اسلامک معلومات

آئیے آسان نیکیاں کمائیں

آئیےآسان نیکیاں کمائیں
1…اچھی نیت

اچھی نیت کی صورت میںآئیے آسان نیکیاں کمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو وہ نسخہ کیمیاء عطاء فرمایا ہے جس کے ذریعے ہر مسلمان ذرا سی توجہ سے مٹی کو بھی سونا کر سکتا ہے۔
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
(📚صحیح بخاری )

گناہ بھی ثواب

بصض لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اچھی نیت سے غلط کام بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اور گناہ بھی ثواب بن جاتا ہے۔ یہ بات تو قطعی غلط ہے۔
گناہ ہر حالت میں گناہ ہے۔کتنی ہی اچھی نیت کی جائے وہ جائز نہیں ہو سکتا۔ مثلاً کوئی شخص کسی کے گھر اس نیت سے چوری کرے کہ جو مال حاصل ھو گا وہ صدقہ کروں گا تو اس کی نیت کی وجہ سے چوری کا گناہ معاف نہیں ہوگا۔

شیطانی خواہشات اور لذت

اسی طرح مرد یا عورت غیر محرم کو غلط نظر سے دیکھے دل میں شیطانی خواہشات اور لذت پیدا ھو اور پھر وہ یہ کہے کہ میں بس اللہ کی قدرت ہی تو دیکھ رہا/رہی ھوں نیّت میری صاف ھے تو اسکو دیکھنے میں کیا حرج ھے؟؟ یہ سب ناجائز اور حرام ھے کیونکہ بدنگاہی کے پیچھے لذت و شھوت موجود ھے پھر نیّت کیسے صاف ھوئی ؟ اور دوسری بات کہ بغیر شرعی ضرورت کے بھی دیکھا تو جا رہا ھے۰
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مذکورہ ارشاد کا مطلب ہے کہ۔
کسی بھی نیک کام پر اس وقت تک ثواب نہیں ملتا جب تک صحیح نیت کے ساتھ نہ کیا جائے۔
مثلاً نماز کا ثواب اس وقت ملے گا جب وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے پڑھی جائے۔ اگر دکھاوے ریاکاری کے لیے پڑھی تو ثواب غارت ہو جائے گا الٹا گناہ ھو گا۔

کام مباح یا جائز

اور دوسرا مطلب یہ ہے اور یہی اس وقت بیان کرنا مقصود ہے کہ *جتنے کام مباح یا جائز ہیں ان کا اصل حکم تو یہ ہے کہ ان پر نہ تو ثواب ہوتا ہے نہ عذاب۔ لیکن اگر وہ جائز کام کسی اچھی نیت سے کیے جائیں تو وہ عبادت بن جاتے ہیں اور ان پر نیکیاں کمانے کا ثواب ملتا ہے۔
مثلاً کھانا کھانا مباحات میں سے ہے لیکن اگر کوئی کھانا اس نیت سے کھائے کہ اس کے ذریعے میرے جسم کو قوت حاصل ہوگی تو اس قوت کو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کر دوں گا۔ تو یہ کھانا بھی باعثِ اجر وثواب ہوگا۔

اس نیت سے کھانا کھائے کہ اللہ نے میرے بدن کا بھی مجھ پر حق رکھا ہے، اس کی ادائیگی کے لیے کھانا کھاتا ہوں یا اس نیت سے کھائے کہ اس سے راحت و سکون ملے گا تو دل سے اللہ کا شکر ادا کروں گا تو ان نیتوں کے ساتھ نیکیاں کمانے کا بھی ثواب ھو گا۔

غرض زندگی کا کوئی مباح کام ایسا نہیں ہے جس کو اچھی نیت کر کے عبادت اور مؤجب ثواب نہ بنایا جا سکے۔اچھی نیت کی چند مثالیں جن سے ہم روزمرہ کے کاموں کو ثواب بنا سکتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں۔

1) مرد حضرات کا روزی کمانا

خواہ تجارت کی شکل میں ہو یا ملازمت، زراعت اور صنعت کی شکل میں اس میں انسان اگر یہ نیت کرے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذمے جو اپنے بدن اور میرے گھر والوں کے حقوق عائد کیے ہیں. یہ کمائی اس لیے کر رہا ہوں کہ حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کر سکوں. تو حلال روزی کمانے کی یہ ساری کاروائی عبادت وثواب بن جائے گی۔

2)تعلیم

اگر کوئی شخص ابھی تعلیم حاصل کر رہا ہے . وہ نیت کر لے کہ میں اس علم کے ذریعے خدمتِ خلق کروں گا. مثلاً کوئی علم دین حاصل کر رہا ہے تو مخلوق کو دین پہنچانے کی نیت کر لے۔ میڈیکل سائنس کا سٹوڈنٹ ہے. تو یہ نیت کر لے کہ ڈاکٹری کے ذریعے میں مریضوں کی خدمت کروں گا۔ انجینئرنگ کا سٹوڈنٹ ہے تو یہ نیت کر لے کہ میں اس فن سے ملک وقوم کی خدمت کروں گا .کوئی اور ہنر سیکھ رہا ہے تو اس غرض سے سیکھے.

کہ جو لوگ اس ہنر کے ضرورت مند ہوں گے .ان کی حاجت پوری کروں گا تو ان شاءاللہ جتنا وقت وہ تعلیم حاصل کرنے میں گزارے گا اس کو اس نیت کا ثواب ملتا جائے گا۔

3) لباس

شریعت کے حکم کے مطابق اسی طرح اچھا لباس پہنا جائے .کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو نعمت عطا کی ہے اس کا اثر نظر آئے۔
(نہ یہ کہ مجھے بڑا یا دولت مند سمجھیں۔)

4) گھر کے کام

گھر کا کام اس نیت سے کیا جائے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لاتے تھے. تو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔اور عورت خدمت خلق کے نیّت سے گھر کے کام کاج کرے چاہے کوئی اسکی تعریف کرے یا نہ کرے یہ بہت بڑے اجر کی بات ھے۔اور نیکیاں کمانے

5) شوہر کا بیوی اور بیوی کا شوہر اور بچوں سے خوش طبعی

بیوی بچوں سے خوش طبعی کی باتیں اس نیت سے کی جائیں .کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے. اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔

6) مہمان نوازی

مہمانوں کی خاطر مدارت اس نیت سے کی جائے کہ مہمان کا اکرام سنت ہے . انسانوں کے حقوق میں سے ایک ہے۔

7) زینب وزینت

عورت جائز زیب وزینت اس نیت سے کرے کہ شوہر کو خوشی ہوگی، مرد اس نیت سے صاف ستھرا رہے کہ نیکیاں کمانےاور بیوی کو راحت ومسرت ملے گی۔
ہوگا۔

8) گھڑی

 

گھڑی اس نیت سے رکھے کہ اس سے نماز کے اوقات معلوم کرنے میں آسانی ھو گی اور وقت کی قدر وقیمت پہچان کر وقت کو اچھے کاموں میں صرف کروں گا۔

غرض یہ تو چند متفرق اور سرسری مثالیں ہیں۔ ورنہ جیسا کہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے احیاء علوم میں بجا طور پر فرمایا: ا

نسان کی زندگی کا کوئی جائز کام ایسا نہیں جسے کوئی نہ کوئی اچھی نیت کر کے ثواب کا کام نہ بنایا جا سکے۔ا
یہاں تک کہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے سے اگر اس نیت سے لذت حاصل کریں کہ ایک دوسرے کا حق ادا کر رہے ہیں اور اس سے ایک دوسرے کو عفت و پاکدامنی حاصل ہوگی تو اس عمل پر بھی ثواب لکھا جاتا ہے۔

Leave a Comment