اسلامک وظائف

آندھی اور سخت اندھیرے کے وقت گھبراہٹ سے بچنے کی دعا

قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النِّاسِ عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا-ہم حجفہ اور ابواء کے درمیان تھے کہ آندھی آئی اور سخت اندھیرا چھا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دعا مانگنے لگے اور فرمانے لگے کہ اے عقبہ!ان کے ذریعے(دعا) اللہ سے پناہ مانگا کرو-

کسی پناہ مانگنے والے نے ان سے بڑھ کر افضل کلمات سے پناہ نہیں مانگی (سنن ابی داود:1463) -اس سے ہمیں پتا چلتا ہے اگر بہت زیادہ آندھی طوفان آئے یا بہت گہرا اندھیرا چھا جائے تو یہ کلمات ادا کیے جائیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کو پناہ مانگنے کے لیے افضل کہا ہے-کچھ لوگوں کو اندھیروں سے ڈر لگتا کچھ لوگوں کو اس چیز کا فوبیا بھی ہوتا ہے تو ان کو چاہئے اندھیرے میں یہ دعا پڑھیں-ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمھیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نا بتاوں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں؟میں نے عرض کیا:کیوں نہیں-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دو سورتیں-(مسند احمد:17297)-

جب ہم یہ دو سورتیں پڑھتے ہیں تو ہم اللہ کی پناہ مانگ رہے ہوتے ہیں-اور اللہ کی پناہ سے بہتر کوئی پناہ ہو سکتی ہے بھلاں-ہم یہ سورتیں صرف اندھی اور اندھیرے کے لیے نہیں بلکہ اور بھی مسائل کے لیے پڑھ سکتے ہیں-دل میں وسوسہ ہو تو سورہ الناس پڑھیں-اگر کسی حاسد کو ڈر ہو تو سورہ الفلق پڑھیں-نیز یہ دو سورتیں ہمیں بہت سی برائیوں سے بچا سکتیں ہے-اگر ہم اللہ کی پناہ میں آجائیں تو کوئی چیز ہم پر اثر نہیں کرے گی-یہاں تک کہ جو کالے جادو کیے جاتے ہیں وہ بھی تب تک اثر نہیں کرتے جب تک اللہ کی مرضی شامل نا ہو-اللہ تعالی اگر ہمیں کسی آزمائش میں ڈالتے ہیں تو اس آزمائش سے نکلنے کے طریقے بھی بتائے ہیں-حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر مشکل سے نکلنے کے نا صرف طریقے بتائے ہیں بلکہ ہمیں دعائیں بھی سکھائیں ہیں جو صرف ایک موقع پر ہی نہیں کتنے ہی مواقع پر کام آسکتی ہیں -ہر مشکل کے ساتھ آسانی اسی لیے کہا گیا ہے کیونکہ جب بھی اللہ تعالی مشکل میں ڈالتے ہیں تو ہمارے لیے کئی راستے بھی کھولے ہوتے ہیں- اللہ تعالی ہمیں نا آزمائش میں تنہا چھوڑتے ہیں نا ہی کسی مشکل میں-

Leave a Comment