےکار تو نہیں۔

حاصل کلام۔

تعلیمی عمل دینی اور دنیاوی پہلووں کا جاٴزہ لیتا ہے۔اگر زندگی میں سیکھنے کا عمل رک جاے تو زندگی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔اور انسان کسی بھی شعبے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

Leave a Comment