اسلامک معلومات

اخلاص نیت

اخلاص نیت

اخلاص نیت

اخلاص نیت : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
“سارے عمل نیت سے ہیں”
(مسلم و بخاری)
تشریح:
یعنی اعمال اچھی نیت سے اچھے اور بری نیت سے برے ہوجاتے ہیں۔ جن کاموں سے شریعت نے روک دیا ہے ۔ ان کو تو کسی بھی نیت سے کیا جائے وہ غلط اور ممنوع ہی رہیں گے ۔ البتہ جن کام کرنے میں مسلمانوں پر کوئی ممانعت نہیں ہے۔  یا جن کاموں کےکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔  ان میں اگر نیت خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی ہوگی تو اس اچھی نیت سے کام اچھا ہوجائے گا۔  اور اگر اس کام کے کرنے میں لوگوں کو دکھانا،اپنی نیکی جتلانا پیش نظر ہو گا تو اس نمائش اور ریاکاری کی وجہ سے یہ عمل براہو جائے گا۔

مثلا ایک شخص اپنی نماز اس لیے خوب لمبی پڑتا ہے کہ دیکھنے والے اسے نیک اور بزرگ سمجھیں تو اس کی یہ نمازریاکاری کی وجہ سے بری ہوجائے گی اور بجائے ثواب کے عذاب کا سبب ہو جائے گی۔ اور اگر اللہ تعالی کو خوش کرنے کے لئے پڑھتا ہے اس کو ثواب ملے گا۔ اسی طرح ایک شخص خوشبو اس لیے لگاتا ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے والوں کو اس کے پسینے وغیرہ کی بدبو سے تکلیف نہ ہو تو اس کی اچھی نیت سے یہ خوشبو لگانے کا عمل اچھا ہو جائے گا اور اس پر ثواب ملے گا ۔اور اگر خوشبو کا استعمال محض اپنی مالداری اور امیری دکھانے کے لئے ہو تو آخرت کے لحاظ سے یہ عمل اس کے لیے برا ہوگا اور اس نمائش کی سزا بھگتنی پڑے گی۔

حا صل حدیث

حاصل حدیث شریف کا یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اپنا عمل خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کے لیے کرنا چاہئے۔ لوگوں کو دکھانے اور ان کے سامنے جتانے سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی کے ہاں انسانی عمل کی قدردانی اس کے اخلاص کی وجہ سے ہوگی۔ جس کا جتنا اخلاص ہوگا اتنا ہی وہ لوگوں میں مقبول ہوگا۔

Leave a Comment