اسلامک معلومات

احسان کرنا بخشش کا ذریعہ

احسان کرنا بخشش کا ذریعہ

احسان کرنا بخشش کا ذریعہ

احسان کرنا بخشش کا ذریعہ : احسان کے لفظی معانی حسن کے ہیں۔اگر ہم اس کے لغوی معانی کو دیکھیں تو احسان سے مراد کسی پر مہربانی کرنا یا کسی بھی غرض کے بغیر دوسرے کی مدد کرنا۔جب ہم احسان کرتے ہیں تو اس کے بدلے کا نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں بھی کچھ ملے گا۔ہم احسان اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔تاکہ اللہ تعالی ہم سے راضی ہو جائے۔احسان کرنے کا تعلق امیر اور غریب سے نہیں ہوتا۔انسان اگر واقعی میں کسی کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے اسباب بھی بنا دیتے ہیں۔

حدیث کے مطابق احسان:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد:احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھ رہا تو (یہ یقین پیدا کر لے) وہ تجھے دیکھ رہا ہے” ہماری عبادت بہت خالص نہیں ہوتیں۔ہم جب نماز پڑھتے ہیں تو سو طرح کی سوچیں ہمارے زہن میں گھوم رہیں ہوتی ہیں۔ہم نماز پر توجہ نہیں دے پاتے۔تو نماز پڑھتے وقت یا کوئی بھی عبادت کرتے وقت یہ بات زہن میں رکھیں کہ اللہ تعالی آپ کو دیکھ رہے ہیں-

قرآن مجید کے مطابق احسان:
قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔  پھر پرہیز کرتے رہے اور ایمان لائے پھر صاحبان تقوی ہوئے۔  (بالآخر) صاحبان احسان بن گئے۔اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ” احسان کا جذبہ پرہیزگاری اور تقوی اختیار کرنے سے آتا ہے-سب سے پہلے تقوی اختیار کریں۔تقوی کرنے والا بھی اللہ کو بہت پسند ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہہ کا قول:
“جو کوئی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا ہے، لوگ اس کی سرداری کے شکرگزار بن جاتے ہیں اور جو ان کے ساتھ نیکی کرتا ہے، سب کی عادت کے ثناخواں رہتے ہیں”

Leave a Comment