اسلامک واقعات

اتفاق میں برکت ہے

ايک بڑے مياں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کمايا بنايا تھا۔ آخر بيمار ہوئے، مرض الموت میں گرفتار ہوئے۔ ان کو اور تو کچھ نہیں، کوئی فکر تھی تو يہ کہ ان کے پانچوں بيٹوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ لڑتے رہتے تھے کبھی کسی بات پر اتفاق نہ ہوتا تھا حالانکہ اتفاق میں بڑی برکت ہے۔آخر انہوں نے بيٹوں پر اتحاد و اتفاق کی کے لئے ايک ترکيب سوچی۔

اپنے پا س بلايا اور کہا۔ ديکھو اب میں کوئی دم کا مہمان ہوں سب جا کر ايک ايک لکڑی لاؤ۔ايک نے کہا۔ لکڑی؟ آپ لکڑيوں کا کيا کريں گے؟ دوسرے نے آہستہ سے کہا۔ بڑے مياں کا دماغ خراب ہو رہا ہے۔ لکڑی نہیں شايد ککڑی کہہ رہے ہیں، ککڑی کھانے کو جی چاہتا ہوگا۔ تيسرے نے کہا نہیں کچھ سردی ہے شايد آگ جلانے کو لکڑياں منگاتے ہوں گے۔ چوتھے نے کہا بابو جی کوئلے لائيں؟ پانچويں نے کہا نہیں اپلے لاتا ہوں وہ زيادہ اچھے رہيں گے۔باپ نے کراہتے ہوئے کہا ارے نالائقو! میں جو کہتا ہوں وہ کرو۔ کہیں سے لکڑياں لاؤ جنگل سے۔ ايک بيٹے نے کہا۔ يہ بھی اچھی رہی، جنگل يہاں کہاں؟ اور محکمہ جنگلات والے لکڑی کہاں کاٹنے ديتے ہيں۔دوسرے نے کہا آپنے آپ میں نہیں ہيں بابو جی۔ بک رہے ہيں جنون میں کيا کيا کچھ۔ تيسرے نے کہا بھئی لکڑيوں والی بات اپُن کی تو سمجھ میں نہیں آئی۔چوتھے نے کہا۔ بڑے مياں نے عمر بھر میں ايک ہی تو خواہش کی ہے اسے پورا کرنے میں کيا حرج ہے؟ پانچويں نے کہا اچھا میں جاتا ہوں ٹال پر سے لکڑياں لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ٹال پرگيا، ٹال والے سے کہا: خان صاحب ذرا پانچ لکڑياں تو دينا اچھی مضبوط ہوں۔ٹال والے نے لکڑياں ديں۔

ہر ايک خاصی موٹی اور مضبوط۔ باپ نے ديکھا اس کا دل بیٹھ گيا۔ يہ بتانا بھی خلاف مصلحت تھا کہ لکڑياں کيوں منگائی ہيں اور اس سے کيا اخلاقی نتيجہ نکالنا مقصود ہے۔ آخر بيٹوں سے کہا۔ اب ان لکڑيوں کا گھٹا باندھ دو۔اب بيٹوں میں پھر چہ ميگوئياں ہوئيں،گٹھا، وہ کيوں؟ اب رسی کہاں سے لائیں بھئی بہت تنگ کيا اس بڈھے نے۔ آخر ايک نے اپنے پاجامے ميں سے ازار بند نکالا اور گھٹا باندھا۔بڑے مياں نے کہا۔ اب اس گھٹے کو توڑو۔ بيٹوں نے کہا۔ تو بھئی يہ بھی اچھی رہی۔ کيسے توڑيں؟ کلہاڑا کہاں سے لائيں ؟باپ نے کہا کلہاڑي سے نہیں۔ ہاتھوں سے توڑو گھٹنے سے توڑو۔حکم والد مرگ مفاجات۔ پہلے ايک نے کوشش کی۔ پھر دوسرے نے پھر تيسرے نے پھر چوتھے نے پھر پانچويں نے۔ لکڑيوں کا بال بيکا نہ ہوا۔ سب نے کہا بابو جی ہم سے نہیں ٹوٹتا يہ لکڑيوں کا گھٹا۔باپ نے کہا اچھا اب ان لکڑيوں کو الگ الگ کر دو ، ان کی رسی کھول دو۔ ايک نے جل کر کہا رسی کہاں ہے ميرا ازار بند ہے اگر آپ کو کھلوانا تھا تو گھٹا بندھوايا ہی کيوں تھا۔ لاؤ بھئی کوئی پنسل دينا ازار بند ڈال لوں پاجامے میں۔ باپ نے بزرگانہ شفقت سے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا

اچھا اب ان لکڑيوں کو توڑو ايک ايک کر کے توڑو۔لکڑياں چونکہ موٹی موٹی اور مضبوط تھيں۔ بہت کوشش کی کسی سے نہ ٹوٹيں آخر میں بڑے بھائی کی باری تھی۔ اس نے ايک لکڑی پر گھٹنے کا پورا زور ڈالا اور تڑاخ کی آواز آئی۔باپ نے نصیحت کرنے کے لئے آنکھیں ايک دم کھول ديں، کيا دیکھتا ہے کہ بڑا بيٹا بے ہوش پڑا ہے۔ لکڑی سلامت پڑی ہے۔ آواز بیٹے کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹنے کی تھی۔ايک لڑکے نے کہا:يہ بڈھا بہت جاہل ہے۔دوسرے نے کہا:اڑيل ضدی۔ تيسرے نے کہا: کھوسٹ ، سنکی عقل سے پيدل، گھا مڑ۔چوتھے نے کہا: سارے بڈھے ايسے ہی ہوتے ہيں کمبخت مرتا بھی نہیں۔بڈھے نے اطمينان کا سانس ليا کہ بيٹوں ميں کم از کم ايک بات پر تو اتفاق رائے ہوا۔ اس کے بعد آنکھیں بند کيں اور نہايت سکون سے جان دے دی۔

Leave a Comment